’ڈجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن۔۔۔‘

0

جس رفتار سے ٹیکنالوجی نے ترقی کی ہے، اسی رفتار سے انٹرنیٹ پر انسان کا انحصار بھی بڑھ گیا ہے۔ ایک جگہ بیٹھ کر انٹرنیٹ کے ذریعے انسان کی رسائی دنیا کے کونے کونے تک آسان ہو گئی ہے۔ آج کے دور میں ہر وہ چیز جس کے بارے میں انسان سوچ سکتا ہے، انٹرنیٹ کے ذریعے حاصل کی جا سکتی ہے۔لیکن اس کے حصول کیلئے انسان بڑی قیمت بھی چکا رہا ہے۔’الیکٹرانکس، ٹیکنالوجی اور انفارمیشن ‘ کے باہمی ارتباط سے پیدا ہونے والی مصنوعی ذہانت اور ڈجیٹل دنیا کی طرف بڑھنے والا انسان کا ہر قدم خود اس کی زندگی کو تہہ و بالا کررہا ہے۔ ڈجیٹل دنیا کے حمام پرہمہ وقت ایسی نگاہیں لگی ہوئی ہیں جو استعمال کنندہ کو بے پردہ دیکھ رہی ہیں۔انسان کی خلوت و جلوت بے معنی سی ہو کر رہ گئی۔یہ صورتحال اتنی سنگین ہے کہ اس کا بروقت سدباب کیاجاناضروری ہے۔ موجودہ قوانین کا سختی سے نفاذ اور حسب ضرورت ان قوانین میں ترمیم کرکے بھی دیکھاجاچکا ہے لیکن اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑااور نہ ہمہ وقت انسان کے تعاقب پرلگی ان نگاہوں کوجھکایاجاسکا ہے۔
اب اس صورتحال کا سد باب کرنے کیلئے الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت سامنے آئی ہے۔ڈجیٹل ذاتی ڈیٹا اور اس کے تحفظ کے مختلف پہلوؤں پر غور کرتے ہوئے وزارت نے ’دی ڈجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن بل 2022‘ کے عنوان سے ایک مسودہ بل تیار کیا ہے اوراس پر عوام الناس سے رائے بھی طلب کی ہے۔اس مسودہ بل کا مقصد ڈجیٹل ذاتی ڈیٹا کواس طرح سے پروسیس کرنا ہے کہ جس میں افراد کے اپنے ذاتی ڈیٹا کی حفاظت کا حق بھی ہو نیز ذاتی ڈیٹا کو قانونی مقاصد کیلئے استعمال کرنے کی ضرورت کا التزام بھی۔
مسودہ میں کہاگیا ہے کہ یہ بل ہندوستان میں ڈجیٹل پرسنل ڈیٹا کے تحفظ کیلئے ایک جامع قانونی نظام قائم کرے گا۔نیز اس بل میں افراد کے ذاتی ڈیٹا، سماجی حقوق اور جائز مقاصد کیلئے ذاتی ڈیٹا کے استعمال کی ضرورت کے تحفظ کے حق کو تسلیم کیاگیا ہے۔ڈجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن بل کے مسودہ میں ایک طرف شہری(ڈجیٹل شہری) کے حقوق اور فرائض کا ذکر ہے تو دوسری جانب اس میں قابل اعتماد ڈیٹا کے جمع کردہ ڈیٹا کو قانونی طور پر استعمال کرنے کی ذمہ داریاں بھی بیان کی گئی ہیں۔ جمعہ کو جاری ہونے والے اس مسودہ بل میں بظاہر پوری توجہ ذاتی ڈیٹاکے تحفظ پر مرکوز ہے اورڈیٹا تک رسائی حاصل کرنے والے نجی اداروں پر سخت جرمانہ بھی عائد کیاگیا ہے۔ لیکن بین بین اس میں وہ شقیں بھی شامل ہیں جو 2019کے مسودہ بل میں تھیں اور اسے اعتراضات کے بعد حکومت کو واپس لینا پڑا تھا۔ اس بل میں جرمانہ کی رقم کو 15کروڑ سے بڑھاکر500کروڑ کی تجویز ضرور رکھی گئی ہے لیکن حکومت نے ڈیٹا لوکلائزیشن کے معاملے میں نرمی کا بھی اظہار کیا ہے۔
مسودہ جاری کرتے ہوئے الیکٹرانکس اور آئی ٹی کی وزارت کے عہدیداروں نے یہ اعلان کیا کہ عالمی منظر نامہ کو سامنے رکھتے ہوئے یہ مسودہ تیار کیاگیا ہے اور اس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق رازداری اور پرائیویسی کو بنیادی حق کے طور پربھی برتے جانے کا التزام ہے لیکن اس کی کئی ایک شق ایسی ہیں جو ڈیٹا ٹرسٹیز کو بعض عوامل کی تشخیص کے بعد ڈیٹا کو دوسرے ممالک میں منتقل کرنے کی اجازت بھی دیتے ہیں۔ اس قدم سے جہاں بڑی بین الاقوامی ٹیک کمپنیوں کو بھاری ریلیف ملے گی، وہیں فرد کی پرائیویسی پر زد پڑنی لازمی ہے۔اس سے یہ بھی ہوگا کہ ہر ہندوستانی کی ذاتی معلومات، پاس ورڈ، بینک کی تفصیلات، سرکاری شناختی کارڈ، آدھار کارڈ، سیاسی جھکائواور اس کے سماجی اور معاشرتی پس منظر تک غیر ملکی کمپنیوں کی رسائی ہوجائے گی۔اس مسودہ بل پراب تک جو اعتراضات سامنے آئے ہیں، ان میں یہ بھی ہے کہ اس میں بڑی ٹیک کمپنیوں اور غیر ملکی کمپنیوں کی لابنگ کی وجہ سے مقامی طور پر ڈیٹا رکھنے کی ضرورت سے سمجھوتہ کیا گیا ہے۔
یہ صورتحال بعینہٖ وہی ہے جو پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن بل 2019 کے سلسلے میں سامنے آئی تھی اور لوک سبھا میں بل پیش کیے جانے کے بعد اٹھنے والے اعتراض کی وجہ سے اسے جوائنٹ پارلیمنٹری کمیٹی کو بھیجاگیا تھا اور بعدازاں حکومت کو اسے واپس لینا پڑا تھا۔ بہتر تو یہ ہوگا کہ اس مسودہ کو بل کی شکل میںایوان میں پیش کیے جانے سے قبل دوسرے ممالک میں ڈیٹا تحفظ پر بننے والے قوانین کا جائزہ لیاجائے اور حسب ضرورت مسودہ میںترمیم کی جائے اور ان تمام باتوں کا خیال رکھاجائے جس سے شہری کے رازداری کے حق پر زد نہ پڑتی ہو۔ ویسے بھی سپریم کورٹ نے رازداری کو شہری کا بنیادی حق قرار دیا ہے۔ رازداری انسان کا ایک مکمل بنیادی حق ہے اور شہری کی انفرادی خودمختاری کا ضامن بھی ہے۔اس سے جزوی طور پر بھی سمجھوتہ اپنے ہی شہریوں کو غیر ملکی کمپنیوں کے یہاں رہن رکھنے کے مترادف ہوگا۔
[email protected]