ریموٹ ووٹنگ مشین الیکشن کمیشن کا قابل تعریف قدم

0

ایم اے کنول جعفری

ملک کے آئین میں ہر شہری کو انتخابات میں رائے دہی کا حق حاصل ہے،لیکن اس کی کامیابی کا دارومدار اس بات پر ہے کہ ہر ووٹر اپنے ووٹ کا آزادانہ طور پر استعمال کرسکے۔ تعلیم، نوکری، روزگار، کاروبار اور مزدوری وغیرہ کے سلسلے میں بڑی تعداد میں لوگ اپنے آبائی صوبے کو چھوڑ کر دوسری ریاستوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ان میں سے بہت کم افراد الیکشن کے دوران انتخابات میں حصہ لینے کے لیے گھر آتے ہیں،لیکن کثیر تعداد میں لوگ اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرنے سے محروم رہتے ہیں۔ گزشتہ عام الیکشن میں تقریباً30کروڑ اشخاص کا اپنے ووٹ کا استعمال نہیں کرنا اس کا ثبوت ہے۔ ایسا ہر ا لیکشن میں ہوتا ہے،اس لیے اس کا حل نکالنا ناگزیر تھا۔اسی کے مدنظر چیف الیکشن کمیشن نے اپنے گھر سے دُور رہنے والے تارکین وطن کو ریموٹ الیکٹرانک ووٹنگ مشین(آروی ایم)کے ذریعہ ووٹ ڈالنے کی سہولت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ای سی کے اس قدم کی اس لیے تعریف کی جانی چاہیے کہ اس سے باہر رہنے والا کوئی بھی شخص اپنی رائے دہی کے حق سے محروم رہ نہیں سکے گا۔اس سے یقینی طور پر ووٹنگ فیصد بھی بڑھے گا۔ مقامی رائے دہندگان تو کسی نہ کسی شکل میں اپنے حق کا استعمال کرتے ہوئے ووٹ ڈالتے رہے ہیں،لیکن روزگار، نوکری اور مزدوری کے سلسلے میں رہائشی مقام سے دُور رہنے والے تارکین وطن کو رائے دہی کے استعمال کے لیے گھر آئے بغیر چارہ نہیں تھا۔ جو تارکین وطن گھر نہیں آپاتے تھے، انہیں اپنے حق رائے دہی سے محروم رہنے پر مجبور ہونا پڑتا تھا۔ان لوگوں کی سہولت کے مدنظر الیکشن کمیشن نے آروی ایم کے استعمال کی پہل کا ارادہ کیا ہے۔دوسری جانب کانگریس کے جے رام رمیش نے کہا کہ پہلے سے تنازع کا شکار رہی ’ای وی ایم‘ کے بعد ’آر وی ایم‘ کے غلط استعمال کے خوف کی وجہ سے لوگوں کا یقین متاثر ہوگا۔
دراصل2014کے عام انتخابات میں66.4فیصد اور 2019کے عام انتخابات میں 67.4 فیصد لوگوں نے اپنے ووٹ کا استعمال کیا تھا۔ مطلب سیدھاہے کہ ایک اَرب سے اُوپر آبادی والے دنیا کے دوسرے بڑے ملک میں 30 کروڑ سے زیادہ ووٹروں نے اپنے رائے دہی کے حق کا استعمال نہیں کیا۔یہ ووٹ فیصد الیکشن کمیشن اور حکومت کی منشا کے مطابق نہیں تھا۔گھروں پر رہنے والے بھلے ہی کچھ شہری ووٹ ڈالنے میں دلچسپی نہ رکھتے ہوں،لیکن باہر رہنے والے ہر ایک فرد کا ووٹ پڑنے کے مدنظر اس فارمولے کو پیش کیا گیا ہے۔ اَب الیکشن کے دوران ووٹ ڈالنے کے لیے کام کاج چھوڑ کر رہائشی صوبے میں آنے کی ضرورت نہیں ہے۔ جوشخص جس جگہ ہے،اُسی جگہ سے ووٹ ڈال سکے گا۔الیکشن کمیشن کے ذریعہ دی جانے والی اس سہولت کا فائدہ اٹھانے کے لیے تارکین وطن ووٹر کو وقت معینہ میں اپنی اسمبلی رجسٹریشن کرانا ہوگی۔اس کی جانچ کے بعد ریموٹ ووٹنگ کی اجازت ملے گی۔ الیکشن کے روزریموٹ ووٹنگ اسپاٹ پر پہنچنا لازمی ہے۔بوتھ پر ووٹر کے انتخابی حلقے کا کارڈ اسکین کرتے ہی حلقے سے متعلق معلومات بڑی اسکرین پرنظر آئے گی۔ ریموٹ بیلٹ یونٹ پر امیدوار کے سامنے کا بٹن دباتے ہی صوبائی کوڈ، انتخابی حلقہ اور امیدوار کوڈ کے ساتھ ووٹ درج ہو جائے گا۔اس میں وی وی پی ای ٹی کی طرز پر سلپ بھی نکلے گی۔ اس پر امیدوار کا نام، نشان اور ترتیب نمبر درج ہوگا۔ ایک اندازے کے مطابق تقریباً 45کروڑ اشخاص ایسے ہیں،جو روزی روٹی کے لیے اپنا گھربار اور شہر چھوڑ کر دوسری ریاستوں میں رہ رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے ووٹروں کی حصہ داری بڑھانے کی سمت ایک بڑی پہل کرتے ہوئے ریموٹ الیکٹرانک ووٹنگ مشین(آر وی ایم) تیار کی ہے۔اس کے ذریعہ دُوردراز کے علاقوں میں بسے تارکین وطن ملک کے کسی بھی حصے سے اپنے حلقۂ انتخاب میں کھڑے پسند کے اُمیدوار کو اپنا ووٹ ڈال سکتے ہیں۔یہ خبر کئی اُتار چڑھاؤ سے گزرے غیر مستحکم برس2022کی انتہائی سکون بخش اور خوش آئند ہے۔ الیکشن کمیشن نے ابھی آر وی ایم تیار کرنے کی اطلاع دی ہے۔ 16 جنوری2023کو کمیشن کے ذریعہ اس کے پروٹو ٹائپ کی جانچ کرنے کے ساتھ تمام تسلیم شدہ جماعتوںکے نمائندوں کے سامنے اس کا مظاہرہ کیا جائے گا۔اس کے لیے سبھی آٹھ قومی اور57علاقائی جماعتوں کو مظاہرے کے وقت شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔کمیشن کی ٹیکنیکل ایکسپرٹ کمیٹی کے ارکان بھی ڈیمونسٹریشن کے وقت موجود رہیں گے۔پبلک سیکٹر انڈر ٹیکنیکل میں تیار کردہ اس آر وی ایم کے ذریعے دُوردراز کے ایک ریموٹ پولنگ بوتھ سے72حلقوں کی پولنگ ممکن ہوسکے گی۔ووٹنگ مشین کی خاص بات یہ ہے کہ یہ انٹرنیٹ سے منسلک نہیں ہوگی۔ پروٹو ٹائپ کی کارکردگی اور مختلف اسٹیک ہولڈرز کے تاثرات کی بنیاد پر ریموٹ ووٹنگ سسٹم کے نفاذ کے عمل کو حتمی شکل دی جائے گی۔کمیشن نے دور دراز کے پولنگ بوتھوں اور دیگر ریاستوں میں ریٹرننگ افسر تک اس کی معلومات پہنچانے کو کافی مشکل تسلیم کیا ہے۔حکام کے مطابق اس سے نمٹنے کے لیے آر وی ایم کو موجودہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر مبنی ’ایک مضبوط فل پروف اور موثر اسٹینڈ اکیلے نظام‘ کے طور پر تیار کیا جائے گا۔
عوامی نمائندگی قانون1950,1951انتخابی ضوابط کے انعقاد1961اور الیکٹورل رجسٹریشن رولز1960میں ترمیم کرنا ہو گی۔قانون میں تبدیلی صرف پارلیمنٹ میں ہوسکتی ہے۔تاہم اس معاملے میں وزارت قانون کی سطح پر متعلقہ رولز کو تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ بوتھوں کی تعداد اور ان کے مقامات بھی تعین کرنے کی ضرورت ہو گی۔ کمیشن نے ان مسائل پر تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں سے 31 جنوری تک تحریری تجاویز پیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان میں کئی وجوہات انتظامی چیلنجوں کی ہیں۔ گھریلو تارکین وطن کی تعریف بھی اہم مسئلہ ہے۔دوسری ریاستوں میں واقع رائے دہندگان کی گنتی کے علاوہ دوردراز کے پولنگ اسٹیشنوں پر طرز عمل، ضابطہ اخلاق کی پابندی،ووٹنگ کی رازداری کو یقینی بنانا، رائے دہندگان کی شناخت کے لیے پولنگ ایجنٹوں کی سہولت،ریموٹ ووٹنگ کا طریق کار، ووٹوں کی گنتی، دوردراز ووٹنگ کا نظام،ووٹروں کاطرز عمل اور لوگوں کو آر وی ایم سے واقف کرانا شامل ہیں۔ چیف الیکشن کمیشن راجیو کمار نے ریموٹ ووٹنگ کو ایک انقلابی تبدیلی کا اقدام بتاتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں اور شہریوں کی بے حسی اور ان کے ووٹ نہیں ڈالنے کے رویے پر ریسرچ کی گئی۔اس سے ووٹنگ میں یقینی طور پر اُن کی حصہ داری تو بڑھے گی ہی، انتخابی جمہوریت میں اُن کی شرکت کو بھی مضبوط بنایا جا سکے گا۔آئی آئی ٹی مدراس کی مدد سے بنائی گئی ملٹی کانسٹی ٹیونسی ریموٹ ای وی ایم کے ذریعہ ایک پولنگ بوتھ سے72انتخابی حلقوں کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔سابق چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی نے الیکشن کمیشن کے ریموٹ الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم کو بہترین قدم قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک اور غیرممالک میں رہنے والے ووٹروں کے لیے ریموٹ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے پروٹوٹائپ کی نمائش کے لیے سیاسی جماعتوں کو مدعو کرنے کا فیصلہ قابل تعریف ہے۔ایس وائی قریشی نے الیکشن کمیشن کے تجرباتی نظام کے فیصلے کاخیر مقد م کرتے ہوئے کہا کہ اس سے عمل میں درپیش تمام مشکلات کو دُور کرنے میں مدد ملے گی۔تارکین وطن رائے دہندگان کا مسئلہ کافی عرصے سے زیرالتوا تھااور اس کاحل نہیں نکل پا رہا تھا۔اگر الیکشن کمیشن کوئی الیکٹرانک حل تلاش کرتا ہے،تو یہ ایک اچھی اور بڑی کامیابی ہو گی۔اس کی خاص بات یہ ہے کہ الیکشن کمیشن اس عمل کو جمہوری طریقے سے مکمل کر رہا ہے۔ تمام سیاسی پارٹیوں کو ڈیمو کے لیے بلایا جانا اس کا بین ثبوت ہے۔اس عمل میں تمام تسلیم شدہ قومی اور ریاستی جماعتوں کی آرا اور اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے بہتر نتائج سامنے آئیں گے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے کی جانے والی پائلٹ ٹیسٹنگ میں تمام مسائل کا پتہ لگایا جا سکے گا۔
اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ کسی بھی پارلیمانی جمہوریت کی سب سے بڑی طاقت اس کاانتخابی عمل ہوتا ہے۔اس کی ذمہ داری الیکشن کمیشن پر عائد ہوتی ہے۔یہ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ تمام رائے دہندگان آسانی کے ساتھ اپنی رائے کا استعمال کرسکیں۔دوسری جانب 1951-52میں ہونے والے پہلے عام انتخابات کے بعد سے ہی یہ دیکھا جا رہا تھا کہ بہت سے رائے دہندگان کن ہی وجوہات کی بنا پر اپنی رائے دہی کے حق کا استعمال نہیں کر پاتے۔ گزشتہ برسوں میںاس کا ایک بڑا سبب عام معلومات کی کمی تھی۔دوسرے جہاں گاؤوں میں رائے دہندگان اپنی رائے کے استعمال کے لیے آسانی سے قطاروں میں لگ جاتے تھے،وہیں شہری علاقوں کے ووٹروں میں ایک قسم کی بے حسی اور غیر دلچسپی پائی جاتی تھی۔تارکین وطن کا مسئلہ بھی اہم تھا۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے تارکین وطن اپنی آبائی ریاستوں کے پولنگ بوتھوں سے دُور رہنے کے سبب چاہتے ہوئے بھی ووٹ نہیں ڈال پاتے تھے۔ حکومت اور الیکشن کمیشن نے اس جانب خاص توجہ دی۔ روزی روٹی کمانے اور تعلیم حاصل کرنے والے طلبا و دیگر تارکین وطن کو گھر آئے بغیر اپنے کام کاج کے مقامات سے ووٹ ڈالنے کی سہولت مہیا ہونے سے ووٹ ڈالنے سے محروم نہیں ہونا پڑے گا۔ 2011کی مردم شماری کے اعدادوشمار کے مطابق ملک کی آبادی کا37فیصد یعنی تقریباً45.36کروڑ افراد مہاجر ہیں۔ اعدادوشمار کی بات کریںتو یہ بات آئینہ کی طرح صاف ہو جاتی ہے کہ کسی نہ کسی بنا پر گھریلو تارکین وطن کی ایک بڑی تعداد اپنے رائے دہی کے حق کا استعمال کرنے سے محروم رہتی ہے۔ان حالات میں ریموٹ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کی اہمیت آسانی سے سمجھی جا سکتی ہے۔اس سال ملک کے نو صوبوں میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔اُمید کی جانی چاہیے کہ ان الیکشن کے دوران پائلٹ پروجیکٹ کی شکل میں آر وی ایم کا استعمال کیا جا سکتا ہے،لیکن اس اہم کام کو وسیع سیاسی اتفاق رائے پیدا کیے بغیر ممکن نہیں بنایا جاسکتا ہے۔اسے وسیع پیمانے پر نافذ کرنے کے لیے عوامی نمائندگی ایکٹ اور انتخابی قوانین میں تبدیلیاں کرنی ہوں گی۔ اس کے علاوہ الیکشن کے بعد سیاسی جماعتوں کے ذریعہ ای وی ایم پر ظاہر کیے جاتے رہے شبہات کو دُور کرتے ہوئے آر وی ایم کے صاف، شفاف اورپراعتماد ہونے کی یقین دہانی کرانا بھی ضروری ہے۔
(مضمون نگار سینئر صحافی اور ادیب ہیں)
[email protected]