مساوات اور مذہبی آزادی

0

جس ملک میں حکومت کو عوام کی تائید بھی حاصل ہو، عروس اقتدار کی نقاب کشائی کیلئے دستور کی قسم کھانا بھی لازمی ہو، باقاعدہ ایک آئین ہو جس کے دائرہ میں قانون کی حکمرانی کے دعوے کیے جاتے ہوں۔وہاں اگر مساوات اور شہریوں کے حقوق پرحملے ہونے لگیں اور حکومت خاموش تماشائی بنی ہو تو ایسی صورتحال کو کیا کہیں گے؟ یہ ایک سوال ہے جو آج ملک کے ہر سنجیدہ شہری کے ذہن میں گشت کررہاہے۔
گزشتہ ایک ہفتہ کے دوران ملک میں کئی ایک ایسے واقعات پیش آئے ہیں جو شہریوں کے مساوات کے حقوق، مذہبی اور شخصی آزادی پر شدید حملہ ہی کہے جائیں گے۔ ستم ظریفی یہ بھی ہے ان واقعات کی روک تھام کے بجائے ا نتہائی بے شرمی کے ساتھ ان کی توضیح کی جارہی ہے اور سماج میں پولرائزیشن کیلئے مناسب موقع کے طور پر اس کا استعمال کیا جارہا ہے۔ مذہبی آزادی اور شہریوں کے مساوات کے حق کو کچلنے کی کوششیں سماج کے وہ لوگ کر رہے ہیں جو اقتدار کے قریب ہیں۔
ہندوستان کی آئین کی دفعہ15اوردفعہ25میں ملک کے تمام شہریوں کے مساوات کے حق کی ضمانت دی گئی ہے۔ دفعہ15 کے تحت حکومت پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ مذہب، رنگ و نسل، جنس، مقام پیدائش یا کسی اور وجہ کی بنیاد پر امتیازی سلوک کا خاتمہ کرے اور مساوات کے حق کو یقینی بنائے۔ آئین کی دفعہ25میں ملک کے تمام شہریوں کو مذہبی آزادی کی ضمانت دی گئی ہے۔لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ چند برسوں سے ان آئینی دفعات کی کھلی خلاف ورزی عروج پر ہے اور حکومت خاموش تماشائی بنی اس کی حوصلہ افزائی کررہی ہے۔
تازہ واقعہ ہماچل پردیش میں پیش آیا ہے۔ اس ریاست کے کلو ضلع کے ناگر تحصیل میں واقع ناتھن گائوں میں باقاعدہ پولیس کی موجودگی میں شدت پسند عناصرنے ایک قبرستان کے اندرگھس کر ننگا ناچ کیا اور قبروں کو منہدم کرکے انہیں زمین کے برابر کردیا۔اس سے قبل مدھیہ پردیش کے اندور میںگھوم گھوم کر چوڑیاں بیچنے والے ایک شخص پر حملہ کیا گیا اور اسے مذہبی نعرہ لگانے پر مجبور کیاگیا۔ اس حملہ کی وجہ یہ تھی کہ اقلیتی فرقہ سے تعلق رکھنے والا یہ چوڑی فروش اپنا سامان لیے اندورکے اکثریتی فرقہ کی بستی میں پہنچ گیا تھا۔مدھیہ پردیش کے ہی نیمچ کے سنگاولی میں ایک قبائلی شخص کو انتہائی بے رحمی سے پیٹا گیا اور پک اپ ٹرک سے باندھ کر اسے میلوںتک گھسیٹا گیاجس سے اس کی موت واقع ہوگئی۔اسی مدھیہ پردیش کے اجین میں ’قاضی صاحب زندہ باد‘ کا نعرہ لگانے والے 10افراد پر قومی سلامتی سے متعلق دفعات لگاکر جیل بھیج دیاگیا۔ اسی ریاست کے اجین اور دیواس میں فٹ پاتھ پر سامان بیچنے والوں سے شدت پسند عناصر آدھار کارڈطلب کرکے ان کی شناخت دیکھ رہے ہیں۔اسی طرح قومی دارالحکومت دہلی میں ایک صحافی کو مذہبی نعرے بلند کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کی گئی۔
یہ واقعات ملک میںشہریوں کے مساوات کے حقوق اور مذہبی آزادی کیلئے سنگین خطرات ظاہر کرتے ہیں۔ کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے بجاطور پر یہ پوچھا ہے کہ کیا حکومت نے آئین کی دفعات 15اور25کو بیچ ڈالا ہے ؟
تواتر سے پیش آرہے ان واقعات کے تناظر میں راہل گاندھی کے سوال سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا ہے کیوں کہ مسلسل ہورہے یہ واقعات ظاہر کررہے ہیں کہ حکومت آئین کی مذکورہ دفعات کی پاسداری میں سنجیدہ نہیں ہے۔اگر ان واقعات کو روکا نہیں گیا تو یہ خطرہ بھی ہے کہ کہیں یہ جنون نہ بن جائے۔یہ صورتحال آزادی، مساوات، بھائی چارہ اور جمہوریت پر مبنی نظام کیلئے انتہائی خطرناک ہے۔
اس سے انکار نہیں کیاجاسکتا ہے کہ آج ہندوستان میں جو کچھ ہورہاہے، وہ ایک مخصو ص سیاسی نظریہ رکھنے والی جماعت کی شہ پر ہورہاہے۔اس جماعت سے وابستہ لوگ یہ اچھی طرح سمجھ گئے ہیں کہ ان واقعات سے سماج کو پولرائزکرکے انتخاب جیتنا اور اقتدار حاصل کرنا آسان ہے اور وہ اسی پر عمل پیراہیں۔
ہندوستان جیسے متنوع ملک میں جہاں درجنوں مذاہب، سیکڑوں رنگ ونسل اور تہذیب کے لوگ رہتے ہوں وہاں کسی ایک مخصوص نظریہ کی سربلندی کیلئے جبر و ظلم کا ہونا اور سماجی اتحاد، مساوات کے حق اور مذہبی آزادی کاسلب کیاجانابہرحال ناقابل برداشت ہے۔یہ حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ پارٹی کے نظریہ سے بالاترہوکر ہر شہری کی مذہبی آزادی اور مساوات کے حق کا تحفظ کرے اور عالمی سطح پر داغدار ہورہی ہماری شبیہ کو بہتر بنائے۔
[email protected]

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here