نوٹ بندی اور جی ایس ٹی نے ملک کی معیشت کو تباہ کردیا: راہل

0

ناندیڑ/ نئی دہلی، (یو این آئی):کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے منگل کو کہا کہ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی نے ہندوستان کی معیشت کو برباد کر دیا ہے ۔مہاراشٹر میں بھارت جوڑو یاترا کے دوسرے دن ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر گاندھی نے کہا کہچھ سال پہلے اس دن وزیر اعظم نریندر مودی رات 8 بجے ٹی وی پر آئے اور 1000 اور 500 روپے کے نوٹ منسوخ کر دیئے ۔ جہاں جی ایس ٹی کو غلط طریقے سے لاگو کیا گیا، جس کی وجہ سے ملک کے چھوٹے اور بہت چھوٹے کاروباری اداروں کو بڑا جھٹکا لگا۔ وزیراعظم کے ان دونوں فیصلوں نے ملکی معیشت کو تہس نہس کر دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی سمجھی جانے والی چھوٹی، درمیانی اور بہت چھوٹی صنعتوں کو بہت زیادہ نقصان پہنچا۔ لاکھوں صنعتیں بند اور لاکھوں نوکریاں ختم ہو گئیں۔ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے گھٹیا فیصلوں سے ملک کو بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑا،
جب کہ صرف دو تین صنعتکاروں کو فائدہ ہوا۔انہوں نے الزام لگایا کہ کسانوں کے قرضے معاف نہیں کیے جاتے ، لیکن بڑے صنعت کاروں کے
لاکھوں کروڑوں کے قرضے معاف کیے جاتے ہیں۔ پبلک سیکٹر کے اداروں کو سرمایہ داروں کو بیچا جا رہا ہے جس کی وجہ سے نوجوانوں کا
روزگار کم ہو رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس ملک میں نفرت پھیلا نے کا کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ بی جے پی
والے کس ملک کے محب وطن ہیں جو اپنے ہی ملک میں ذات پات اور مذہب کے لوگوں کے درمیان تنازعات کو ہوا دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ
لوگ ہمارے ملک کے محب وطن نہیں ہو سکتے اگر وہ اس طرح کے سوالوں کے بارے میں سوچتے ہیں۔
دوسری جانب کانگریس کے ترجمان گورو بلبھ نے منگل کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ وزیر اعظم نے 8 نومبر
2016 کو رات 8 بجے اپنے قومی خطاب میں 500 اور 1000 روپے کے نوٹوں کو ختم کرنے کا اعلان کر کے سب کو حیران کر دیا تھا۔
اس فیصلے نے خوف و ہراس پیدا کیا اور نقدی سے متعلق بہت سے مسائل پیدا کیے اور بے شمار چھوٹے اور درمیانے کاروبار کو تباہ کر دیا۔ نوٹ
بندی کی وجہ سے نقدی کے بحران کے باعث 150 سے زیادہ لوگوں کی موت ہو گئی۔ترجمان نے کہا کہ نوٹ بندی کی وجہ سے ملک کی
معیشت تباہ ہو گئی ہے اور اس کے نتائج کے بارے میں مسٹر مودی کے دعوے میں سے کوئی بھی سچ ثابت نہیں ہوا ہے ۔ حیران کن بات یہ ہے کہ
وزیر اعظم نے ابھی تک اس اعلان کی ناکامی کا اعتراف نہیں کیا۔ یہ ایک منظم لوٹ مار تھی اور مودی سرکار کے اس لوٹ کو چھ سال مکمل ہو
چکے ہیں اور ان سالوں میں نقد رقم میں 72 فیصد کا اضافہ ہوا ہے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ نوٹ بندی سے بدعنوانی پر
قابو پالیا جائے گا، لیکن گزشتہ چھ سالوں میں کالے دھن میں کوئی کمی نہیں آئی ہے اور 2021 میں ہندوستان کی بدعنوانی کا درجہ 85 تک
پہنچ گیا ہے ، جو 2016 میں 79 تھا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت دعوی کرتی تھی کہ نوٹ بندی سے جعلی نوٹوں کو ہٹانا ہے ، لیکن ہوا اس کے
برعکس۔ترجمان نے کہا کہ 2021-22 میں جعلی نوٹوں میں 10.7 فیصد اضافہ ہوا، 500 روپے کے جعلی نوٹوں میں 102 فیصد
اضافہ ہوا۔ پچھلے مالی سال کے مقابلے 2021-22 میں 2000 روپے کے جعلی نوٹوں میں 55 فیصد اضافہ ہوا ہے ۔