چھوٹی رہائشی تعمیراتی سرگرمیوں پر عائد پابندیاںختم ہوں

0
Image:IndiaTVNews

بلڈرس فورم کی سپریم کورٹ میں عرضی،انوائرمنٹ اسٹڈی کی رپورٹ کا دیا حوالہ
نئی دہلی (یو این آئی) : دہلی اور قومی دارالحکومت علاقہ(این سی آر) میں خطرناک آلودگی کی سطح کو کم کرنے کیلئے عائد پابندیوں کے دائرہ کار سے چھوٹے رہائشی منصوبوں کو الگ کرنے کیلئے بلڈروں نے سپریم کورٹ سے استدعا کی ۔ چیف جسٹس این وی رمنا کی سربراہی والی عدالت عظمیٰ کی تین رکنی بینچ نے طالب علم آدتیہ دوبے کی مفاد عامہ کی عرضی پر شنوائی کرتے ہوئے 24نومبر کو بجلی، پلمبنگ، ڈیزائننگ وغیرہ کو چھوڑ کر عمارتوں کی تعمیر کی سبھی سرگرمیوں پر پہلے سے جاری روک بحال کرنے کا حکم دیا تھا۔اسی معاملے میں’ڈیولپر اینڈ بلڈر فورم‘ نے ایک عرضی دائر کر کے سپریم کورٹ سے کہا کہ رہائشی یونٹوں کی تعمیراتی سرگرمیوں سے آلودگی کی مقدار نہ ہونے کے برابرہوتی ہے۔ عرضی گزار نے سینٹر فار سائنس اینڈ انوائرمنٹ اسٹڈی کی آلودگی سے متعلق جاری کردہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ تعمیراتی سرگرمیوں کی وجہ سے صرف 6.7سے 7.9فیصد آلودگی ہوتی ہے۔ فضائی آلودگی کی خطرناک سطح کیلئے دہلی اور قومی دارالحکومت علاقہ میں گاڑیاں،صنعتی اکائیوں کی بڑی تعداد کے علاوہ ہمسایہ ریاستوں میں پرالی جلانا ذمہ دار ہے ۔ایڈووکیٹ نتن سلوجا کے ذریعے دائر عرضی میں چیف جسٹس سے استدعا کی گئی کہ 24نومبر کو تین رکنی بنچ نے تمام متعلقہ فریقوں کی رائے سنے بغیر تمام تعمیراتی سرگرمیوں پر دوبارہ پابندی عائد کر دی تھی ۔ اس وجہ سے کورونا وبا کے سبب بار بار نافذ کئے گئے لاک ڈاؤن سے دو برسوں سے پریشان عمارتوں کی تعمیر سے وابستہ تاجروں کو شدید دھچکا لگا ہے ۔ اس کا اثر تعمیراتی کام سے وابستہ دیگر لوگوں کی ایک بڑی تعداد پر پڑا ہے ۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدالتی حکم پر دہلی حکومت نے صرف مزدوروں کیلئے معاوضے کا اعلان کیا ہے ، لیکن عارضی سپروائزر، منیجر اور عمارت کی تعمیر میں بالواسطہ طور پر منسلک بڑی تعداد میں لوگوں کی فکر نہیں کی گئی ہے ۔ مزدوروں کے علاوہ بڑی تعداد میں لوگوں کی روزی روٹی متاثر ہوئی ہے ۔ ان کے سامنے روزی روٹی کا سنگین بحران پھر سے کھڑا ہو گیا ہے۔ ان تمام نکات پر غور کرتے ہوئے رہائشی تعمیرات سے متعلق سرگرمیوں میں رعایت دی جائے ۔واضح رہے کہ دہلی حکومت نے آلودگی کی سطح میں کمی کا حوالہ دیتے ہوئے 22نومبر سے تعمیراتی سرگرمیوں سے پابندی ہٹا لی تھی۔عرضی گزار کا کہنا ہے کہ سینٹرل وسٹا کے معاملے میں مرکزی حکومت کی جانب سے سنٹرل پولوشن کنٹرول بورڈ کے رہنما اصولوں پر جس طرح عمل درآمد کرنے کا وعدہ کیا ہے ، وہ بھی تعمیراتی سرگرمیوں میں بھی اسی طرح کے اقدامات کرنے کیلئے تیار ہیں، لیکن انہیں تعمیراتی سرگرمیوں کی اجازت ہونی چاہیے۔
عدالت عظمیٰ نے مرکزی سرکار اوردہلی سرکارسمیت متعلقہ ریاستوں کوآلودگی پر قابو پانے کے اقدامات کو سنجیدگی سے نافذ کرنے کا حکم دیا تھا ۔

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here