پاکستان کو اعتماد میں نہ لینا بڑی غلطی: امریکی سینیٹر

0
image:news.rediff.com

واشنگٹن(ایجنسیاں) :امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے صدر جوبائیڈن کے افغانستان سے امریکی فوجیوں انخلا جیسے اہم موقع پر پاکستان کے وزیراعظم عمران خان سے رابطہ نہ کرنے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام کا نتیجہ تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق افغانستان میں 20 سالہ جنگ کے خاتمے کے لیے غیر ملکی فوجیوں کا انخلا کا عمل آخری مرحلے میں ہے اور آج بھی دنیا کا سب سے بڑا کارگو جہاز فوجیوں کا ساز و سامان لینے کابل آیا تھا۔
افغانستان سے غیر ملکی فوجیوں کے انخلا پر اتفاق طالبان اور امریکا کے درمیان گزشتہ برس 29 فروری کو دوحہ میں ہونے والے امن معاہدے میں کیا گیا تھا۔ اس معاہدے کے لیے امریکی وزارت خارجہ کی جانب سے بارہا پاکستان کی خدمات کا اعتراف کیا گیا تھا۔تاہم نئی امریکی حکومت کے قیام کے بعد سے افغانستان کے معاملے پر پاکستان سے رابطہ نہیں کیا گیا جس پر سیاسی تجزیہ کار سمیت امریکی حکام بھی حیرت کا اظہار کر رہے ہیں۔اس صورت حال پر امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم بھی خاموش نہ رہ سکے اور سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر لکھا کہ یہ سن کر حیرت ہوئی کہ صدر بائیڈن نے پاکستانی وزیر اعظم پاکستان عمران خان سے پاک امریکا اور افغانستان کے بارے میں رابطہ نہیں کیا۔ بات نہیں کی۔
امریکی سینیٹر نے مزید لکھا کہ کہ ہم کیسے توقع کر سکتے ہیں کہ پاکستان سے ہم آہنگی کے بغیر افغانستان سے ہماری واپسی موثر ہوگی جب کہ بائیڈن انتظامیہ واضح طور پر جانتی ہے کہ افغانستان میں ہمارے مسائل ہمارا تعاقب کر رہے ہیں۔
اپنی سلسلہ وار ٹویٹ کے آخر میں سینیٹر لنڈسے گراہم نے لکھا کہ مجھے یقین ہے کہ جوبائیڈن کا افغانستان سے فوجیوں کے انخلا کے عمل میں پاکستان کو شامل نہ کرنے کا فیصلہ بڑی تباہی کی صورت میں عراق میں ہونے والی غلطی سے بھی بدتر ثابت ہوگی۔

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS