کم ہوتی زرخیزی۔۔۔خطرے کی علامت

0

وسائل بڑھانے کی کوششوں کے بجائے آبادی کم کرنے کا منصوبہ سجائے بیٹھے دانش وروں کیلئے نیشنل فیملی اینڈ ہیلتھ سروے 5- کے دوسرے مرحلہ نے نوید مسرت سنائی ہے کہ ملک میں زرخیزی کی شرح 2.2سے گھٹ کر 2رہ گئی ہے ۔یعنی ہندوستان جنت نشان میں ایک عورت اپنی زندگی میں جن بچوں کو جنم دیتی ہے اس کی اوسط تعداد میں .2 کی کمی آگئی ہے، اس کے ساتھ ہی خواتین میں مانع حمل کے استعمال کی شرح (Contraceptive Prevalence Rate, CPR) میں بھی اضافہ ہوا اور یہ 54فیصد سے بڑھ کر 67 فیصد ہوگئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ملک کی خواتین میں 67 فیصد تعداد ایسی ہے جو بچے نہیں چاہتی ہیں ۔
نیشنل فیملی اینڈ ہیلتھ سروے5-میں یہ بھی بتایاگیا ہے کہ ملک میں اب خواتین کی تعداد مردوں سے زیادہ ہے۔ اس تازہ ترین سروے کے اعداد و شمار کے مطابق اب ہندوستان میں 1000 مردوں کے مقابلے میں 1020 خواتین ہیں۔سروے کے اعدادوشمار سے واضح ہے کہ اب ہندوستان میں خواتین کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جب کہ اس سے قبل یہ صورتحال ا س کے برخلاف تھی۔ہر 1000 مردوں کے مقابلے میں 927 خواتین تھیں۔ سال 2005-06 میں ہونے والے نیشنل فیملی اینڈ ہیلتھ سروے 3-میں یہ تعداد برابر یعنی ایک ہزار مردوں کے مقابلے ایک ہزار ہی خواتین ہوگئی تھیں۔ پھر 10سال بعد کیے گئے سروے4- میں 1000 مردوں کے مقابلے میں991خواتین کے ساتھ یہ تناسب پھر سے کم ہوگیاتھا،لیکن اب تازہ سروے 5- میں خواتین کی تعداد مردوں سے زیاد ہ ہوگئی ہے۔اس سروے میں گائوں اور شہروں میں بھی انسان کے جنسی تناسب کا موازنہ کیا گیا ہے اور اس کے مطابق دیہاتوںمیں جنسی تناسب شہروں کے مقابلے بہتر رہاہے۔دیہاتوں میںایک ہزار مرد اور 1037 خواتین کی تعداد ہے جب کہ شہروں میں یہ تناسب 1000 کے مقابلے 985خواتین ہیں۔
گزشتہ دنوں جب لینسیٹ(Lancet)نے 195ممالک میں زرخیزی، شرح اموات اور 2017 سے 2100تک آ بادی کاتجزیہ پیش کرتے ہوئے ہندوستان کی بابت یہ کہاتھا کہ 2048 تک ہندوستان کی آبادی1.6بلین یعنی ڈیڑھ سو کروڑ سے بھی زیادہ اور2100تک یہ آبادی 1.90بلین(تقریباًدو سو کروڑ)ہوجائے گی توایک خاص طبقہ کی آبادی کے حوالے سے طرح طرح کی تجاویز پیش کی جانے لگی تھیں جن میںبچے پیدانہ کرنے کیلئے جبراً پابند بنائے جانے،انہیں حق رائے دہی سوخت کرنے اور سرکاری سہولیات سے محروم کردیے جانے کی بھی سفارش شروع کردی گئی تھی۔
لیکن اب نیشنل فیملی اینڈ ہیلتھ سروے 5- کے اعدادوشمار نہ صرف لینسیٹ کے تجزیہ کی نفی کررہے ہیں بلکہ یہ بھی بتارہے ہیں کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو ہندوستان کی آبادی کم ہوتی جائے گی۔ عمرانیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی ملک کی آبادی کا ایک خاص تناسب میں کم ہوتاجانا یا کسی ایک سطح پر آکر رک جانا کسی بھی لحاظ سے بہتر نہیں کہاجاسکتا ہے ۔آبادی بڑھنے کی رفتار کو جہاں قابو میں رکھا جانا چاہیے وہیں کم ہونے کی رفتار کو بھی کبھی تیز نہیں ہونے دیا جانا چاہیے ورنہ ایک دن ایسا بھی آئے گا کہ یہ دنیا انسانوں سے خالی ہوجائے گی ۔
یہ صحیح ہے کہ بڑھتی آبادی وسائل کی کم یابی کی وجہ سے مسائل پیدا کرتی ہے لیکن اس کا حل یہ نہیں ہے کہ آبادی ہی کم کی جائے بلکہ عقل کا تقاضا ہے کہ وسائل کو بڑھایا جائے، نت نئے طریقے استعمال کیے جائیں اور قدرت کے عطیات سے فیض اٹھایاجائے ۔
اس سے انکار نہیں کہ ہندوستان میں دنیا کی کل آبادی کا 17.5فیصد انسان آباد ہیں لیکن یہ بھی سچ ہے کہ اس آبادی میں 50فیصد نوجونواں کی ایسی تعداد بھی شامل ہے جو توانائی اور قوت سے بھر پور ہے ۔آبادی کا 65 فیصد حصہ 35سال سے کم عمر کے لوگوں پرمشتمل ہے ۔ اتنی بڑی آبادی کو تعمیر قوم کیلئے استعمال کرنے کے بجائے اسے وسائل پر بوجھ بتاکر انہیں بانجھ کرنے کی کوشش تعمیری نہیں کہی جاسکتی ہے ۔ سروے کے اعداد و شمار بھلے ہی ابھی خوش نما محسوس ہورہے ہوں لیکن اگر یہی صورتحال برقراررہی تو ایک دن ایسا آئے گا کہ زرخیزی کی شرح ناپیدبھی ہوسکتی ہے ۔ایسی صورت میں جانے والوں کی جگہ خالی ہی رہ جائے گی ۔
انسانوں کے بغیر بہرحال کسی ملک کا کوئی تصور نہیں کیاجاسکتا ہے ۔ وسائل کا استعمال ہو یا سماجی و ثقافتی ماحول کی تیاری یہ انسان ہی کرتے ہیں ۔ معاشرہ اور معیشت کی ترقی میں انسانوں کے کردار کی نفی نہیں کی جاسکتی ہے۔ انسان دوسرے قدرتی وسائل کا جہاں استعمال کرتے ہیں وہیں انسانوںمیں بھی مختلف طرح کی خوبیاں اور وسائل ہوتے ہیں۔ یہ انسان ہی ہیں جو مختلف قدرتی چیزوں کو وسائل میں تبدیل کرتے ہیں۔ زمین، پہاڑ، ندی، نالے، سمندر یہ سب انسانوں کی خوبیوں کی وجہ سے آج وسائل کے طور پر زیر استعمال ہیں۔ عمرانیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ترقی اور ملکوں کی فلاح و بہبود کیلئے آبادی ایک بنیادی حیثیت رکھتی ہے، اسے جبراً کم کرنے یا روکنے کی وجہ سے نہ صرف ترقیات متاثر ہوتی ہیں بلکہ قدرت اپنے عطاکردہ وسائل کو بھی سمیٹنے لگتی ہے ۔ دانائی یہ ہے کہ بچہ کے بڑھتے قد کی مناسبت سے کپڑے اور جوتے کا انتظام کیا جائے نہ کہ بچہ کا قدچھوٹا کیا جائے اور پیر کاٹا جائے۔ بڑھتی آبادی کی بہتر پرورش و پرداخت کیلئے نئے وسائل کی تلاش ہی عقل مندی ہے بہ نسبت اس کے کہ ہم آبادی کم کرنے میں اپنے موجودہ وسائل بھی جھونک ڈالیں اور وہ دن بھی آجائے کہ دنیا انسانوں سے خالی ہو۔
[email protected]

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here