کانگریس نےکی ’ہندو سماج‘کی توہین : وی ایچ پی

0
Image: Economic Times

نئی دہلی: (یو این آئی) وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) نے کانگریس پر حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کانگریس نے ہریانہ اسمبلی میں غیر قانونی تبدیلیٔ مذہب پر پابندی کے بل کی مخالفت کرکے ہندو سماج کی توہین کی ہے۔ وی ایچ پی کے جوائنٹ جنرل سکریٹری سریندر جین نے ہفتے کو یہاں ایک پریس ریلیز جاری کرکے کانگریس کے اس اقدام کو ملک کو نقصان (راشٹر گھاتی) پہنچانے والا اور خودکشی(آتم گھاتی) قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک طرف آزادی حاصل کرنے کے بعد گاندھی جی کی کانگریس نے غیر قانونی تبدیلیٔ مذہب کو روکنے کے لیے کئی ریاستوں میں قانون بنائے تھےتو وہیں، آج سونیا گاندھی کی قیادت میں کانگریس اسمبلی میں ہی اس قانون کی’جنین کُشی‘پر تُلی ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس کو اس ہندو مخالف بد عمل پر معافی مانگنی چاہئے۔
مسٹر جین نے کہا، ’گاندھی جی کی خواہش تھی کہ ہندوستان کی آزادی کے فوراً بعد غیر قانونی تبدیلیٔ مذہب کو روکنے کے لیے سخت قانون بنایا جائے۔ شاید اسی کا نتیجہ تھا کہ مدھیہ پردیش، اڈیشہ، ہماچل پردیش اور چھتیس گڑھ جیسی ریاستوں میں اس حوالے سے قانون اس وقت کی کانگریس نے بنائے، جن کی کسی نے مخالفت نہیں کی۔ لیکن اب کانگریس جس طرح بل کی مخالفت کر رہی ہے اس سے کانگریس کا ’مسلم لیگی چہرہ‘ بے نقاب ہو گیا ہے‘۔
انہوں نے سوال کیا کہ کیا کانگریس کو نہیں معلوم کہ غیر قانونی تبدیلیٔ مذہب کے سرغنوں کا دہشت گردوں اور ملک دشمنوں سے گٹھ جوڑ ہے؟ کیا کانگریس کو یہ بھی نہیں معلوم کہ جہاں غیر قانونی اور جبری تبدیلیٔ مذہب کی وجہ سے ہندو اقلیت بن گئے ہیں، وہاں نہ ان کی ’آستھا‘ محفوظ ہے، نہ یقین، نہ بیٹیاں اور نہ ہی تجارت؟ وی ایچ پی کے جوائنٹ جنرل سکریٹری نے کہا کہ کانگریس نے ہریانہ اسمبلی میں بل کو پھاڑ کر نہ صرف متاثرہ ہندو سماج کی توہین کی ہے بلکہ ایوان کے وقار کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر جمہوری رویے کا مظاہرہ کیا ہے۔ وی ایچ پی اس کی سخت مذمت کرتی ہے۔