Image:theeconomictimes

کسان لیڈر ٹکیت کا اعلان،مظاہرہ مزید تیز کرنے کی تیاری
نئی دہلی :کسان لیڈر راکیش ٹکیت نے ایک بات چیت میں کہاکہ جب بی جے پی والے اپوزیشن میں تھے، اس وقت ہمارے ساتھ تھے۔ بی جے پی نے بھی اس وقت کی سرکار کو اکھاڑ پھینکنے میں ہماری مدد لی۔ انہوں نے کہاکہ اب ان کی سرکار آئی ہے، تو یہ بھی وہی کام کررہے ہیں، جو گزشتہ سرکاروں نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ 26مارچ کو بھارت بند ہوگا تو ہم چلہ بارڈر بھی بند کریں گے، جو نوئیڈا کو دہلی سے جوڑتا ہے۔ وہاں تحریک تیز کریں گے۔
کسان لیڈر ٹکیت نے کہاکہ ضرورت پڑی تو ہم چلہ بارڈر پر غازی پور بارڈر کی طرز پر تحریک شروع کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ نوئیڈا میں جو لوکل بچے ہیں، انہیں روزگار نہیں مل رہاہے،جو انڈسٹری ہے،اس کے ایچ آر مقامی بچوں کو ملازمت نہیں دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مظفرنگر، میرٹھ، غازی آباد، باغپت اور نوئیڈا کے جاٹ اور گوجروں کو یہاں نہیں رکھا جاتا ہے، جن کی زمین گئی ہے، انہیں ملازمت میں جگہ نہیں دی جاتی۔ خاص طور پر نوئیڈا کے لوگوں کو۔ سوال یہ ہے کہ یہ لوگ کہاں جائیں گے؟۔ انہوں نے مزید کہاکہ گجرات کے کسان برباد ہوگئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ گجرات کے کسانوں کو آزادی دلانے کیلئے وہاں بھی جائیں گے۔ ٹکیت نے اگلے ماہ یعنی اپریل میں گجرات جانے کی جانکاری دی۔
راکیش ٹکیت نے مغربی بنگال میں جاکر کسان مہاپنچایت کی اور مرکز کی برسراقتدار بی جے پی کو ووٹ نہ دینے کی اپیل کی۔ اس سے متعلق ایک سوال پر راکیش ٹکیت نے کہاکہ کسانوں سے ہماری بات چیت ہوئی۔ ہم نے وہاں کے کسانوں سے جاننا چاہا کہ ماحول کیسا ہے؟ وہاں ناراضگی ہے، جو اترپردیش اور بہار میں ہے۔ وہاں پر کچھ لوگ بی جے پی کی حمایت میں بھی مصروف ہیں، جو بنگال کے لوگ ہیں، وہ ممتابنرجی کے ساتھ ہیں۔

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS