راہل کیلئے آفت میں موقع ہے کانگریس کا ہنگامہ

کانگریس کا اندرونی خلفشار ٹی ایم سی اور ’آپ‘ کیلئے سنہرا موقع

0

سنکیت اُپادھیائے

جب پنجاب میں ہنگامہ مسلسل جاری تھا اور وہاں چھتیس گڑھ کے بھی ایم ایل اے دہلی چلے آئے تو ایسی چرچا پھر تیز ہوگئی کہ اب کی کانگریس ختم۔ صرف اپوزیشن ہی نہیں، کانگریس کے اپنے G-23کے لیڈر بھی اپنی ناراضگی کا اظہار سوشل پلیٹ فارم کے ذریعہ کرنے لگے۔ یہاں کپل سبل نے پوچھا کہ کانگریس کون چلا رہا ہے اور وہاں شام تک ان کے گھر پر آئی وائے سی(انڈین یوتھ کانگریس) کی فوج ٹماٹر لے کر پہنچ گئی۔ عام طور پر جب یہ سب ہونے لگے تو ایسا سمجھ لیا جاتا ہے کہ یہ قیادت کی کمزوری کا ہی نتیجہ ہے۔
کانگریس کا یہ اندرونی خلفشار عام آدمی پارٹی اور ترنمول کانگریس کے لیے ایک سنہرا موقع بن کر آیا ہے۔ مایوس اور پریشان کانگریسی لیڈران کے ساتھ، بغیر اپنے نظریہ سے سمجھوتہ کیے ایک اور مقام مل گیا ہے۔ اپوزیشن کی کمی کو پورا کرنے کی مضبوط کوشش ہورہی ہے۔
لیکن آج کی کانگریس کی حالت کو سمجھنے کے لیے یوپی اے-2کا دور یاد کرنا ضروری ہے۔ 2009میں دوبارہ کانگریس گٹھ بندھن کی حکومت بنی۔ ایک طرف راہل گاندھی کے بیان آنے لگے کہ کانگریس کی توسیع بہت ضروری ہے تاکہ ہم اپنے دم پر الیکشن جیتیں اور وہیں بی جے پی ٹوٹ اور بکھر رہی تھی۔ روز نیا ہنگامہ۔ روز نیا استعفیٰ۔
اسی سب کے دوران ایک ’غیرسیاسی‘ تحریک شروع ہوئی- انا ہزارے کی قیادت میں۔ اور یہاں سے شروع ہوا اپوزیشن کے کردار کو بھرنے کی ایک کوشش۔ ایک سال بعد ایک نئی پارٹی وجود میں آئی، جسے کہتے ہیں ’عام آدمی پارٹی‘(آپ)۔ ایک طرف دہلی میں ’آپ‘ نے پاؤں پھیلائے، وہیں بکھرئی بی جے پی نے روٹھے ہوئے اڈوانی جی کو بہت ہنگامہ کے بعد منوایا کہ اب وہ پارٹی میں تبدیلی کو قبول کریں اور نریندر مودی کی قیادت میں ہی 2014کا الیکشن لڑا جائے۔ کڑوی گھٹّی بی جے پی کے کام آئی اور بی جے پی ایسی جیتی کہ یہ 2014سے پہلے والی پارٹی لگتی ہی نہیں۔
ٹھیک ویسے ہی، اب مودی حکومت کے دوسرے دوراقتدار کے دو سال پورے ہوگئے ہیں۔ اپوزیشن خود کو ٹھیک ویسے ہی تلاش کررہا ہے، جیسے 2011میں تلاش کررہا تھا۔ اس وقت بدعنوانی بڑا ایشو بن کر سامنے آئی۔ لیکن اس مرتبہ کیا ہوگا، اس کی تلاش ابھی جاری ہے۔
لیکن راہل اور پرینکا کے لیے یہ ایک اور موقع ہے۔ بھلے ہی اپوزیشن میں ان کے اہم رول پر سوال کھڑے ہورہے ہیں۔ یہ بھی کہنا غلط نہیں ہوگا کہ یہ ایک آخری چانس ہے۔ اب کی ڈوبے تو عام آدمی پارٹی اور ترنمول کانگریس جگہ لینے کے لیے کھڑے ہیں۔
سب سے پہلے یہ سمجھ لینا چاہیے کہ کانگریس پارٹی مطلب گاندھی فیملی۔ یہ کانگریس اندراگاندھی کی کانگریس ہے اور پوری طرح ایک فیملی پر مرکوز ہے۔ اور جس کو بھی اس بات پر یقین نہ ہو وہ 2019میں راہل گاندھی کے استعفیٰ کے بعد ہوئے ہنگامہ کو یاد کرلے۔ مہینوں کے بعد سی ڈبلیو سی(کانگریس ورکنگ کمیٹی) نے واپس سونیا گاندھی کو ہی عبوری صدر بنادیا۔
اب سے پہلے تک بھائی اور بہن کی جوڑی کو ہمیشہ سونیا گاندھی کی پرچھائی میں دیکھا گیا ہے۔ پارٹی کے بڑے اور پرانے لیڈران بھلے ہی راہل گاندھی کی قیادت قبول کرتے رہے ہوں، لیکن واضح ہے کہ پارٹی کا مکمل کنٹرول راہل کے ہاتھ میں نہیں تھا۔ ہر لیڈر اپنے حساب سے اور اپنے مطلب سے پارٹی چلارہا تھا۔ راہل نے بھی پوری طرح سے کمان نہیں سنبھالی اور 2019میں تو پارٹی کو درمیان میں ہی چھوڑ دیا۔ لیکن جو بھی یہ سوچ رہا ہے کہ وہ محض ایک ممبر پارلیمنٹ ہیں، وہ شاید اس کانگریس کو نہیں سمجھتا۔
اس سے پہلے کانگریس پارٹی میں اولڈ گارڈ بنام نیو گارڈ کی چرچا ہی ہوتی تھی۔ لیکن حال فی الحال بہت سارے پرانے گارڈ کو ہٹنا پڑا ہے۔ وہ ہر انسان جو اپنے دل میں، اپنی کانگریس سمجھ کر پارٹی چلارہا تھا اس کو یاد دلایا جارہا ہے کہ پارٹی میں صدر عہدہ پر آئیں گے تو راہل ہی۔ اور انہی کی سننی پڑے گی۔
سنجے گاندھی اور راجیو گاندھی کے زمانہ میں آئے نوجوان لیڈر اب اپنے آپ کو راہل کی یوتھ بریگیڈ کا حصہ نہیں پاتے۔ ٹیم راہل کا پیغام صاف ہے۔ پرانے لوگ قیادت کی تبدیلی میں تعاون دیں اور احترام کریں تو ان کا خیرمقدم ہے۔ لیکن اگر وہ رکاوٹ پیدا کریں گے تو ان کو باہر کرنے میں بھی پارٹی سوچے گی نہیں۔ یہ کرنے میں راہل اور پرینکا نے نوجوت سنگھ سدھو جیسی غلطیاں بھی کی ہیں لیکن اشارہ صاف ہے۔
اب کانگریس نئی فوج اور نئی پود تیار کرنا چاہ رہی ہے جو اپنی سیاست میں جارح ہو۔ جو مودی سے مودی کی طرح لڑنے کی طاقت رکھے۔ جو ’مٹھادیشی‘ نہ کرے۔ راہل نے یہ پیغام بھی صاف دے دیا ہے کہ کانگریس کی کار میں ایک ہی ڈرائیور ہوسکتا ہے، 23نہیں اور آخری وقت تک لیڈر بنے رہنے کی خواہش بھلے ہی اچھی ہو لیکن اگر لوگ باعزت چلے جائیں تو بہتر۔
ایک بڑی دقت اور بھی ہے۔ لکھیم پور پر کانگریسی رُخ سخت ضرور نظر آیا اور زمین پر کانگریس بھی دِکھی۔ لیکن اس سے پہلے کئی مرتبہ راہل اور پرینکا کی زمینی جدوجہد نظر آکر ختم ہوتی نظر آئی ہے۔ راہل کی جدوجہد مسلسل نہیں رہی ہے اور وہی ان کی تنظیم میں بھی نظر آتا ہے۔ 2024میں ابھی بھی 3سال ہیں اور اس کانگریسی آفت میں ابھی بھی ایک موقع ہے۔
(مضمون نگار سینئر صحافی ہیں)
(بشکریہ: دینک بھاسکر)

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here