لفظ جہادکی بحث:افہام و تفہیم کی ضرورت

0

ڈاکٹر ریحان اختر
اسلام نوعِ انسانی کی خیر وفلاح، امن وعدل اور صلح وآشتی کو بڑی تاکید کے سا تھ اقوام وملل اور ملک ومعاشرہ میں قائم ودائم رکھنے کا حکم دیتاہے ،نیزفتنہ وفساد اور ظلم وجور کے سد باب کی تلقین کرتا ہے۔ دیگر مذاہب عالم میں اس قدر واضح ، درخشاں اور تاکیدی تعلیمات اگر معدوم نہیں تو تشنہ اور مفقود ضرور ہیں۔ اسلام دین فطرت ہے وہ معاشرہ انسانی میں امن وامان ، صلح وآشتی اور فطری حقوق کے حصول کی جدوجہد کو کامیابی کا ضامن قراردیتا ہے اور فساد فی الارض اور قتل وغارتگری کودنیا و آخرت میں ناکامی و نامرادی کا ذریعہ قرار دیتاہے۔ اسلام کا نظام ’جہاد‘ بھی بنی نوع انسان کے لئے فلاح وبہبود کا ضامن قرارپاتاہے۔ یہ نظام ظلم و عدوان کی ساری پگڈنڈیوںکو بنظر استحقار دیکھتے ہوئے ملک و معاشرہ میں امن و عدل کی بحالی کے لیے راہیں ہموار کرتا ہے۔
معاندین اسلام خاص کر مغرب کی طرف سے اسلام کے خلاف طرح طرح کی سازشوں اور پروپیگنڈے سے اسلام کو بدنام کر نے کی کوشش کی جاتی رہی ہے تا کہ اس قسم کے پروپیگنڈوں سے مسلمانوں اور اسلام کے خلاف ایک نفرتی ما حول پیدا کیا جا ئے ان تمام سازشوں میں جس چیز کو سب سے زیادہ نشانہ بنا یا جا تا ہے وہ لفظ ’’جہاد ‘‘ ہے کہ اسلام اپنے ماننے والوں کو یہ حکم دیتا ہے کہ قتل و غارت گری کریں۔ مغرب کی اس چنگاری کا اثر وطن عزیز ہندوستان میں بھی گزشتہ کچھ سالوں سے زیادہ دیکھا گیا ہے جس کا سہارا لے کر اس ملک کے مسلمانوں کو جہاد کے نام سے جوڑ کر دہشت گرد اور نہ جا نے کون کون سے القاب سے پکارا جاتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ سب کیوں ہو رہا ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ان سب کی پشت پناہی کچھ غلط فہمیاں کر رہی ہیں۔ کچھ لوگ اسلام کے مختلف پہلوئوں پر بے جا اعتراضات اور نقص و کمی نکال کر عوام الناس کو اس کے خلاف اکسا رہے ہیں۔ چناچہ انہیں لوگوں کی سازشوں نے جہاد اور دوسری اصطلاحات جیسے ’’ کافر‘‘ کو اتنا ڈرائونا اور بھیانک بنا دیا ہے کہ ان الفاظ کا نام آتے ہی لوگ دہشت زدہ ہو جا تے ہیں۔ ملک میں امن و امان ، بھائی چارگی اور اطمینان و سکون کو حاصل کر نے کے لئے ہمارے لئے ضروری ہے کہ ان غلط فہمیوں کا ازالہ کیا جائے جس کی سب سے عمدہ اور خوش کن کوشش یہ ہے کہ مسلمانوں کو اپنے غیر مسلم بھائیوں سے زیادہ سے زیادہ ربط و تعلق پیدا کیا جا ئے ، تعلقات اور روابط میں کمی کے سبب مسلم اور غیر مسلموں کے درمیان جو دیوار حائل ہے اسے منہدم کیا جائے کیوں کہ تعلقات میں کمی غلط فہمیوں کے پھلنے اور پھولنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ جہاد کے معنی و مفہوم کے تئیں ہمارے غیر مسلم بھائیوں کو جو غلط فہمی ہے اس کو دور کرنے کا سب سے کامیاب نسخہ یہ ہے کہ سب سے پہلے اآپسی ربط و تعلق کو مضبوط کریں اور سماج و معاشرہ کے ذمہ دار افراد اور خاص کر مذہبی پیشوا یا کسی بڑی تنظیم کے سر براہ ایک ساتھ بیٹھ کر اور آپسی تبادلہ خیال سے جو بھی غلط فہمیاں ہیں ان کو دور کریں ، اس طرح کی کوشش ماضی میں بھی کی گئی لیکن پھر ان کی رفتار میں کمی آتی گئی لیکن ملک کے موجودہ حالات کے پیش نظر ایک بار پھر چند روز قبل ملک کی سرکردہ و معزز شخصیات کے ایک وفد نے ملک کی سب سے بڑی تنظیم آر ایس ایس کے چیف موہن بھاگوت سے ملاقات کر کے اس طرف ایک اچھی پہل کی اور ملک کی یکجہتی ، امن و امان جیسے حساس مسائل پر تبادلہ خیال کیا ۔دونوں فریق کی جانب سے اس بات پر زور دیا گیا کہ گزشتہ کچھ سالوں سے ملک کی جو صورتحال ہے اور ایک خاص کمیونٹی کے تئیں نفرت میںجو اضافہ ہوا ہے اس پر کیسے قابو پا یا جائے۔ ہماری جو گنگا جمنی تہذیب ہے اس راہ کے مسافر بن کر ملک کی تعمیر و ترقی میں قربانی پیش کریں اس لئے ہمیں نہ صرف مکالمہ کو فروغ دینے کی ضرورت ہے بلکہ جو غلط فہمیاں ہیں خاص کر جہاد کے تعلق سے ان کا بھی ازالہ کیا جائے۔ اور ہماری خود کی بھی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے غیر مسلم برادران کے سامنے جہاد کے معنی و مفہوم کو اچھے انداز میں پیش کریں اور ان کو بتائیں کہ در اصل جہاد کا جو مطلب عوام الناس کے قلوب میں راسخ کر دیا گیا ہے وہ جہاد کا مفہوم نہیں ہے بلکہ جہاد کا مطلب تو ملک میں امن امان ، بھائی چارگی ، سکون و آرام کے قیام اور عوام الناس کو ظلم و جبر ، بے جا استحصال اور نا انصافی سے خلاصی کے لئے کی جا نے والی انتھک کوشش کا نام ہے۔ جس کی پوری پوری تائید حکومت ہند کے قومی مشیر جناب اجیت ڈھوبال کے بیان سے بھی ہو تی ہے جسے انہوں نے ایک خانقاہ کی جانب سے منعقدہ پروگرام میں دیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ملک کی تعمیر و ترقی میں ہر مذہب کی قربانی شامل ہے اور ملک کے امن و امان کی بحالی میں ہر مذہب کے ماننے والوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے اور لفظ جہاد کے استعمال کے تعلق سے انہوں نے کہا تھا کہ اس لفظ کا پہلی بار استعمال تب ہوا جب ۱۹۱۵ میں افغانستان میں ہند کے چھ علماء نے ایک حکومت بنائی جس کا صدر راجہ مہندرپر تاپ کو بنایا اور بد عنوانی ، نا انصافی اور تشدد کے خلاف انہوں نے جہاد کیا نہ کہ کسی مذہب کے خلاف اور یہی در اصل جہاد کا مقصود بھی ہے اور ہمیں فخر ہے کہ ہمارے اسلاف نے اس طرح کی فکر سے روشناس کرایا جبکہ کچھ لوگ جہاد کا غلط مطلب نکال کر غلط فہمیاں پیدا کر نے کی کوشش کر تے ہیں۔ موجودہ دور میں عوام کے قلوب میں جو ایک دوسری بڑی غلط فہمی نے جنم لیا ہوا ہے وہ لفظ ’’ کافر ‘‘ کے تعلق سے ہے کہ جب مسلمان اس لفظ کا استعمال دوسرے مذہب کے پیروکار و متبعین کے لئے کر تے ہیں تو وہ خیال کر تے ہیں کہ گویا ان کو برا بھلا اور مطعون کیا جا رہا ہے حالاں کہ ایسا بالکل بھی نہیں ہے اس غلط فہمی کے پس پردہ وہی راز مضمر ہے کہ وہ اس لفظ کے مطلب سے نا آشنا ہیں۔ اس کا مطلب انکار کر نے والا کے ہیں یعنی جو شخص اللہ کے احکامات کا انکار کرے اس کو کافر کہتے ہیں یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کو ئی مسلم کسی دوسرے مذہب کی ہدایات کا انکار کرے تو وہ اس کو کافر یعنی انکار کر نے والا کہہ سکتے ہیں۔ قرآن میں انکار کے لئے اسی لفظ کا استعمال ہوا ’’ فمن یکفر بالطاغوت ‘‘ جو شیطان کا انکار کر تا ہے۔
[email protected]