اسلام میں غنڈہ گردی اور فساد کی کوئی اجازت نہیں

راجستھان کے کنہیا لال پر قاتلانہ حملہ کی سخت مذمت کرتاہوں :انوار الحق قاسمی

0

نپور شرما کے شان رسالت میں گستاخی کرنے کے بعد سے ہی پڑوسی ملک ہندوستان کی صورت حال کچھ خراب سا دیکھ رہاہوں۔امن پسند مسلمان نپور شرما خلاف جگہ جگہ پر امن مظاہرات بھی کیے ہیں ،جن میں انہوں ملعونہ کے خلاف سخت کارروائی کی مانگ کی تھی ،تاکہ آئندہ پھر کسی شان رسالت میں گستاخی کرنے کی جرأت نہ ہوسکے ؛مگر بی جے پی حکومت کی طرف سے کوئی سخت کارروائی نہ ہوسکی ۔
ابھی تک مسلمان ان کے خلاف سخت ترین کاروائی کا مطالبہ ہی کررہے تھے کہ گذشتہ کل بتاریخ 28/جون 2022ء بروز منگل راجستھان کے دو غنڈوں:ریاض اور غوث نے ادے پور کے رہنے والے درزی کنہیا لال پر( اس کے نپور شرما کی حمایت کرنے کی بنا،اس کی دکان میں ،دن کے اجالے میں،ناپ لینے کے بہانے)قاتلانہ حملہ کرکے موت کے گھاٹ اتار دیاہے،جس سے ملک کے حالات مزید خراب ہوچکے ہیں۔
ان کے اس عمل سے ہر امن پسند شہری بہت غصے میں ہیں۔مسلم رہنماؤں:مولانا محمد ارشد مدنی صدر جمعیت علماء ہند،مولانا محمود مدنی،بیرسٹر اسد الدین اویسی صدر اتحاد المسلمین کی طرف سے مذمتی بیانات بھی آچکے ہیں۔ہر ایک نے اپنے بیان میں ریاض اور غوث کے اس قاتلانہ حملے کی پرزور مذمت کیا ہے اور حکومت سے اس کے خلاف سخت کارروائی کی مانگ بھی کی ہے۔
واقعی ان غنڈوں نے کنہیا لال کا سر قلم کرکے قانون کو اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے، جب کہ سمدھان کسی کو اس بات کی قطعی اجازت نہیں دیتا کہ وہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لے۔
اور حقیقت یہ ہےکہ غنڈہ گردی اور ملک میں بدامنی پھیلانا یہ سچے مسلمان کا ہر گز کام نہیں ہوسکتا ہے۔ان کے اس ناقابلِ بیان حرکت سے اسلام اور مسلمان کو بدنام کرنے کی کوئی ہر گز کوشش نہ کریں۔کیوں کہ اسلام نام ہے امن و سلامتی کا۔حدیث میں تو یہاں تک ہے کہ اگر تمہارا پڑوسی غیر مسلم ہو،پھر بھی ان کے ساتھ محبت و رواداری کا معاملہ کرو!۔اسلام میں غنڈہ گردی اور فساد کی کوئی اجازت نہیں ہے۔