شدت پسندوں کے ووٹ بینک کیلئے مقابلہ آرائی

0

اسرائیل میں اگر چہ ایک مضبوط جمہوری نظام قائم ہے مگر 2019 کے بعد سے اس پچھلے مارچ تک وہاں پر 4 الیکشن ہو چکے ہیں۔ ان تمام الیکشنوں میں بنجامن نتن یاہو کی شخصیت تمام تنازع کے بائوجود اہمیت کی حامل رہی ہے اور ان الیکشنوں کو مختلف اتحادوں کی قیام اور بکھرنے کی ایک الگ داستان ہے۔ وہ نتن یاہو اپنے خلاف عوامی ناراضگی کے بائوجود کئی مرتبہ جوڑ توڑ کر کے بر سر اقتدار آ گئے ہیں۔ 2019 میں ہونے والا الیکشن ان کی شخصیت پر ریفرینڈم کی طور پر دیکھا گیا۔ ان کے خلاف کرپشن کے سنگین الزامات تھے۔ ان کے سخت ترین حلیف مسٹرگینٹس اور انہوں نے اپنی اپنی کامیابی کے دعوے کئے اور کوئی بھی سرکار بنانے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ بعد میں دوبارہ انتخابات منعقد ہوئے ۔ اسرائیل میں دوبادہ سرکار بنانے کی کوششیں جب ناکام ہوئیں تو 2020 میں دوبارہ الیکشن کرایا گیا مگر کورونا وائرس کے دوران ہونے والے الیکشن میں کوئی بھی لیڈر حکومت نہ بنا سکا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مختلف سیاسی پارٹیاں جوتم پیزار ہوتی رہیں اور سیاسی تعطل بر قرار رہا۔ اسی دوران بجٹ بھی پاس ہو گیا۔ بعد ازاں پچھلے دنوں دوبادہ الیکشن ہوئے تو نفٹالی کی قیادت میں نتن یاہو کے خلاف ایک مضبوط محاذ تو کھڑا ہو گیا لیکن یہ محاذ زیادہ دن تک اپنی سرکار برقرار نہیں رکھ سکا اور آخر کار عرب پارٹی کی مخالفت کی وجہ سے نفٹالی کو بھی اقتدار سے بے دخل ہونا پڑا اور موجودہ کارگزار وزیر اعظم ائیرلپیڈ کو نگراں وزیر اعظم بنا کر اسرئیل میں دوبادہ عام انتخابات کرانے کا عمل شروع ہو چکا ہے اور سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ ہوا گیا ہے۔ غزہ پر حالیہ کارروائی اسی کا نتیجہ قرار دی جا رہی ہے۔ ائیر لپیڈ اس کارروائی کے بعد بنجامن نتن یاہو کے مقابلے میں اپنے آپ کو سخت گیر لیڈر کے طور پر پیش کر رہے ہیں اور اس طرح بنجامن نتن یاہو کا ووٹ بینک پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔