۔۔۔چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی

0

عبدالسلام عاصم
اپوزیشن کیلئے 1977 کی منزل ابھی بظاہر ایک دہائی دور ہے۔ مکمل اپوزیشن اتحاد کا خاکہ ایک دو برس میں تیار نہیں ہو سکتا۔ سوال سیکولر نظریات یا یک رنگ ثقافتی پہچان کے احیاء کا نہیں، جمہوریت کو بچانے کا ہے، جسے گزشتہ صدی میں 60 اور 70 کی دہائیوں میں آمرانہ رعونت نے بری طرح پامال کر دیا تھا۔کسی مستحکم سدھار کے بغیرروز مرمت روز بگاڑ کے ساتھ نئی الفی میں قدم رکھنے والے اس سلسلے کی دوسری دہائی کے وسط سے ایک بار پھر جمہوریت کی بقا کو بہ اندازِ دیگر خطرہ لاحق ہو گیاہے۔
حالیہ اسمبلی انتخابات میں اپوزیشن کے محدود مفادات کی وجہ سے جس طرح نفرت سے آلودہ اورصف بند ماحول سے بیزار ووٹوں کو متحد کرنے میںغیر متحد حزبِ اختلاف کو افسوسناک ناکامی ہوئی ہے، اسے دیکھتے ہوئے جمہوریت کے حق میں آئندہ عام انتخابات کے نتیجہ خیز ہونے کا امکان کم ہی نظر آتا ہے۔ابھی عام بیزاری سے خواص کی بیداری تک کا طویل سفر باقی ہے۔ ماضی میں اسی مہینے میں 16 سے 20 تاریخ کے درمیان چھٹے لوک سبھا کے لیے بدنامِ زمانہ ایمرجنسی کے دوران عام انتخابات ہوئے تھے۔ الیکشن کے اعلان کے باوجود حکومت نے ایمرجنسی ختم نہیں کی تھی۔ اس کی میعاد انتخابات کے حتمی نتائج کے اعلان سے کچھ ہی پہلے 21 مارچ 1977 ختم کی گئی۔ انتخابات کے نتائج عام اندازے کے عین مطابق آئے۔ کانگریس کو بھاری شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اُس وقت کی وزیراعظم اور کانگریس کی رہنما اندرا گاندھی کو رائے بریلی میں اپنی نشست تک کھونا پڑی تھی۔ جنتا پارٹی اتحاد کی متوقع فتح کی ایک بڑی وجہ بجا طور پر ایمرجنسی کو ختم کرکے جمہوریت کی بحالی کے اپوزیشن کے مطالبے کو سمجھا جاتا ہے۔ اِس طرح ملک میں پہلی مرتبہ ایک غیر کانگریسی حکومت مرارجی دیسائی کی قیادت میں قائم ہوئی جو پہلے کانگریس کے ہی لیڈر ہوا کرتے تھے۔ آج بھی موجودہ حکومت کے ایک سے زیادہ لائقِ خراج رہنما بشمول سردار ولبھ بھائی پٹیل اور نیتا جی سبھاش چندر بوس کانگریس کے ہی رہنما تھے۔
نفرت سے آلودہ قومی سیاست میں بظاہر اکثریت اور اقلیت دونوں کی نمائندگی کرنے والے رہنمایان ہمیشہ سے ہی ایک کو دوسرے سے خوفزدہ رکھنے کی سیاست کرتے آئے ہیں۔ ان میں سے ایک حلقے نے 75 سال قبل ’’ تباہ کن‘‘ خارجی کامیابی حاصل کی تھی، دوسرا آج تقریباً اُسی رُخ پر ’’تکلیف دہ ‘‘داخلی کامیابی میں وہ نجات ڈھونڈ رہا ہے جو کبھی کسی قوم کے حصے میں نہیں آئی۔ یہ سلسلہ شاید اُس وقت تک ختم نہیں ہوگا جب تک دونوں طرف ماننے اور منوانے والوں کی جگہ جاننے اور سمجھنے والے نہیں لے لیں گے۔ ایسا بہر حال راتوں رات ہرگز نہیں ہوسکتا۔ اس کے لیے قومی سیاست میں کانگریس کو سیٹوں کے حساب سے اپوزیشن کا حصہ بننے سے زیادہ سرپرست بن کر ابھرنا ہوگا۔ اس نوعیت کی تبدیلی کی تاریخ یوروپ کی بھی ملتی ہے جو دہائیوں کا نہیںصدیوں کا احاطہ کرتی ہے۔
دنیا میں ہر بیماری کا علاج ہے۔لیکن اس کے لیے شرط یہ ہے کہ تشخیص درست ہو۔ ایک بار کی صحیح تشخیص معالج کو اصلاح کے نپے تلے راستے پر آگے بڑھا دیتی ہے۔ برعکس صورت میں اکثر ایسے زخموں کو جو مرہم لگانے اور پٹّی باندھ دینے سے ٹھیک ہوسکتے ہیں ، انہیں جرّاحی پر زیادہ یقین رکھنے والا معالج چیر پھاڑ کرکے زخم کو ناسور بنا دیتا ہے جیسا کہ1947میں ہوا۔وطن عزیز کی تقسیم عوام کیلئے نہیں خواص کیلئے ناگزیر تھی۔ دونوں طرف خواص کو عوام کی آرزوؤں اور اُمنگوں یا خوف سے زیادہ اپنے محدود مفادات عزیز تھے۔ عام آدمی کو دونوں طرف جھانسے میں آنا ہی تھا جو وائے بدقسمتی آ کر رہے۔ وہ زمانہ بہرحال تعلیم اور ارتقاء کی رفتار کے حساب سے آج کی طرح ترقی یافتہ نہیں تھا۔ آج ہم اطلاعاتی ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل انقلاب کی وجہ سے الگ الگ قومیت اور سرحدیں رکھنے کے باوجود عالمگیر عہد میں جی رہے ہیں۔ ایسے میں اگر ہم آج بھی داخلی سطح پر کل کی خارجی غلطیاں ہی دہرا نے جا رہے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اکثریت اور اقلیت دونوں کی تکلیفوں کا علاج دونوں فرقوں میں بالترتیب غلط ویدوں اور حکیموں کے ہاتھوں میں ہے۔نیم حکیم خطرۂ جان کا عملاً ادراک اُس عہد میں بھی دوراندیشوں نے کر لیا تھا لیکن اُن کی سوچ کی بہرحال عام لوگوں تک رسائی نہیں ہوسکی۔اِس بیچ دائیں بازو کی سیاست کا انداز بائیں بازو کے سیاست دانوں نے اُسی طرح ہائی جیک کر لیاتھا جس طرح سیکولرزم کو داؤ پر لگا کر اقلیتی ووٹ بینک کھولنے کے جواب میں آج اکثریت کو داؤ پر لگایا جا رہا ہے۔
یہ امر افسوسناک ہی نہیں انتہائی تشویشناک ہے کیونکہ جس زخم سے دونوں ہندوستانی ملّتوں کی اکثریت پریشان ہے وہ صرف تکلیف دہ ہی نہیں بباطن ہلاکت خیز طریقے سے ناسور بنتا جا رہا ہے۔ خارجی طور سے بہنے والے خون کو تومرہم پٹّی کر کے یا ٹانکے لگا کر بہنے سے روکا جا سکتا ہے، انٹرنل بلیڈنگ پورے ملک کیلئے جان لیوا ہوسکتی ہے۔ وقت رحم کرے اور شعور بخشے دونوں فرقوں کے لال بجھکڑوں کو جن کی ماضی پرستی اور ادعائیت پر مبنی مستقبل بینی نے شہیدوں اور غازیوں کی عظمت کی دُھند کو اِس طرح بیوپار کا بنیادی حصہ بنا رکھا ہے کہ انہیں دور دور تک انسانی زندگی کی عظمت بچانے کی توفیق والی روشنی نہیں مل پا رہی ہے۔
پو چھا جا سکتا ہے کہ ایسے میں پنجاب کے انتخابی نتائج اس قدر مختلف کیوں رہے!وہاں عام آدمی پارٹی نے 117 سیٹوں میں سے زیادہ سے زیادہ 59 یا 60 سیٹیں جیتنے کے بجائے ایکدم سے سیکڑے والی دہائی میں کیسے قدم رکھ دیا!! یوں تواِس کا تجزیہ ایک سے زیادہ زاویوں سے کیا جا چکا ہے اور ہر تجزیہ میں اگرچہ سچ جاننے کی ہی کوشش کی گئی ہے لیکن ضروری نہیں کہ ہر جویندہ کو فکر کی ہر راہ پایندہ ہی بنا دے۔ وہاں کانگریس اگر قتدار بچانے میں ناکام رہی تو بی جے پی کو کانگریس کی حکمرانی کی خامیاں بھنانے میں اُس سے سوا ناکامی ہوئی ہے۔پنجاب کے مذہبی، لسانی اور تہذیبی فرق رکھنے والے ہر طرح کے ووٹر وں نے جب یہ دیکھا کہ دونوں طرف عوام کو بے وقوف بنانے اور خواص کے مفاد کو آگے بڑھانے کی کوشش کی جارہی ہے تو اُن لوگوں نے مخالفت اور موافقت کے نام پر فرقہ وارانہ صف بندی کے ہتّھے چڑھنے سے انکار کر دیا۔
ایسا کیوں ہوا! اور کیسے ہوا!! اس کا سہرا عام آدمی پارٹی کے سر نہیں بلکہ ان دونوں ہارنے والوں کے سر بندھتا ہے جو میڈیسن نہیں صرف سرجیکل طریقۂ علاج سے کام لینا جانتے ہیں تاکہ پٹّیاں اترنے تک مریض شفایابی کے جھانسے میں رہے اور وہ الزام تراشیوں کی سیاست کے کاروبار سے حسبِ توفیق منافع بٹور لیں۔ایسے میں عام آدمی پارٹی ’’عام آدمی کا دل‘‘ جیتنے میں کامیاب رہی۔ پنجاب میں حتمی فیصلہ کسی کی انتخابی جیت کے حق میں نہیں ، شکست کی پاداش کی شکل میں سامنے آیا ہے۔ دونوں ہی حلقوں کے ووٹروں نے اپنے اپنے حلقے کے اُن کاروباریوں کو ہرایا ہے جنہیں گاہک کی ضرورت سے زیادہ اپنے مفادات کی تجوری کی پروا تھی۔ عام آدمی پارٹی کو تو 2027 میں لوگ حسبِ اعمال جتائیں گے یا ہرائیں گے۔
(مضمون نگار یو این آئی اردو کے سابق ادارتی سربراہ ہیں)
[email protected]