فاختہ لہو لہو شجر شجر لہو لہو

0

یہ حیات درد کا شکار بن کے رہ گئی
ساری عمر آنسوؤں کا ہاربن کے رہ گئی
تتلیوں کی ٹولیوں میں مسکراہٹیں نہیں
دور تک بھی چوڑیوں کی کھنکھناہٹیں نہیں
پھول جیسی ہر ادا کٹار بن کے رہ گئی
یہ حیات درد کا شکار بن کے رہ گئی
اب ہنسی کے پھول ہیں نہ قہقہوں کی پھلجھڑی
دل ہے جیسے میز پر رکی ہوئی کوئی گھڑی
سانس سانس بے صدا ستار بن کے رہ گئی
یہ حیات درد کا شکار بن کے رہ گئی
جل گئی محل مکان جل گئی ہیں کھولیاں
اب کے یوں کھلی ہیں آگ اور دھویں سے ہولیاں
چاندنی بھی راہ کا غبار بن کے رہ گئی
یہ حیات درد کا شکار بن کے رہ گئی
فاختہ لہو لہو شجر شجر لہو لہو
تیرا دل لہو لہو مری نظر لہو لہو
جسم و جاں کی د استاں پکار بن کے رہ گئی
یہ حیات درد کا شکار بن کے رہ گئی
کس کو لے کے بازوؤں میں لوریاں سنائے گی
دودھ پیتے لاڈلے کو ماں کہاں چھپائے گی
جو پناہ گاہ تھی مزار بن کے رہ گئی
یہ حیات درد کا شکار ہوکے رہ گئی
اب تو او ستم گرو! لہو کاکھیل چھوڑ دو
یہ منافرت کی جستجو کا کھیل چھوڑ دو
وادی حسیں بھی اب تو غار بن کے رہ گئی
یہ حیات درد کا شکار بن کے رہ گئی
طیب آزاد شیرکوٹی

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS