اسکولوں کو کھولنے کا فیصلہ

0

 کووڈ-19   اور لاک ڈاؤن کے نام پر بند کیے گئے ملک بھر کے اسکول دھیرے دھیرے کھلنے لگے۔ گزشتہ ماہ 15؍اکتوبر سے ہی اسکولوں کو کھولنے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ بہار،اتر   پردیش، آسام، ہریانہ، آندھراپردیش اور متعدد ریاستوں میں اسکولوں کو کھول دیا گیا اور کلاسیں شروع کردی گئی ہیں۔ جب یہ عمل شروع کیا گیا تھا تو کہا جارہا تھا کہ اب سنسان پڑے اسکولوں میں رونق لوٹے گی لیکن طلبا وطالبات کی حاضری کو دیکھ کر کوئی نہیں کہہ سکتا کہ رونق اتنی جلدی لوٹ آئے گی اور اسکولوں میں پہلے کی طرح چہل پہل اور تعلیمی سرگرمیاں شروع ہوجائیں گی۔ جہاں بھی اسکول کھولے گئے ہیں، دیکھا جارہا ہے کہ اسکول تو کھلے ہوئے ہیں لیکن طلبا و طالبات ندارد ہیں یا ان کی حاضری اتنی کم رہتی ہے کہ ان کو پڑھانے سے ضرورت پوری نہیں ہوگی۔ اسی لیے آن لائن کلاسیز کا سلسلہ بند نہیں کیا جارہا ہے۔ اسکولوں میں رونق تو نرسری سے پانچویں تک کے بچوں اور بچیوں سے ہوتی ہے جبکہ زیادہ تر اسکول نویں سے بارہویں تک کی کلاسوں کے طلبا و طالبات کے لیے کھولے گئے ہیں، دوسری بات یہ ہے کہ سرکاری اسکول کھولے جارہے ہیں۔ کارپوریٹ اور پرائیویٹ اسکول ہنوز نہیں کھولے گئے۔ جن اسکولوں کو کھولا گیا ہے، وہاں بھی حاضری اختیاری ہے۔ دو شفٹوں میں کلاسیز ہورہی ہیں تاکہ سماجی دوری کے ساتھ کم طلبا و طالبات کلاسوں میں بیٹھیں۔ کچھ بچے پہلی شفٹ میں پڑھ رہے ہیں تو کچھ دوسری شفٹ میں اور باقی گھروں سے آن لائن کلاسیز کررہے ہیں۔ ابھی بھی ایک ساتھ تمام اسکول نہیں کھولے جارہے ہیں بلکہ پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہوئے مرحلہ وار طور پر اسکول کھولے جارہے ہیں۔
دراصل اسکولوں میں کم حاضری کی بڑی وجہ کھولے گئے اسکولوں میں کووڈ-19سے بچاؤ کے لیے تمام احتیاطی اقدامات تو کیے جارہے ہیں، کورونا گائیڈلائن پر عمل کیا جارہا ہے۔ سماجی دوری کو یقینی بنانے کے ساتھ ہاتھوں کو دھونے وصاف رکھنے، ماسک لگانے اور سینیٹائزر کے استعمال کا اہتمام کیا جارہا ہے لیکن خدانخواستہ طلبا و طالبات کو اسکولوں میں کورونا ہوتا ہے تو اس کا ذمہ دار اسکولوں کو ٹھہرانے کے بجائے والدین ہی کو ٹھہرانے کا بایں طور انتظام کردیا گیا ہے کہ بچے ان ہی کی منظوری یا اجازت نامہ لے کر اسکول آئیں گے۔ مطلب صاف ہے کہ جب والدین کی مرضی سے بچے آئیں گے اور ان کو اسکولوں میں کچھ ہوتا ہے تو اس کی ذمہ داری والدین کی ہوگی۔ جب اتنے خرچیلے علاج وہ بھی تحفظ کی گارنٹی نہیں ہے تو بھلا والدین کیسے خطرہ مول لے سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ والدین اپنے بچوں اور بچیوں کو اسکول بھیجنے کو تیار نہیں ہورہے ہیں بلکہ وہ تو اسکولوں کو کھولنے کی مخالفت کررہے ہیں۔ اب تک جتنے بھی سروے ہوئے سرپرستوں کی اکثریت نے اسکولوں کو کھولنے کی مخالفت کی۔ ریاستی سرکاریں اسکولوں کو کھلوا رہی ہیں۔ وہ ایسا کرنے سے روک نہیں سکتے اور وہ وہی کررہے ہیں جو ان کے اختیار میں ہے یعنی اپنے بچوں اور بچیوں کو اسکول نہ بھیجنا۔ اب سرکاروں اور اسکول انتظامیہ کے لیے سب سے بڑا چیلنج سرپرستوں کے دماغ سے کووڈ-19کی دہشت کو نکالنااور بچوں کو اسکول بھیجنے کے لیے آمادہ کرنا ہے۔
اگرچہ متعدد ریاستوں میں اسکول کھول دیے گئے ہیں اور طلبا و طالبات کی کم حاضری کے ساتھ وہاں کلاسیز شروع ہوگئی ہیں اور مستقبل قریب میں کھولنے کا منصوبہ بنارہی ہیں یا تیاری کررہی ہیں۔ لیکن کچھ ریاستیں ایسی ہیں جو اسکولوں کو کھولنے کا کوئی اشارہ نہیں دے رہی ہیں۔ ان میں قومی راجدھانی دہلی شامل ہے جہاں کے وزیراعلیٰ اروندکجریوال کئی بار کہہ چکے ہیں کہ جب تک میں حالات سے مطمئن نہ ہوجاؤں، اسکول نہیں کھلیں گے۔ اب جبکہ قومی راجدھانی سمیت ملک بھر میں کورونا کے کیس بڑھ رہے ہیں اور یہ اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ موسم سرما میں اور بڑھ سکتے ہیں۔ سوال یہی پیدا ہوتا ہے کہ ایسے حالات میں باقی ریاستیں اسکولوں کو کھولنے پر آمادہ ہوں گی اور جو اسکول کھل گئے ہیں اور کورونا کے کیس بڑھنے پر کھلے رہیں گے۔ جن ریاستوں نے اسکول نہیں کھولے ہیں، وہ ’دیکھو اور انتظار کرو‘ کی پالیسی پر عمل کررہی ہیں اور جنہوں نے کھول دیے ہیں، وہ تجربہ کررہی ہیں کہ دیکھیں کیا ہوتا ہے۔ سی بی ایس ای نے 30فیصد اور ریاستی بورڈوں نے بھی اسی حساب سے نصاب کم کردیا ہے جس کے حساب سے آن لائن کلاسیز ہورہی ہیں۔ ملک میں بچوں کی تعلیم کا نقصان ہوا ہے۔ اس کی تلافی کیسے ہوگی؟ یہ ہر کسی کے لیے فکرمندی کا باعث ہے۔
[email protected]
 

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS