تکبر کی مذمت

0

تکبر اور گھمنڈ کسی کے لیے زیبا نہیں دیتا دنیا میں گردن اونچی کرکےچلنےوالاانسان اپنےآپ کوبڑاسمجھنےوالاانسان اکڑکرچلنے والا انسان کل بروزقیامت اس کابدن چیونٹی جیساہوگا اوراسےذلت ورسوائی کےعذاب میں گرفتارکیاجائےگا اللہ عزوجل شانہ کوتکبر بےحدناپسندہے ذراسوچواورغورکروکہ خودکوبڑاسمجھ کرکیاحاصل ہوگا؟ اس سےبہترہےکہ تواضع اورعاجزی اختیارکریں انکساری کادامن تھامےرہیں اورکبھی یہ خیال دل میں نہ آئےکہ۔ہم بھی کچھ ہیں۔خبردار اللہ نہ کرےکہ ایساخیال ہمارےدل میں آئے یادرکھیے ! جس دن ایساخیال ہمارےدل میں آئےگااسی دن ہم اپنی تباہی اور بربادی کودعوت دےچکےہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کومتواضع بنائے۔

تکبرکامعنی ہے۔دوسروں کوحقیرسمجھتے ہوئےاپنےآپ کوسب سےبڑا اوراعلیٰ تصورکرنا

اللہ تعالیٰ نےقرآنِ مجیدکی متعددآیات میں تکبرکی مذمت کی ہےاورمتکبرکوبُراگردانہ ہے۔چنانچہ ارشادہے۔ترجمہ۔البتہ میں ضروران لوگوں کواپنی آیات سےپھیردوں گاجوزمین میں ناحق تکبرکرتےہیں(پ9 آیت 46)

دوسری جگہ ارشادفرماتاہےترجمہ۔ وہ تکبر کرنےوالوں کوپسندنہیں فرماتاایک اورمقام پرفرمان الہی ہے۔ترجمہ۔ وہ جومیری عبادت سےتکبرکرتےہیں بہت جلدجہنم میں ذلیل ہو کرداخل ہوں گے(پ24 آیت 60)

مسلم شریف جلداول میں حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ سےمروی ہےکہ حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایاترجمہ۔ جس شخص کےدل میں رائی کےدانےکےبرابرتکبراورغرورہوگاوہ جنت میں داخل نہیں ہوگااورجس شخص کےدل میں رائی کےدانےکےبرابرایمان ہوگاوہ جہنم میں نہیں جائےگا ۔آج جوکچھ ہم ٹوٹی پھوٹی عبادت یااچھائی کرنےکی سعادت حاصل کرتےہیں اس میں بھی تکبروہ غورکوداخل نہ ہونےدیں ۔اگرعابدکواپنی عبادت وریاضت زہدوتقوی پرغروروتکبرپیداہوجائےاور وہ اکڑنےلگے ۔لوگوں میں اپنی بڑائی کاطلبگاررہے اورلوگوں سےغلامانہ سلوک کرےتواللہ عزوجل اس کی عبادت وریاضت نہیں دیکھتا ہےبلکہ جوتکبرکرےخواہ مال واقتدارکی وجہ سےیاشہرت کی وجہ سےاللہ تعالیٰ اسےجنت میں نہیں جانےدےگا۔لہذاہراس عمل سےبچناچاہیےجوجنت میں جانےسےروکتاہے۔ تکبریقیناًجنت میں جانےسےروکنےوالاعمل ہے

متکبرپرنظرِرحمت نہ ہوگی

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےروایت ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےارشادفرمایا۔تین لوگ ایسےہیں کہ روز قیامت نہ اللہ تعالیٰ ان سےکلام فرمائےگانہ انہیں پاک کرےگانہ ان کی طرف نظرِرحمت فرمائےگا۔بوڑھازانی۔جھوٹابادشاہ۔

اورتکبرکرنےوالافقیر ۔ہرکوئی چاہےگاکہ قیامت کےدن رب کی رحمت اس کی طرف مائل ہو اور اللہ تبارک و تعالیٰ ہم سےکلام فرمائے لیکن تین کم نصیبوں سے اللہ تعالیٰ نہ کلام فرمائےاورنہ نظرِرحمت فرمائےگا اورنہ انہیں گناہوں سےپاک کرےگا (1) جوزناکامرتکب ہو ہو اللہ تعالیٰ اس پر رحمت کی نظرکیسے فرمائےگا(2)جھوٹابادشاہ جوجھوٹ بول کر دھوکادیتاہےتواللہ تعالیٰ قیامت کےدن اس پرنظرِرحمت نہیں فرمائےگا(3) تکبر کرنےوالافقیر۔تکبراورگھمنڈکسی کےلیےزیبانہیں دیتالیکن جوشخص غربت اور افلاس سےپریشان ہونےکےباوجوداکڑتاہواور تواضع کی بجائےگھمنڈ اورتکبرکرتاہوجیساکہ آج ہم اکثرایسےلوگوں کودیکھتےہیں توایسے لوگوں پرقیامت کےدن اللہ تعالیٰ نظر رحمت نہیں فرمائےگااورنہ کلام فرمائےگا اللہ عزوجل کی رحمت اورکلام سےبندے کوراحت وجنت ملےگی ۔اس ہوش ربا ماحول میں مذکورہ بالا افراد اللہ تعالیٰ کی نظرکرم سےمحروم رہیں گے اور خدائےقہارکےعذاب میں گرفتارہوں گے

متکبرچیونٹیوں کےمانندہوں گے

الترغیب وترہیب میں حضرت عمر بن شعیب روایت فرماتےہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا۔ میدان محشرمیں تکبرکرنے والوں کواس طرح لایاجائےگا کہ ان کی صورتیں توانسانوں کی ہوں گی مگر ان کے قدچیونٹیوں کےبرابرہوں گےاور ہرطرف سے ذلت ورسوائی ان پرچھارہی ہوگی اوریہ لوگ گھسیٹتےہوئےجہنم کی طرف لائےجائیں گے اورجہنم کے اس قیدخانہ میں قیدکردئےجائیں گے جس کا نام۔بولس۔ (ناامیدی) ہے اوروہ ایسی آگ میں جلائے جائیں گےجس کانام .نارُالانیار۔ ہےاورانہیں دوزخیوں کا پیپ پلایاجائےگا.

اگر آج سے پہلے تکبر میں مبتلا تھےتو آج ہی توبہ کرلوکہ ان شاء اللہ اب کبھی تکبر نہ کریں گے۔اللہ تعالیٰ کریم ہے وہ اپنےبندوں کی توبہ کو پسندفرماتاہے۔اس کافرمان ہے۔ترجمہ۔ اللہ کوتوبہ کرنےوالےبندےپسندہے۔رب قدیر اپنےپیارے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقہ وطفیل ہم سب کےصغیرہ کبیرہ گناہوں کو معاف فرمائے۔ آمین

تحریر: محمد توحید رضا علیمی

نوری فاؤنڈیشن بنگلور