کرفیو، لاک ڈائون نہیں, احتیاط اور ٹیکہ کاری ضروری

0

کورونا کی نئی لہر نے پورے ملک میں خوف و ہراس پیدا کردیا ہے۔ایک طرف عمر کی پابندی کے ساتھ ٹیکہ کاری کا عمل جاری ہے تو دوسری جانب کور ونا کی ستم آزمائی کا پھیلائو بھی بڑھ رہاہے۔پہلی بار ملک میں ایک لاکھ سے زیادہ کورونا وائرس کے کیس درج کیے گئے ہیں۔ اس سے قبل گزشتہ سال16ستمبر کو ایک دن میںسب سے زیادہ 97 ہزار894معاملے درج کیے گئے تھے۔اس سے واضح ہورہاہے کہ کور ونا کی یہ لہر پہلے سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔ایک دن میں ملک بھر میں تقریباً ایک لاکھ نئے مریض سامنے آئے جس کے بعد کورونا پازٹیو کا علاج کرارہے لوگوں کی تعداد 7.5لاکھ ہوگئی ہے۔یہ تعداد گزشتہ ماہ مارچ کے اسی دن کے ڈاٹا سے چار گنا بتائی جارہی ہے۔اس ایک مہینہ میںکورونا وائرس نے7ہزار 548افرادکو لقمہ اجل بنا دیاہے۔آغاز سے اب تک ہندوستان میں اس مرض الموت کا شکار ہونے والوں کی تعداد 65ہزار سے بھی زیادہ ہوگئی ہے۔نئی لہر کی اس سنگینی نے عوام کوحواس باختہ کردیا ہے۔
اطلاعات بتارہی ہیں کہ ملک کی راجدھانی دہلی میں کورونا کی چوتھی لہر پوری شدت سے حملہ آور ہوگئی ہے اور ریاست میں کورونا وائرس کے پازٹیو مریضوں کی شرح بڑھ کر5فیصدہوگئی ہے۔ گجرات میں ہرگھنٹے 2پازٹیو مریض سامنے آرہے ہیں۔ مہاراشٹر میں صورتحال اس سے بھی زیادہ خطرنا ک ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مقرر کردہ معیار کے مطابق پازٹیو مریضوں کی 5فیصد یا اس سے زائد کی شرح انتہائی غیرمحفوظ ہے۔اس غیرمحفوظ صورتحال سے بچائو کیلئے دہلی کی حکومت نے مکمل لاک ڈائون کے بجائے رات کے کرفیو کا اعلان کیا ہے،جس کا فوری نفاذ ہوگا۔ کرفیو کا دورانیہ رات10بجے سے صبح کے5بجے تک کا ہے۔ اسی طرح مہاراشٹر کی حکومت بھی اپنے یہاں حالات پر قابو پانے کیلئے ہر ہفتہ، جمعہ کی رات 8بجے سے پیر کی صبح7بجے تک مکمل لاک ڈائون نافذ کررہی ہے۔ اس کے علاوہ عام مقامات پر حکم امتناعی نافذ کرکے بھیڑ بھاڑ پر قابو پانے کی کوشش شروع کی گئی ہے۔اس ریاست میں روزانہ 50ہزارسے زیادہ نئے معاملے سامنے آرہے ہیں۔ پنجاب، ہریانہ، چھتیس گڑھ، راجستھان اور مدھیہ پردیش میں کچھ ایسی ہی صورتحال ہے۔ریاستی حکومتوں کے ان اقدامات نے لوگوں کے ذہن میں گزشتہ سال لگائے گئے مکمل لاک ڈائون کی یادیں تازہ کردی ہیں اور لوگوں کو ایسا لگ رہاہے کہ کہیں پھر نئے سرے سے لاک ڈائون نہ لگادیا جائے۔اگر عوام کے یہ خدشات درست ہوتے ہیں اور کورونا سے نبردآزمائی کیلئے لاک ڈائون کا حربہ استعمال کیاگیا تو ملکی معیشت کو زمین بوس ہونے سے نہیں بچایاجاسکتا ہے۔ہندستان کی معیشت گزشتہ سال لگائے گئے لاک ڈائون کے اثرات سے اب تک باہرنہیں نکل پائی ہے اور نہ اصلاح احوال کا کوئی اشارہ ہی ملا ہے۔اس کے برخلاف ملک کی مجموعی شرح نمو منفی سے بھی24درجہ نیچے پہنچ گئی ہے۔ اگر دوسری بار لاک ڈائون لگایاگیا تو سمجھاجاسکتا ہے کہ صورتحال کتنی خطرناک ہوسکتی ہے۔ تباہ حال معیشت مکمل طور پر زمین بوس ہوجائے گی اور عوام الناس کوا س کا سنگین خمیازہ بھگتنا ہوگا۔
کورونا وائرس گزشتہ سال نووارد تھا ، ٹیکہ اور دوا ایجاد نہیں ہوپائی تھی، اس کے انفیکشن سے بچنے کی فقط ایک ہی ترکیب احتیاط تھی جس پر پوری دنیا نے عمل کیا۔ ماسک لگایا، ہاتھ دھوئے، فاصلہ اختیار کیا اورلاک ڈائون کی وجہ سے ایک مدت تک خانہ نشیں ہوگئے۔لیکن اب جب کہ ٹیکہ کاری مہم زوروں پر ہے اس وائرس کا پھیلنا سنگین تر صورتحال کی عکاس ہے۔لیکن اس کا حل نائٹ کرفیو، حکم امتناعی اور لاک ڈائون میں تلاش کرنا ملک کی معیشت کے ساتھ کھلواڑ ہے۔ ضرورت ہے کہ ٹیکہ کاری مہم کو پوری طاقت کے ساتھ پور ے ملک میں چلایا جائے اور عمر و جنس کی تفریق کے بغیر ہرشہری کو ٹیکہ لگایا جائے۔اس کے ساتھ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کیلئے عوام میں بیداری لائی جائے۔ بالخصوص مغربی بنگال، آسام ، کیرالہ، تمل ناڈو اور پڈوچیری جہاں انتخابات ہورہے ہیں وہاں ان تدبیروں کا اختیار کیا جانایقینی بنایاجائے۔ انتخابی جلسوں میں امڈ رہی بھیڑ کو روکنے کے اقدامات کیے جائیں۔یہ اقدامات سیاسی پارٹیوں اورا لیکشن کمیشن کو کرنے ہوں گے۔ اگر احتیاط نہیں برتی گئی تو کچھ عجب نہیں ہے ان ریاستوں میں حالات بے قابو ہوجائیں۔
[email protected]

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here