اظہار رائے کی آزادی

0

ہندوستان میں اظہار رائے کی آزادی گزشتہ کچھ عرصہ سے تنازع کے گھیرے میںہے۔ خاص کر حکومت اور حکمرانوں کے خلاف ایسی رائے جس میںتنقید بھی شامل ہو نہ صرف درخوراعتنا نہیں ہوتی ہے بلکہ تنقید کرنے والوں کو غداری اور بغاوت جیسے سنگین الزامات میں ماخوذ کردیا جاتا ہے۔ حالانکہ عدالتوں نے بارہا اس جانب توجہ دلائی ہے۔ کبھی کسی مقدمہ کی سماعت کے دوران تو کبھی کسی کانفرنس اور ورک شاپ میں اعلیٰ عدالتوں کے جج حضرات نے برملا اعلان کیا ہے کہ انتظامیہ، عدلیہ، بیوروکریسی وغیرہ پر تنقید کو غداری سے تعبیر نہیںکیاجاسکتا ہے۔ ہر ہندوستانی کو بحیثیت شہری حکومت پررائے زنی اور تنقید کا حق ہے اور ایسی رائے زنی و تنقید غداری نہیں ہوسکتی ہے۔ لیکن ان سب کے باوجود عدالتوں میں ایسے مقدمات لائے جاتے ہیں جن میںکسی فرد کی رائے کو قابل مواخذہ قرار دے کر اس کیلئے سزاکا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ اسی نوعیت کا ایک اور مقدمہ آج عدالت عظمیٰ نے فیصل کرتے ہوئے کہا ہے کہ اظہار رائے کی آزادی پر اضافی پابندیاں نہیں لگائی جاسکتی ہیں اور نہ کسی منتخب عوامی نمائندہ کے بیان کیلئے حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا جاسکتا ہے۔
عدالت عظمیٰ کی آئینی بنچ کا یہ فیصلہ ایک ایسے شخص کی درخواست کی بنیاد پرآیا ہے،جس کی بیوی اور بیٹی کی جولائی 2016 میں بلند شہر کے قریب ایک قومی شاہراہ پر اجتماعی عصمت دری کی گئی تھی۔ درخواست گزار نے مطالبہ کیا تھا کہ اس کا کیس دہلی منتقل کیا جائے اور اتر پردیش کے اس وقت کے کابینہ وزیر اعظم خان کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ اعظم خان نے اجتماعی عصمت دری کے بعد ایک متنازع بیان میں کہا تھا کہ یہ ایک سیاسی سازش ہے۔اس وقت عدالت نے اعظم خان سے کہا تھا کہ وہ اس معاملے پر غیر مشروط معافی مانگیں۔ اس کیس کی سماعت کے دوران کچھ بڑے سوالات اٹھائے گئے تھے اوراسے آئینی بنچ کے سپرد کردگیا تھا۔
عدالت نے کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 19(2)کے تحت مقرر کردہ پابندیوں کے علاوہ عوامی نمائندوں کے اظہار رائے کی آزادی پر کوئی دوسری پابندی نہیں لگائی جا سکتی ہے اور نہ وزیر کے کسی بیان کیلئے حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتاہے۔تاہم اس فیصلہ میں آئینی بنچ بھی اختلاف رائے کی شکار رہی ہے۔ 4ججوں کی اس آئینی بنچ کے تین جج جسٹس بی آر گوائی،جسٹس اے ایس بوپنا، جسٹس وی راما سبرامنیم نے کہا کہ آرٹیکل 19 (1) (اے) کے تحت بنیادی حق ریاست کے علاوہ دیگر اداروں کے خلاف استعمال کیا جاسکتا ہے۔ لیکن خاتون جج جسٹس بی وی ناگارتنا نے اس بات سے اتفاق کیا کہ آرٹیکل 19 کے تحت تقریر کی آزادی پر حد سے زیادہ پابندی نہیں لگائی جاسکتی لیکن انہوں نے مزید کہا کہ اگر کوئی وزیر اپنی سرکاری حیثیت میں ہتک آمیز بیان دیتا ہے تو حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ اپنے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر وزرا کا کوئی معمولی تبصرہ ہے اور وہ حکومت کے موقف کے مطابق نہیں ہے تو اسے ذاتی بیان تصور کیا جائے گا۔
منقسم ہونے کے باوجود عدالت کا یہ فیصلہ اظہاررائے کے بنیادی حق پر مہر تصدیق ہے اوراس کے خلاف آئین میں تجویز پابندیوں کے علاوہ ہر طرح کی گرفت کورد کرتا ہے۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ تنقید، اختلاف اور اپنی رائے کا بے لاگ اظہار جمہوریت کی روح ہے۔ اسی بنیادی حق سے ہی دوسرے حقوق کی شاخیں نکلتی ہیں۔ عوام پر عوام کے ذریعہ عوام کی حکمرانی کی صحیح اور درست تعبیر بھی اسی کی گود میں پروان چڑھتی ہے، جمہوریت مضبوط اور مستحکم ہوتی ہے۔ اظہار رائے کی آزادی سے ہی سماجی، سیاسی اور معاشی مسائل پر رائے عامہ تیار ہوتی ہے۔ جمہوریت اور آزادیٔ اظہار ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ جب ان میں سے کوئی ایک متاثر ہوتا ہے تو دوسرا خود بخود معدوم ہونے کے دہانے پر پہنچ جاتا ہے جس سے آمریت کے قیام کو فروغ ملتا ہے۔تاہم مضبوط اور مستحکم جمہوریت کیلئے آزادیٔ اظہار کے ساتھ اس کی حدود کا تعین بھی ضروری ہے اور یہ تعین ہمارے آئین سازوں نے آئین بناتے ہوئے ہی کردیا تھا۔ آئین کے آرٹیکل 19(2)میں کھلے الفاظ میں وضاحت کی گئی ہے کہ اظہار رائے کی آزادی کن صورتوں میں سلب کی جاسکتی ہے۔امن عامہ، ملکی اتحاد، سالمیت اور خودمختاری کو خطرہ، خارجہ تعلقات پر منفی اثر اور توہین عدالت کا سبب بننے والے بیانات کے علاوہ دوسری کوئی صورت ایسی نہیں ہے جس پر اظہار رائے کو زنجیر ڈالی جاسکے۔اظہار رائے پر عائدان محدود عقلی پابندیوں کے علاوہ مزید کے مطالبے اور دعوے کو جمہوریت کے خلاف سازش کے علاوہ کوئی دوسرا نام نہیںدیاجاسکتا ہے۔ یہ سازش چاہے فرد کرے یا حکومت، عدالت نے اپنے فیصلہ سے آج اس کا راستہ ہی بند کردیا ہے۔
[email protected]