داعش کو کمزور سمجھنے کی بھول نہ کریں، جرمن انٹلیجنس سربراہ

0
dw.com

جرمنی کی خارجہ انٹلیجنس ایجنسی کے سربراہ برنو کال نے متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ شدت پسند تنظیم اسلامک اسٹیٹ (داعش) اپنے خلیفہ کے بغیر بھی اب بھی اتنی ہی مضبوط ہے جیسی پہلے تھی۔ ماہرین کا بھی کہنا ہے کہ اس نے خود کو ایک طاقتور نیٹ ورک میں تبدیل کرلیا ہے۔

جرمن انٹلیجنس ایجنسی کے سربراہ کا یہ بیان اس لحاظ سے اہم ہے کہ وہ شاذ و نادر ہی انٹرویو دیتے ہیں۔ اس انٹرویو میں انہوں نے کہا ہے کہ امریکا میں نائن الیون کے واقعے کے بیس برس گزر جانے کے باوجود بھی ورلڈ آرڈر کو دہشت گرد ی سے حقیقی خطرہ برقرار ہے۔

جرمن خارجہ انٹلیجنس ایجنسی کے سربراہ برنو کال نے ایک جرمن روزنامے کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ حالانکہ امریکا اور یورپ میں اس طرح کے بڑے دہشت گردانہ حملے حالیہ برسوں میں نہیں ہوئے جیسا کہ دو دہائی قبل دیکھنے کو ملے تھے تاہم ”اسلامی دہشت گردی نے خود کو پہلے سے زیادہ مضبو ط کرلیا ہے اور اس سے انسانی زندگی کی خطرہ لاحق ہے۔ دہشت گردوں کی تعداد اور ان سے درپیش خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔”
Deutschland Berlin | Untersuchungsausschuss Anschlag Breitscheidplatz | Bruno Kahl

برنو کال کا کہنا تھا کہ بلاشبہ گزشتہ چند برسوں کے دوران اسلامک اسٹیٹ (داعش) کے خلاف جنگ میں ہمیں بڑی کامیابیاں ملی ہیں اور بالخصوص سن 2019 میں داعش کے خود ساختہ خلیفہ ابوبکر بغدادی کی ہلاکت اور شام اور عراق میں ایک نیم ریاستی حیثیت کے طور پر ”خلافت” کا انہدام ایک بڑی کامیابی تھی۔ تاہم اس کے بعد داعش نے اپنے نیٹ ورک کو القاعدہ کی طرح ہی مختلف گروپوں یا حصوں میں منقسم کر دیا اور اس کی ذیلی تنظیمیں ”اب بھی پھیل رہی ہیں۔“

جرمن خارجہ انٹلی جنس کے سربراہ کا کہنا ہے کہ نائن الیون کے بیس برس گزر جانے کے باوجود بھی ورلڈ آرڈر کو دہشت گرد ی سے حقیقی خطرہ برقرار ہے

اس کا علاج کیا ہے؟
جرمن خارجہ انٹلی جنس کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اسلامک اسٹیٹ جیسی دہشت گرد تنظیموں کو پھیلنے سے روکنے کے لیے صرف ایک ہی راستہ ہے۔یہ ہے”ریاستی طاقت کی اجارہ داری کا نفاذ، ریاستی ڈھانچوں کا قیام، سلامتی کی ضمانت۔”

انہوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں یورپی ممالک اور مغربی طاقتیں برکینا فاسو، نائیجر اور نائیجیریا جیسے ممالک کی مدد کرسکتی ہیں۔”ہمیں ان ریاستوں کی کنٹرول حاصل کرنے کے لیے یا کم از کم جو کچھ بچا ہوا ہے اسے برقرار رکھنے میں مدد کرنی چاہیے۔”

تاہم انسداد دہشت گردی امور کی ماہر ہمبرگ کے جرمن انسٹی ٹیوٹ فار گلوبل اینڈ ایریا اسٹڈیز سے وابستہ میرنا المصری کا کہنا ہے کہ یہ کوئی نئی اطلاع نہیں ہے۔

انہوں نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا،” سن 2019 میں ہی یہ اشارے ملنے لگے تھے کہ اپنے علاقوں سے محروم ہوجانے کے بعد داعش خود کو خاطر خواہ طورپر مضبوط کررہی ہے۔ دوسری طرف گزشتہ برس نئے حالات نے صورت حال کو مزید سنگین بنادیا ہے۔“
Syrien | al-Hol Camp | Kinder

المصری کا کہنا تھا،”ایک بات تو یہ ہے کہ مشرق وسطی خطے میں کورونا وائرس کے پھیلاو نے عراقی حکومت کو کمزور کردیا ہے اور لوگوں کی مایوسی بڑھ گئی ہے۔ اس کے سبب شمالی شام میں پناہ گزین کیمپ داعش کے لیے اچھے ریکروٹمنٹ سینٹر بن گئے ہیں۔ کورونا وائرس کی وبا جتنی طویل ہوگی داعش کو ا س سے اتنا ہی زیادہ فائدہ ہوگا۔”

نئے لائحہ عمل
المصری کے مطابق داعش نے اپنے لائحہ عمل کو تبدیل کرنا سیکھ لیا ہے۔ کمانڈروں کو خطے میں مخصوص آپریشنل سیکڑوں میں منقسم کردیا گیا اور اب انہیں فیصلہ لینے کا اختیار بھی دے دیا گیا ہے۔ تازہ ترین رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ داعش کے جنگجو شہری علاقوں سے پوری طرح نکل گئے ہیں لیکن وہ حکومتی فورسز سے بچتے ہوئے دیہی علاقوں میں آزادی سے گھوم پھر رہے ہیں۔

داعش اپنا دائرہ کار بڑھا سکتی ہے، جرمنی اور امریکا کی تنبیہ
انہوں نے کہا کہ داعش نے آمدن کے نئے طریقے بھی تلاش کر لیے ہیں۔ وہ منظم جرائم کررہے ہیں۔ مثلاً تیل اور تجارتی شاہراہوں پر غیر قانونی ٹیکس وصول کررہے ہیں اور اس سے ہونے والی آمدنی کو عراق، شام، ترکی اور متحدہ عرب امارات میں ہوٹلوں، ریئل اسٹیٹ اور حتی کہ کار کی ڈیلرشپ لینے میں بھی استعمال کررہے ہیں۔

(بین نائٹ) ج ا/ ص ز

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS