آئین کی حفاظت پر منحصر ہے جمہوریت

0

آجہندوستان جمہوریت کی72ویں سالگرہ منارہا ہے۔ان 72 برسوں کے طویل دورانیہ میں ہندوستان کی جمہوریت بہت سے نشیب و فراز سے گزری، کبھی ایمرجنسی کی آندھی چلی تو کبھی آئین کو طاق پر رکھ کر حکمرانوں نے اپنے قانون نافذ کردیے لیکن مجموعی طور پر ہندوستان کے عوام نے جمہوریت پر اپنے ایمان و ایقان کوکوئی چوٹ پہنچنے نہیں دی۔آج جب کہ بظاہر جمہوریت خطرے میں گھری نظر آرہی ہے۔جمہوریت کی راہ سے چل کر ایوان اقتدار تک پہنچنے والے اس جمہوریت کوہی ’ منتخب آمریت‘ میں بدلنے کیلئے کوشاں ہیں، آئین کو چیلنج کاسامنا ہے۔ مٹھی بھر شرپسندوںاور بنیاد پرستوں کا گروہ آئین سے کھلواڑ کو معمول بناچکا ہے، آئین کے تقدس اور حرمت کی پامالی ان کا پسندیدہ مشغلہ بن چکا ہے۔ لیکن اس کے باوجود ہندوستان کے عوام میں یہ یقین روزاول کی طرح قائم ہے کہ ملک کو جمہوریت کی راہ سے ہٹایا نہیں جاسکتا ہے کیوں کہ ہمارے آئین سازوں نے جمہوریت کو فقط ایک نظام حکومت کے طورپر ہی نافذ نہیں کیا بلکہ اس کی پشت پرآئین کے نام سے اتحاد، ہم آہنگی، مساوات اور حقوق کی ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بھی کھڑی کردی ہے جس کے پار اترنا ممکن نہیں ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ اس دیوار کو کمزور کرنے کیلئے اس پر پیہم ضرب لگائی جارہی ہے جسے روکنا ہرحال میں ضروری ہے۔
معمار آئین باباصاحب بھیم رائو امبیڈکر نے 26 جنوری 1950 کو آئین کی منظوری سے قبل کہاتھا کہ جمہوریت صرف ایک نظام حکومت نہیں ہے۔ جمہوریت ایک ایسا نظام زندگی ہے جس میں آزادی، مساوات اور اخوت معاشرتی زندگی کے بنیادی اصول ہوتے ہیں۔ یہ اصول ہندوستان کے رگ و پے میں دوڑتا ہے۔ ہر ہندوستانی نے جمہوریت کے اس بنیادی اصول اور فلسفہ کو حرز جان بنارکھا ہے۔ جمہوریت کے ان72برسوں میں ہم نے کئی ریکارڈ بھی قائم کیے ہیں جن پر اہل وطن کو فخر ہے اوریہ امید ہی نہیں بلکہ یقین محکم ہے کہ ہمیں جمہوریت کی راہ سے ہٹانے کی ہر کوشش ناکام ہوگی۔ لیکن اس یقین کو قائم رکھنے کیلئے ابھی ہمیں اور بھی کئی طویل جدو جہد سے گزرنا ہے۔ ہر محاذ پر اپنی کمیوں اور خامیوں کا جائزہ لیتے ہوئے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔خواندگی سے لے کر خواتین کی حفاظت اور اظہار رائے کی آزادی سے لے کر پسماندہ طبقات کے حقوق کی بازیابی اور سماجی انصاف عام کرنے جیسے کئی مراحل ہیں جن سے گزرے بغیر اس یقین کو قائم رکھنامشکل ہوجائے گا۔
یہ بات کسی اظہار کی محتاج نہیں ہے کہ آج آئین بدلنے کی کوششوں کو پر لگ گئے ہیں۔ مٹھی بھر لوگوں کا ایک گروہ آئین کو اپنی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ محسوس کررہاہے۔ کھلے عام آئین کا مذاق بنانااس کا معمول بن چکا ہے۔ عدالت اور نظام انصاف کی توہین میں یہ گروہ فخر محسوس کرتا ہے۔ آئین میں دی گئی مساوات، آزادی، اخوت، اظہار رائے، سیکولرزم، سوشلزم جیسی بنیادی ضمانتوں کو ختم کرکے یہ گروہ اپنی مرضی کاایسا آئین بناناچاہتاہے جس میں آزادی، مساوات اور اخوت کی تعبیر اس کی مرضی کے مطابق ہو۔یہ گروہ ایک ایسے ہندوستان کا خواب دیکھ رہا ہے جس میں اس کی پسند کے لوگ ہی ہندوستانی کہلائے جانے کے حقدار ہوں، شہریوں کی شناخت ہندوستانی کی حیثیت سے نہیں بلکہ مذہب اور ذات پات کی بنیاد پر ہو۔اس گروہ کی یہ کوشش ہے کہ سیکولرزم، سماجی انصاف اور سوشلزم ماضی کا قصہ بن جائیں۔
ایسی ہر کوشش اور یہ کوشش کرنے والا ہر گروہ نہ صرف آئین اور جمہوریت کا دشمن ہے بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کراس کی یہ مذموم کوششیں ملک دشمنی کی شکل اختیار کررہی ہیں جسے ناکام بنانا ہر ہندوستانی کا فرض ہے۔
جمہوریت کی 72ویں سالگرہ یہ تقاضا کرتی ہے کہ ہم اپنی آزادی اور جمہوریت کی حفاظت کیلئے پہلے سے زیادہ چوکنے اور سرگرم ہوجائیں۔ یہ آزادی اور جمہوریت اسی وقت تک باقی رہے گی جب تک ہمارا آئین سلامت رہے گا۔آئین کی روح اور اس کے بنیادی ڈھانچہ کے خلاف ہر کوشش سے نبردآزماہونا اورجان کی قیمت پر بھی آئین کی حفاظت ہر ہندوستانی کا فرض ہے۔اس فرض کی ادائیگی کے بغیر ہم جمہوریت کے ثمرات سے بہرہ ور نہیں ہوسکتے ہیں۔
[email protected]