غیراعلانیہ ایمرجنسی

0

ہندوستان اس وقت تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہا ہے۔ ایک طرف ریاست جبر و استبدادکواچھی حکمرانی بتاکراپنے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو بزور طاقت بند کررہی ہے تو دوسری طرف عدالتیں قانون و انصاف کے مقدس، روشن اور ارفع روایتوں کے علی الرغم حکمرانوں کی مرضی اور منشا کی تکمیل کا ذریعہ بنائی جارہی ہیں۔ 2016 سے اب تک نہ جانے کتنے ہی دانش ور، سماجی کارکن، صحافی حکومت کی مخالفت کی پاداش میں سرد وتاریک زندان خانوں میں قید ہیں۔ عدالتوں سے ایسے نہ جانے کتنے من چاہے فیصلے حاصل کیے گئے ہیں جو آئین، قانون، جمہوریت اور سیکولرزم کی روشن راہوں کے مسافر ہندوستان جنت نشان کو ظلمت کدے کی طرف کشاں کشاں لے جارہے ہیں اور ان سب کو قانون کی حکمرانی کہہ کر آئین اور قانون کا کھلا مذاق بنایاجارہاہے۔
گزشتہ ایک ہفتہ کے دوران ریاستی جبر کی دوسفاک مثالیں سامنے آئی ہیں جو انسانی حقوق، جمہوریت، اظہار رائے کی آزاد ی اور اختلاف کے بنیادی آئینی حق پر حکومت کا ڈاکہ ہی کہی جائیں گی۔
گجرات کے اس وقت کے وزیراعلیٰ نریندر مودی اور دیگرافراد کو 2002 کے گودھرا فساد معاملے میں خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کے ذریعہ دی گئی کلین چٹ کو چیلنج دینے والی عرضی کو سپریم کورٹ سے خارج کیے جانے کے بعد فوراً بعد بی جے پی حکومت معر وف صحافی، دانش و ر اور سماجی کارکن تیستا سیتلواڑ پر بھوکے شیر کی طرح ٹوٹ پڑی اور ممبئی سے گرفتار کرکے انہیں گجرات کے احمد آباد لے گئی ہے جہاں ناکردہ گناہوں کی پاداش میں ان کے ساتھ کیا ہورہاہے، یہ ابھی صیغۂ راز میں ہے۔
دوسرا واقعہ آلٹ نیوز کے شریک بانی محمد زبیر کے ساتھ پیش آیا۔جنہیں پیر کی شام دہلی پولیس کے خصوصی سیل نے ایک متنازع ٹوئٹ کے الزام میں گرفتار کر لیاہے اور آج عدالت نے ان کی ضمانت نامنظور کرتے ہوئے پولیس حراست میں بھیج دیا ہے۔ محمد زبیر پر ٹوئٹ کے ذریعہ مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کا الزام عائد کرکے ان کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعات 153 اے اور 295 اے کے تحت معاملہ درج کیاگیا ہے۔ محمد زبیرصحافی ہیں جو الٹ نیوز کے نام سے جھوٹی اور گمراہ کن خبروں کی نقاب کشائی کرتے ہوئے حقائق سامنے لاتے ہیں۔ان کے پیش کردہ حقائق حکمراں جماعت اوراس سے وابستہ مقتدرحلقوں کی پریشانی کا باعث رہے ہیں۔پیغمبر اسلام ؐ کی شان اقدس میں توہین کا مرتکب ہونے والی نوپورشرما کے سلسلے میں بھی محمد زبیرہی حقائق سامنے لائے تھے۔محمدزبیر کو2018میں کیے جانے والے ایک ٹوئٹ،جس میں1983کی ایک فلم کا منظر ہے، کے سلسلے میں ایک گم نام ٹوئٹر صارف کی شکایت پر 2022میں گرفتار کیاگیا ہے۔
’سٹیزنس فار جسٹس اینڈ پیس‘ کی سکریٹری 60سالہ ضعیفہ تیستا سیتلواڑپر حکومت نے جھوٹے حقائق اور دستاویزوں کو گڑھنے، گواہوں کو متاثر کرنے اور 2002 کے گجرات فسادات کے معاملوں کی جانچ کیلئے سپریم کورٹ کے ذریعہ تشکیل کردہ ایس آئی ٹی کے سامنے کی گئی مختلف پیشیوں اور جسٹس ناناوتی-شاہ جانچ کمیشن کے سامنے ملزمین کے ذریعہ پیش کردہ دلائل کی بنیاد پر لوگوں کو پھنسانے کیلئے جھوٹے ثبوت گڑھ کر قانون کے عمل کا غلط استعمال کرنے کا الزام لگایا ہے۔ یاد رہے کہ تیستا سیتلواڑ سپریم کورٹ میں مودی اور دیگر کے خلاف دائر عرضی میں ذکیہ جعفری جن کے شوہر اور سابق رکن پارلیمنٹ احسان جعفری کو گجرات میں فسادات کے دوران ہلاک کردیاگیا تھا، کے ساتھ معاون عرضی گزار تھیں۔تیستاسیتلواڑ کے ساتھ گرفتار کیے جانے والوں میں سابق آئی پی ایس افسرآر بی شری کماربھی ہیں جب کہ اس ایف آئی آر میں سنجیو بھٹ کو بھی ملوث کیا گیا ہے جو پہلے سے ہی جیل میں بند ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ یکے بعد دیگرے تیستاسیتلواڑ، سابق آئی پی ایس افسر آر بی شری کمار اورصحافی محمد زبیر کی گرفتاری مخالفین اور ناقدین کے خلاف حکومت کا کریک ڈائون ہی نہیں بلکہ ملک کی جمہوریت، اظہار رائے کی آزادی، آزادیٔ صحافت و سچائی پر کھلا حملہ ہے۔
47سال قبل 1975میں اسی جون کے مہینہ میں اس وقت کی وزیراعظم اندرا گاندھی نے ملک میں ہنگامی حالات کا اعلان کرتے ہوئے باقاعدہ ایمرجنسی نافذ کردی تھی۔جون 1975 اور جون 2022 میںصرف ایک فرق ہے وہ ہے اعلانیہ اور غیر اعلانیہ کا۔ جون1975میں نافذ ہونے والی ایمرجنسی کے دو برسوں میں اندرا گاندھی اور ان کے صاحبزادے آنجہانی سنجے گاندھی نے جو کیا تھا آج اس سے کہیں سوا ہورہاہے۔ ایمرجنسی کے دنوں میں اندرا گاندھی نے سنسر شپ کے نام پر تقریباً پورے سماج کے منہ بند کر دیے تھے آج بھی وہی ہورہاہے، اس وقت بھی لاکھوں لوگوں کو بغیر مقدمہ چلائے قید اور تشدد کا نشانہ بنایا گیاآج بھی قید و بند اور تشدد ہورہاہے، آج تو حکومت کے پاس یو اے پی اے کے نام کا سفاک ہتھیار بھی ہے جسے وہ پوری بے رحمی کے ساتھ استعمال کررہی ہے۔دو برسوں کی ایمرجنسی میں سنجے گاندھی کے حکم پر لاکھوں غریبوں کی جھونپڑیوں کو بلڈوزر سے مسمار کر دیا گیا۔بلڈوزر آج بھی چل رہاہے، جھونپڑیا ں ہی نہیں آج قانونی طور پر بنائے پختہ مکانات ڈھائے جارہے ہیں۔ اندراگاندھی اوران کے حوارین کو اعلانیہ ایمرجنسی کی سزاتو دو برسوں کے بعد ہی ذلت آمیز ہار سے مل گئی تھی مگر اس غیر اعلانیہ ایمرجنسی کا دورانیہ بڑھتا ہی جارہاہے۔
[email protected]