میں عدلیہ یا ججوں پر تنقید نہیں کر رہا ہوں، بلکہ سپریم کورٹ کالجیم کے موجودہ نظام سے خوش نہیں ہوں: کرن رجیجو

0

نئی دہلی، (ایجنسیاں) : مرکزی وزیر قانون کرن رجیجو نے ججوں کی تقرری کے لیے موجودہ کالجیم نظام پر طنز کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ججوں کی تقرری کے لیے سپریم کورٹ کا موجودہ کالجیم نظام شفاف نہیں ہے۔ رجیجو نے طنز کستے ہوئے کہا کہ عدالت میں سب سے زیادہ اہل شخص کو جج کے طور پر مقرر کیا جانا چاہئے نہ کہ کسی ایسے شخص کو جسے کالجیم پہچانتا ہو۔
ایک میڈیا گروپ کے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے وزیر قانون نے کہا کہ ’میں عدلیہ یا ججوں پر تنقید نہیں کر رہا، بلکہ میں سپریم کورٹ کالجیم کے موجودہ نظام سے خوش نہیں ہوں۔ کوئی بھی نظام کامل نہیں ہوتا لیکن ہمیں ہمیشہ بہتر نظام کی سمت میں بڑھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’نظام کو جواب دہ اور شفاف ہونا چاہیے۔ اگر یہ شفاف نہیں ہے تو اگر اس نظام سے وابستہ وزرا اس پر نہیں بولیں گے تو اور کون بولے گا۔‘ رجیجو نے کہا کہ وہ صرف وکیل کمیونٹی اور کچھ ججوں کے علاوہ لوگوں کی سوچ کے بارے میں بتا رہے ہیں۔ وزیر نے مزید کہا کہ ’موجودہ کالجیم نظام کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ جج صرف ان ساتھیوں کی سفارش کر رہے ہیں جنہیں وہ جانتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ وہ ایسے جج کی سفارش نہیں کریں گے، جسے وہ نہیں جانتے۔‘وزیر موصوف نے اسی نظام کو بدلنے کی مانگ کرتے ہوئے کہاکہ ’سب سے زیادہ اہل کو مقرر کیا جانا چاہیے، نہ کہ ایسے کسی کو جسے کالجیم جانتا ہو۔‘
جب رجیجو سے پوچھا گیا کہ اگر حکومت کو اس نظام میں شامل کیا جاتا ہے تو یہ عمل کس طرح مختلف ہو جائے گا، رجیجو نے کہا کہ حکومت کے پاس معلومات اکٹھا کرنے اور تحقیقات کرنے کا ایک آزاد نظام ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’حکومت کے پاس کوئی فیصلہ لینے سے پہلے خفیہ بیورو اور بہت سی دوسری رپورٹیں ہوتی ہیں، جنہیں وہ استعمال کر سکتی ہے۔ لیکن عدالتوں اور ججوں کے پاس یہ نظام نہیں ہے۔‘ وزیر قانون نے کہا کہ دنیا بھر میں حکومتیں ججوں کا تقرر کرتی ہیں۔ جس کی وجہ سے عدلیہ میں بھی سیاست ہوتی ہے۔ ججز اسے ظاہر نہیں ہونے دے سکتے ہیں، لیکن گہری سیاست ہوتی ہے۔‘ انہوں نے سوال کیا کہ ’کیا ججوں کو تقرری جیسے انتظامی کاموں میں پھنسنا چاہیے یا انصاف دینے میں زیادہ وقت لینا چاہیے؟‘رجیجو نے کہا کہ ’وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی حکومت عدلیہ کی آزادی پر یقین رکھتی ہے۔ اس لیے اس نے اسے کمزور کرنے والا کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ لیکن عدلیہ کو ایگزیکٹو کے کردار میں نہیں آنا چاہیے۔ جب ججز زبانی ریمارکس دیتے ہیں تو اسے وسیع تر کوریج ملتی ہے۔ حالانکہ اس طرح کے تبصروں کا (معاملے پر) کوئی اثر نہیں پڑتا ہے۔ ایک جج کو غیر ضروری تبصرے کرنے اور تنقید کو دعوت دینے کے بجائے اپنے حکم کے توسط سے بولنا چاہیے۔‘