اندھیرے کا گہرا ہوتا بحران

0

ابھیشیک کمار سنگھ

ترقی کی راہ پر تیزی سے بڑھنے کی کوشش کرتے ہوئے ہندوستان جیسے ملک کے لیے توانائی میں خودانحصاری حاصل کرنا سب سے بڑی ضرورت ہے۔ ہمیں کارخانے لگانے ہیں، پیداوار میں اضافہ کرنا ہے، کروڑوں نوجوانوں کے لیے روزگار پیدا کرنا ہے۔ یہ سارے اہداف جس ایک ضرورت کی طرف اشارہ کرتے ہیں، وہ ہے توانائی یعنی بجلی۔ ملک میں کوئلے کی کمی کے سبب بجلی بحران گہرا ہوتا جارہا ہے۔ حالات یہ ہیں کہ مرکز کی یقین دہانی کے باوجود کوئی اس بات پر یقین کرنے کے لیے تیار نہیں ہے کہ کوئلے کی کمی کے سبب ملک کے زیادہ تر علاقے جلد ہی اندھیرے میں ڈوبے نظر نہیں آئیں گے۔
گزشتہ کچھ وقت سے ایسی خبریں مسلسل آرہی ہیں کہ کورونا کے دور میں بجلی کی ڈیمانڈ میں کئی گنا اضافہ اور دیگر اسباب سے تھرمل پاور اسٹیشنوں میں کوئلے کی کمی ہوگئی ہے۔ کہا تو یہاں تک گیا ہے کہ زیادہ تر پلانٹس کے پاس کچھ ہی دنوں کا کوئلہ بچا ہے۔ اگر واقعی ایسا ہے تو وبا کی مار کے بعد پٹری پر لوٹتی معیشت کے لیے یہ کسی جھٹکے سے کم نہیں ہوگا۔ اس صورت حال میں ملک کے سامنے یہ سوال کھڑا ہوگا کہ آخر ہماری حکومت 140کروڑ کی آبادی والے ملک کی ضرورتوں کا تخمینہ لگانے میں کیسے ناکام ہوگئی اور اس نے بجلی جیسی ضروری چیز کے بحران کا پہلے سے تخمینہ لگاکر حالات سے نمٹنے کے لیے کوئی تدبیر کیوں نہیں کی۔
لیکن یہاں دو بنیادی سوال ہیں۔ پہلا تو یہ کہ آخر ملک میں کتنی بجلی کوئلے سے بن رہی ہے اور خوفناک آلودگی پیدا کرنے والے کوئلے سے بننے والی بجلی کا متبادل اب تک کیوں نہیں تیار کیا گیا۔ اور دوسرا سوال یہ کہ دنیا میں سب سے زیادہ کوئلہ پیدا کرنے والے ممالک میں اس کا قحط کیوں ہے؟ اصل میں جب بات لاگت اور قیمت کی ہوتی ہے تو کوئلے سے چلنے والے تھرمل پاور اسٹیشن بازی مار لیتے ہیں۔ کوئلے سے ملنے والی بجلی سستی ہوتی ہے۔ کوئلے کی دستیابی کا تخمینہ لگائیں تو موجودہ بحران سے ایک تشویشناک مستقبل آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے۔ ہندوستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں پچیس سال پہلے کے مقابلہ میں ہزاروں ٹن زیادہ کوئلہ زمین کے اندر سے نکالا جارہا ہے۔ لیکن توانائی کی بڑھتی ڈیمانڈ کوئلے کے مستقبل کو دھندلا کردیتی ہے۔
میساچیوسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی(ایم آئی ٹی) کی ایک ریسرچ کے مطابق2050تک دنیا میں توانائی کی ڈیمانڈ تین گنا زیادہ بڑھ جائے گی۔ ہند-چین جیسے ترقی پذیر ممالک میں تو اس ڈیمانڈ میں اتنی تیزی سے اضافہ ہوگا کہ اسے پورا کرنے میں پسینے چھوٹ جائیں گے۔ حال میں چین سے بھی یہ خبریں آرہی تھیں کہ وہاں بجلی کا سنگین بحران کھڑا ہوگیا ہے کیوں کہ کوئلے کا موجودہ ذخیرہ ختم ہورہا ہے۔ چین کے 31میں سے 16 صوبوں میں بجلی کی کٹوتی کی گئی، ریسٹورینٹ اور شاپنگ مال بند کرنے پڑے اور کئی فیکٹریوں کو اپنا پروڈکشن آہستہ کرنا پڑا کیوں کہ انہیں مناسب مقدار میں بجلی نہیں مل پارہی تھی۔ چین دنیا کا اکیلا ملک ہے جو تھرمل پاور اسٹیشنوں سے سب سے زیادہ بجلی بناتا ہے۔
ہندوستان کی صورت حال چین سے علیحدہ نہیں ہے۔ ہمارے ملک میں بھی کوئلے سے ملنے والی بجلی کل بجلی کی پیداوار کی 72فیصد ہے۔ یہی بجلی عوام کے استعمال سے لے کر صنعتوں کو دی جاتی ہے۔ ملک میں پہلے بھی ایسے کئی مواقع آئے ہیں، جب مانسون کے دوران کوئلہ کی کانوں میں پانی بھر جانے کے سبب عام طور پر ستمبر-اکتوبر میں کوئلے کا ذخیرہ کم ہوجاتا تھا اور بجلی کی پیداوار میں کٹوتی کی نوبت آجاتی تھی۔ لیکن اس سال یہ بحران غیرمعمولی سطح تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔ ایسا کیوں ہوا، اس کے کئی اسباب ہیں۔ پہلی وجہ بجلی کی کھپت میں بے تحاشہ اضافہ ہونا ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ وبا کے سبب عائد پابندیوں کے ہٹنے کے بعد صنعتوں-کاروباروں میں رفتار آئی ہے اور بجلی کی ڈیمانڈ میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ گھریلو بجلی کی بھی ڈیمانڈ میں اضافہ ہوا ہے کیو ںکہ ابھی بھی زیادہ تر لوگ گھروں میں کام کررہے ہیں، اس لیے ایئرکنڈیشنر و دیگر آلات میں بجلی کی کھپت میں اضافہ ہوا ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اس سال اگست میں بجلی کی کھپت 124ارب یونٹ تھی، جب کہ دو سال پہلے یعنی وبا سے قبل اگست2019میں یہ کھپت 106ارب یونٹ تھی۔ بجلی کی ڈیمانڈ میں تقریباً 20فیصد کے اس اضافہ نے سپلائی میں کٹوتی کا بحران پیدا کردیا ہے۔ حکومت کی ایک اور دلیل ہے۔ مرکزی حکومت کے مطابق اسی مدت کے دوران ’سوبھاگیہ‘ پروگرام کے تحت ملک کے 2کروڑ 80لاکھ گھروں کو بجلی کنکشن دیا گیا۔ حالاں کہ اس پروگرام میں ان کروڑوں گھروں میں بجلی کا صرف ایک بلب لگایا تھا، لیکن ان زیادہ تر کنبوں نے پنکھے، کولر، ٹیلی ویژن وغیرہ کا بھی استعمال شروع کردیا۔ یہی نہیں، اب اندازہ لگایا جارہا ہے کہ نئے صارفین کے وابستہ ہونے کا یہ سلسلہ آگے بھی چلتا رہے گا، اس سے پاور اسٹیشنوں پر اضافی بوجھ پڑے گا۔
تھرمل پاور اسٹیشن چوں کہ پوری طرح سے کوئلہ پر منحصر ہیں اور کوئلے کی سپلائی کئی وجوہات سے متاثر ہوتی ہے، اس لیے اس کالے سونے سے ملنے والی بجلی اور اس کی قیمت میں آگے بھی اسی طرح کی کھینچ تان جاری رہ سکتی ہے۔ معلوم ہو کہ کانوں سے نکلنے والے یا باہر سے درآمد شدہ کوئلے کی مقدار میں کمی بیشی سپلائی کے مطابق ہوتی رہتی ہے۔ مانسون میں بارش کے دوران کانوں میں پانی بھرنے سے سپلائی میں کمی آجاتی ہے۔ اس کے علاوہ بھلے ہی ہمارے ملک میں دنیا کا چوتھا سب سے بڑا کوئلہ کا ذخیرہ ہے، لیکن ضرورت کی تکمیل کے لیے ہمیں غیرممالک سے کوئلہ منگانا پڑتا ہے۔ چین کے بعد ہندوستان کوئلہ کا سب سے بڑا امپورٹر ہے۔ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ دیسی کانوں سے نکلنے والا کوئلہ خراب کوالٹی کا ہوتا ہے جو جلانے پر توانائی کم اور دھویں کی شکل میں آلودگی پیدا کرنے اور کاربن کا اخراج زیادہ کرتا ہے۔ اس لیے درآمد کم کرنے کی کوششوں کے باوجود اس میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ ادھر اس میں مسئلہ یہ آیا کہ چین سے بگڑے تعلقات درآمد شدہ آسٹریلیائی کوئلے کے راستہ میں کاروٹ بن گئے۔ دعویٰ ہے کہ ہندوستان کا 20لاکھ ٹن سے زیادہ آسٹریلیائی کوئلہ چین کی بندرگاہ پر مہینوں سے رکا ہوا ہے۔ ہمارے ملک میں سیمنٹ اور اسٹیل بنانے والی کمپنیاں سستی شرح پر اچھی کوالٹی والا آسٹریلیائی کوئلہ درآمد کرتی ہیں۔ چوں کہ انہیں یہ کوئلہ نہیں ملا تو انہوں نے پاور اسٹیشنوں کو دیے جارہے کوئلے سے اپنی ضرورت کی سپلائی کی۔ اس سے بجلی پیدا کرنے والے پاور اسٹیشنوں کے لیے ایندھن کم پڑگیا ہے۔
اصل میں، توانائی کے سارے ذرائع کی صلاحیت اور ان کے مثبت-منفی پہلوؤں کا مطالعہ جس ایک نتیجہ پر پہنچتا ہے، وہ یہ ہے کہ مستقبل میں سورج ہی ہماری فلاح کرے گا۔ پون چکیاں(windmills) لگانے کی سمت میں بھی پیش رفت ہوئی ہے۔ لیکن تمام خوبیوں کے باوجود دنیا میں ابھی ان متبادل کی طرف زیادہ رجحان نہیں ہے۔ ایسے میں کوئلے سے ملنے والی بجلی آگے کچھ برسوں تک ہماری توانائی کا سب سے ضروری حصہ بنی رہ سکتی ہے۔ اس لیے مناسب یہی ہے کہ اس کے راستہ میں آنے والی رکاوٹوں کو دور کیا جائے اور اچھی کوالٹی والے کوئلے کی سپلائی یقینی بنانے کی ٹھوس کوششیں کی جائیں۔
(بشکریہ: جن ستّا)

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS