چین کے جارحانہ عزائم اور ایبے کی وراثت

0

صبیح احمد

گزشتہ ہفتہ سابق وزیراعظم شنزو ایبے کے قتل کے بعد صرف جاپان میں ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی لیکن دھیرے دھیرے جب دکھ کا یہ دور ختم ہوگا اور ان کی زندگی اور سیاسی و اقتصادی پالیسیوں کو یاد کیا جائے گا اور تاریخ کی کتابوں میں ان کے کارناموں کا تذکرہ کیا جائے گا، تب عالمی نظام کی بہتری میں ان کی بیش بہا خدمات کھل کر سامنے آسکیں گی۔ خاص طور پر جاپان کے مستقبل کے بارے میں ان کے منصوبے اور ویژن کا اندازہ آنے والے دنوں میں ہو سکے گا۔ جنگ عظیم کے بعد کے دور میں 52 سال کی عمر میں جاپان کے سب سے کم عمر وزیراعظم منتخب ہونے کے صرف کچھ ہی مہینے بعد جنوری 2007 میں جاپانی پارلیمنٹ (ڈائٹ) کے 166 ویں اجلاس کے افتتاح کے بعد خطاب کے دوران شنزو ایبے نے اپنی پالیسی ترجیحات پر تفصیلی روشنی ڈالی تھی۔ اس دوران تجاویز کی ایک طویل فہرست پیش کی گئی تھی لیکن ان تجاویز میں سے ایک سطرایسی تھی جو اس انسان کے کردار اور مستقبل کے بارے میں ا ن کے منصوبے پر سے پردہ اٹھانے والی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ ’میرا مشن ملک و قوم کو ایک ایسا نیا ویژن دینے کے سوائے کچھ نہیں ہے جو آئندہ 50 سے 100 سال تک تیز لہروں کو برداشت کر سکے۔‘وہ ایک ایسا سیاستداں تھے جو چھوٹا نہیں سوچتے تھے بلکہ ان کی سوچ اور پلاننگ کا دائرہ بہت وسیع تھا۔ اور اپنی مدت کار کے دوران اسے ثابت کرنے کی بہت حد تک کامیاب کوشش بھی کی۔ ایبے ان لیڈروں میں سے نہیں تھے جو صرف جاپان کو جدید تقاضوں کے مطابق آگے بڑھانے پر یقین رکھتے تھے بلکہ ان لیڈروں میں شامل تھے جو ایک ایسا ملک بنانے کے لیے کوشاں تھے جو ایشیا پر عقابی نظریں رکھنے والے یوروپی اور اور امریکی سامراجیوں سے مقابلہ کر سکے اور خطہ کا دفاع کر سکے۔ ایبے جب ’تیز لہروں کو برداشت‘ کرنے والا ملک بنانے کی بات کرتے ہیں تو اس سے ان کی بنیادی حساسیت کا اندازہ ہو تا ہے۔
ایبے کو ان کی دیگر خدمات کے علاوہ سب سے زیادہ چین کی تیز رفتار ترقی اور بڑھتے اثر و رسوخ سے پیدا ہونے والے چیلنجز پر دنیا کے طویل مدتی ردعمل میں ان کی اہم خدمات کے لیے یاد کیا جائے گا۔ ان کی ہلاکت کے بعد جس طرح سے عالمی رہنمائوں کی جانب سے تعزیتوں کا سلسلہ جاری ہے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ عالمی سطح پر انہیں کتنی قدر کی نگاہ سے دیکھا جا تا تھا۔ یہ دراصل دوسری جنگ عظیم کے بعد سے مشرقی ایشیا میں علاقائی امن، خوشحالی اور سلامتی کے لیے عالمی نظام کو مضبوطی فراہم کرنے کے حوالے سے ایبے کے عزم کا اعتراف ہے۔ ایبے ان عالمی رہنمائوں میں سے تھے جنہوں نے اس عالمی نظام کو نیچا دکھانے کے لیے چین کے اپنی بڑھتی طاقت اور اثر رسوخ کا استعمال کرنے کے عزم کو سب سے پہلے پہچانا اور اس سلسلے میں کچھ کرنے کی سمت میں پیش قدمی کی۔ چین پر لگام کسنے کے لیے ایبے نے امریکہ ، آسٹریلیا اور ہندوستان جیسے ملکوں کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات کو مضبوط بنانے کی ہر ممکن کوششیں کیں۔ جہاں تک ہندوستان کے ساتھ ان کے رشتے کا تعلق ہے، وہ بہت ہی شاندار اور انوکھا ہے۔ شنزو ایبے کا ہندوستان کے ساتھ اٹوٹ رشتہ تھا اور وہ بھی بلا تفریق سیاسی وابستگی۔ ہندوستان میں خواہ کسی بھی سیاسی پارٹی کی حکومت رہی ہو، ایبے کا ہندوستان کے سا تھ رشتہ ہمیشہ خوشگوار اور دوستانہ رہا۔
بہرحال جاپان کے سابق وزیر اعظم شنزو ایبے کی قاتلانہ حملے میں ہلاکت نے نہ صرف پورے جاپان کو ہلا کر رکھ دیا ہے بلکہ دنیا بھر میں ان کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اسی کے ساتھ جاپان جیسے ملک میں سیاسی رہنما کے قتل پر حیرانی کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے۔ اکیسویں صدی میں جاپان کے سیاسی منظر نامہ پر چھائے رہنے والے ایبے نے نہ صرف جاپانی معیشت کو ازسر نو مربوط کیا بلکہ جاپان میں کئی اصلاحات متعارف کرانے کا سہرا بھی ان کے سر جاتا ہے۔ جاپان کی لبرل ڈیمو کریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے شنزو ایبے جاپان پر طویل ترین عرصہ تک حکومت کرنے والے سیاست داں تھے۔ وہ 2006 میں ایک برس کے لیے جبکہ 2012 سے لے کر 2020 تک اس منصب پر فائز رہے اور اس دوران آنے والے کئی چیلنجز سے نبرد آزما ہوئے۔ شنزو ایبے 52 برس کے تھے جب 2006 میں وہ پہلی مرتبہ وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہوئے۔ وہ دوسری جنگ عظیم کے بعد جاپان کے وزیر عظم بننے والے سب سے کم عمر سیاست داں تھے۔ ایبے کو جاپان کی سیاست میں تبدیلی کا استعارہ سمجھا جاتا تھا۔ نوجوان طبقے میں بھی وہ خاصے مقبول تھے۔ وہ جاپان کے ایک قدامت پسند اور صاحب ثروت گھرانے میں 1954 میں پیدا ہوئے۔ 2006 میں وزارت عظمیٰ کی کرسی ان کے لیے مصائب اور مشکلات پر مشتمل رہی جب آئے روز اسکینڈلوں اور پارٹی اختلافات کے باعث انہیں ایک برس بعد ہی مستعفی ہونا پڑا۔
وہ دوبارہ ایسے وقت میں وزیر اعظم منتخب ہوئے جب جاپان 2011 میں آنے والے سنامی کی تباہ کاریوں سے نمٹ رہا تھا۔ انہوں نے سنامی کی وجہ سے جاپان کی معیشت کو پہنچنے والے نقصانات اور جوہری پلانٹ کے تابکاری اثرات سے بچنے کے لیے جامع حکمت عملی ترتیب دی۔ ان مسائل سے نمٹنے کے لیے شنزو ایبے کی معاشی پالیسیاں ’ایبے نومکس‘ کے نام سے مشہور ہوئیں اور انہوں نے دنیا کی تیسری بڑی معیشت کو سنبھالا دینے کی کوششوں کا آغاز کیا۔ ’ایبے نومکس‘ کے تحت حکومت نے بڑے پیمانے پر اخراجات کیے اور معاشی پالیسوں میں نرمیاں کرنے کے علاوہ سرخ فیتے کے خاتمہ کو پروان چڑھایا۔ شنزو ایبے کے دور میں جاپان میں تیزی سے کم ہوتی ہوئی شرح پیدائش کو بڑھانے کے لیے کئی پالیسیاں متعارف کرائی گئیں۔ والدین کے لیے کام کی جگہ کو دوستانہ بنایا گیا، بالخصوص ماؤں کو زیادہ مراعات دی گئیں۔ انہوں نے ٹیکس اصلاحات کے ساتھ ساتھ معیشت کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی کوشش کی لیکن 2020 میں کورونا وائرس سے پہلے تک ملکی معیشت کے بڑے مسائل برقرار رہے۔ ایبے کے اقتدار کو دھچکا کورونا وائرس کے دوران لگا جب ان کے ناقدین نے ان کی جانب سے بروقت فیصلے نہ لیے جانے پر سوال اٹھائے جس کے باعث ان کی عوامی مقبولیت میں بھی کمی آئی۔ شنزو ایبے عالمی سیاسی منظر نامے پر بھی اہم کردار ادا کرتے رہے اور امریکی صدور سمیت کئی عالمی رہنماؤں سے ان کے قریبی مراسم رہے۔ وہ شمالی کوریا کے رہنما کی پالیسیوں کے شدید مخالف تھے جبکہ امریکہ اور ایران تنازع کے پرامن تصفیہ کے حامی رہے۔ وہ سابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ’سب سے پہلے امریکہ‘ کے نعرے کے باوجود امریکہ اور جاپان کے دیرینہ اتحاد کو برقرار رکھے جبکہ روس اور چین کے تعلقات میں بہتری کے لیے بھی کوشاں رہے۔
آخر ایبے کے قتل کی وجہ کیا رہی؟ یہ ابھی تک ایک معمہ بنا ہوا ہے۔ ابتدائی طور پر اس کی وجہ ’ذاتی رنجش‘ بھی بتائی گئی ہے لیکن تحقیقات کی رپورٹ آنے تک اس سلسلے میں وثوق کے ساتھ کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ در حقیقت جاپان میں اسلحہ رکھنا بہت ہی مشکل ہے۔ اس کے لیے کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہونا چاہیے، اسلحہ چلانے کی لازمی ٹریننگ ضروری ہے، نفسیاتی جائزہ لیا گیا ہو اور خاندانی پس منظر کے حوالے سے انتہائی تفصیلی چھان بین کی جاتی ہے اور پولیس ہمسایوں سے معلومات لینے آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں ’گن کرائم‘ کی مثالیں انتہائی کم ملتی ہیں۔ لیکن اب یہ ضرور یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ ایبے کا قتل جاپان کو تبدیل کر دے گا۔ جاپان اتنا محفوظ ملک ہے کہ یہاں سکیورٹی بہت نرم ہوتی ہے۔ الیکشن مہم کے دوران سیاست داں گلیوں کے کناروں پر کھڑے ہو کر تقاریر کرتے ہیں اور دکانداروں اور آس پاس سے گزرنے والوں سے ہاتھ ملاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایبے کے حملہ آور اتنے قریب سے ان پر گولی چلانے کے قابل ہوئے۔ یقینا یہ سب اس واقعہ کے بعد تبدیل ہو جائے گا۔
[email protected]m