6دسمبر کے پیش نظر اجودھیا اورمتھرا میں سیکورٹی سخت

0
india.com

اجودھیا / متھرا (ایجنسیاں) : اترپردیش کے ضلع اجودھیا میں بابری مسجد کی شہادت کی برسی 6دسمبر کے پیش نظر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں۔وہیں اس موقع پر متھرا میں پدیاترا نکالنے اور متھرا کی شاہی عیدگاہ مسجد میں کرشن کی مورتی نصب کرنے اور گنگاجل چڑھانے کے اعلان کے بعد الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔ ساتھ ہی یہاں بھی سیکورٹی سخت کردی گئی ہے۔ واضح رہے کہ مندر- مسجد تنازع پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد اجودھیا میں اب نہ تو پہلے کی طرح بابری مسجد شہادت کی برسی منائی جاتی ہے اور نہ ہی اتنی سرگرمی دکھائی دیتی ہے۔ اس کے باوجود ضلع انتظامیہ کسی بھی شرپسند عناصر کے ذریعہ ناخوشگوار واقعہ کو انجام دینے کے شبہ کے تحت 6دسمبر سے پہلے اجودھیا میں سیکورٹی کے پختہ انتظامات کرتی ہے، جس کی وجہ سے باہر سے آنے والی گاڑیوں اور افراد کی جانچ پڑتال شروع ہوجاتی ہے۔ متنازع زمین پر رام مندر کی تعمیر کا کام جاری ہے، جبکہ اجودھیا میں ہی مسجد کی تعمیر کیلئے پانچ ایکڑ زمین سنی سنٹرل وقف بورڈ کوفراہم کی جاچکی ہے اور مسجد کیلئے دی گئی زمین پر اجودھیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی سے نقشہ پاس کرانے کے عمل کا آغاز ہوگیا ہے۔بابری مسجد کے فریق رہے اقبال انصاری کا کہنا ہے کہ جب سپریم کورٹ نے مندر-مسجد کا فیصلہ کردیا ہے اور اب ایک طرف شاندار مندر کی تعمیر کا کام جاری ہے اور دوسری طرف مسجد بننے جارہی ہے تو ایسے میں اب 6 دسمبر کو یوم سیاہ منانے کی کیا ضرورت ہے ۔انہو ں نے کہا کہ ہندوستان میں اب مندر-مسجد کے نام پر تنازع نہیں ہونا چاہئے ۔ترقی اور روزگار کی باتیں ہونی چاہئے ۔ وہیں وشوہندو پریشد نے بھی ابھی تک چھ دسمبر کو منائے جانے والے پروگرام کا اعلان نہیں کیا ہے ۔ وشو ہندو پریشد کے ریجنل میڈیا انچارج شرد شرما نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کا سب نے احترام کیا ہے اور اجودھیا میں رام مندر کی تعمیر کا کام جاری ہے ۔ ان کی بھی یہی تمنا ہے کہ ملک ترقی و خوشحالی کے راستے پر بڑھتا رہے ۔
دوسری جانب یوپی کے متھرا میں 6 دسمبر کو شاہی عید گاہ مسجد میں کرشن کی مورتی نصب کرنے اور گنگا جل چڑھانے کا اعلان کیا گیاہے۔ اس طلاع کے بعد شہر بھر میں انتظامیہ کی جانب سے دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔ مسجد کے ارد گرد یوپی پولیس، پی اے سی اور آر اے ایف کے جوانوں کو تعینات کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق یوپی میں آئندہ اسمبلی انتخابات کے پیش نظرشدت پسند تنظیموں کے ذریعہ اس مسئلہ کو طول دیا جا رہا ہے۔ حال ہی میں یوپی کے نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ نے ٹوئٹ کر کے اجودھیا کے بعد متھرا میں کرشن جنم بھومی مندر تعمیر کرنے کا اشارہ کیا تھا۔ہندوتوا تنظیموں کے اس اعلان کے بعد متھرا میں سخت چوکسی برتی جا رہی ہے۔ مسجد کی جانب جانے والے ہر شخص کا شناختی کارڈ چیک کیا جا رہا ہے اور جامہ تلاشی بھی لی جا رہی ہے۔ متھرا پولیس سوشل میڈیا پر بھی کڑی نگرانی رکھ رہی ہے۔ایس ایس پی متھرا کے مطابق اب تک سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز پوسٹ کرنے پر شہر کے گووند نگر اور کوتوالی پولیس تھانہ میں 4 ایف آئی آر درج ہو چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 6 دسمبر کو شاہی عیدگاہ مسجد اور شری کرشن رام جنم بھومی کے مقام پر گاڑیوں کی نقل و حرکت پر پابندی عائد رہے گی۔ اس کیلئے باضابطہ طور پر ٹریفک ایڈوائزری بھی جاری کی گئی ہے۔خیال رہے کہ 6 دسمبر کو بابری مسجد کی برسی کے موقع پر متھرا میں چار ہندوتوا تنظیمیں اکھل بھارتیہ ہندو مہا سبھا، شری کرشن جنم بھومی نرمان نیاس، نرائنی سینا اور شری کرشن مکتی دل نے شاہی عید گاہ میں جل ابھیشیک (گنگا جل چڑھانے) کا اعلان کیا ہے۔ وہیں اکھل بھارتیہ ہندو مہا سبھا نے انتظامیہ سے مسجد میں کرشن کی مورتی نصب کرنے کی اجازت طلب کی۔ تاہم انتظامیہ نے انہیں اجازت دینے سے انکار کر دیا۔

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
1

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here