تیار رہوا برادرکشی کا ایک اورمحاذ

0

شاہنواز احمد صدیقی
پچھلے شمارے میں ان صفحات میں الجیریا، مراقش اور اسپین کے تعلقات کے بارے میں روشنی ڈالی گئی تھی کہ کس طرح اس خطے میں کشیدگی بڑھتی جارہی ہے اور خارجی طاقتیں سیاسی حالات کو متاثرکر رہی ہیں۔
الجیریا اور مراقش شمالی افریقہ کے دواہم مسلم پڑوسی ہیں اور دونوں ملکوں میں مغربی صحارا کو لے کر قضیہ بہت پرانا ہے اوراس خطے سے اسپین کے انخلا کے بعد سے ہی دونوں ملک برسرپیکار ہیں۔ مراقش کی سرحد سے متصل مغربی صحارا ایک قحط سالی زدہ خطہ ہے اور آزادی سے پہلے ہی سے وہاں تحریک چل رہی ہے۔ مراقش اس پورے خطے پر دعویداری کر رہا ہے اوراس کا کہنا ہے کہ مغربی صحارا اس کا جنوبی صوبہ ہے۔ جبکہ الجیریا کا سخت موقف ہے کہ یہ علاقہ ایک آزاد ملک ہونا چاہئے اور وہ تحریک آزادی ’’مغربی صحارا‘‘ کو پوری حمایت دیتا ہے اور مغربی صحارا کی جلاوطن حکومت وہیں سے چل رہی ہے۔ ایک تنازع کئی دہائیوں سے چل رہا ہے مگر پچھلے دنوں اسپین کی پارلیمنٹ میں وہاں کے وزیراعظم کے اس بیان نے تہلکہ مچا دیا کہ وہ مغربی صحارا کے معاملہ پر مراقش کے موقف کی حمایت کرتا ہے کیونکہ یہ علاقہ عملی طورپر اگرمراقش کے زیرانتظام رہے گا تو یہ درست رہے گا۔جبکہ مراقش کا کہنا ہے کہ یہ مغربی صحارا کا خطہ بالکل منفرد ہے۔ یہاں کی بودوباش، زبان اور قبائلی نظام مراقش سے نہیں ملتا ہے نہ ہی اس کو مراقش کا حصہ قرار دیا جاسکتا ہے اس کو اب خودمختار ملک ، آزاد ریاست قرار دیا جائے کہ تنازع اقوام متحدہ میں زیرسماعت ہے۔ یہاں کی صورت حال کومدنظر رکھتے ہوئے اس کو محدود خودمختاری کی وکالت کرتا ہے جبکہ اس کو ایک آزاد ملک قرار دینے کو تیار نہیں ہے۔ اسپین کے وزیراعظم کا یہ بیان الجیریا کو ناراض کر گیا اور اس نے ناراض ہوکر اسپین کے ساتھ ان تمام سمجھوتوں کو رد کردیا جن کے تحت دونوں ملک دفاعی، توانائی اور تجارتی معاملات میں ایک دوسرے کے ساتھ زبردست تعاون کر رہے تھے۔ پچھلے ہفتہ الجیریا کے اس فیصلہ سے یوروپی یونین میں زبردست ناراضگی پھیل گئی اور 27ملکوں کی اس طاقتور تنظیم کا کہنا ہے کہ الجیریا کو یہ اختیار نہیں کہ وہ یک طرفہ طور پر اس سمجھوتے کو رد کردے کیونکہ یہ سمجھوتہ یوروپی یونین سے بھی جڑا ہوا ہے۔ یوروپی یونین نے وارننگ دی ہے کہ اگر الجیریا اس طرح کا وطیرہ اختیار کرتا ہے تواس پریوروپی یونین (ای یو) خاموش نہیں بیٹھے گا۔ الجیریا کا یہ فیصلہ اسپین کو جھٹکا دینے والا تھا کیونکہ اسپین بہت بڑی مقدار میں قدرتی گیس اسپین کو دیتا ہے اور الجیریا بھی بہت زیادہ مقدار میں غذائی اجناس وہاں سے لیتا ہے۔ اسپین اور الجیریا کے درمیان سمجھوتے کو ختم کرنے کے اعلان کے بعد اسپین کے وزیرخارجہ نے یوروپی یونین کا دورہ کیا اور اسپین کے دورے کے بعد ہی یوروپی یونین کا یہ بیان آیا۔ اس پرالجیریا کو اپنا موقف بدلنے پر مجبورہونا پڑا۔
یوکرین تنازع کے بعدسے ہی روس اورالجیریا کو لے کر کئی حلقوں میں چہ میگوئیاں کی جارہی تھیں کہ دونوں ممالک یوروپ کو بہت زیادہ قدرتی گیس سپلائی کرتے ہیں اور الجیریا اپنے قدرتی گیس کے ذخائر کی وجہ سے یوروپ کے ممالک کے لئے مشکلات پیدا کرسکتا ہے۔
ان دونوں ممالک نے فوجی مشقوں کو کھولنے کے لئے جو فوجی اڈے علاقے میں سخت کئے ہیں وہ مراقش کی سرحد سے بالکل قریب ہیں اوراس طرح سے مراقش کو واضح الفاظ میں پیغام دینا ہے۔ اس میں سب سے اہم فوجی اڈہ ’ہماغورفوجی اڈہ‘ ہے۔ الجیریا کے صوبہ بشار میں واقع یہ اڈہ مراقش کی سرحد سے بہت زیادہ دور نہیں ہے۔ ان مشترکہ مشقوں میں جن دیگرافواج کو شامل کیا گیا ہے ان کاانتخاب بھی دلچسپ ہے۔ ان مشقوں میں الجیریا، مصر، قزاخستان اور پاکستان بھی شامل ہیں۔ روس کے اسی فوجیوںکی شرکت سے اس محاذ کے منفرد اور موثر ہونے طرف اشارہ کرتے ہیں۔
ناقدین الجیریا اور روس کے درمیان مراسم کوتوسیع پسندانہ عزائم کا اظہار قرار دیتے ہیں خاص طورپر اس کے دیگر گروپ کی موجودگی، لیبیا کے علوہ مالے، موزمبیق اور سینٹرل افریکن ریپبلک میں ناٹو اور امریکی اثرات کو چیلنج کر رہا ہے۔ مالے میں حالیہ جھٹکوں نے فرانس، نیدرلینڈ اور دیگر یوروپی ممالک کو مشکلات میں مبتلا کردیا ہے۔ آج یہ دونوں ممالک یعنی مراقش اور الجیریا کے درمیان بالادستی کی کشمکش میں مراقش کے ساتھ یوروپی یونین کا ساتھ دینا قابل توجہ ہے۔
روس کی افریقہ، خاص طورپر مالے، موزمبیق، ایتھوپیا، لیبیا میں موجودگی اور حیران کر دینے والی موجودہ توانائی کی تجارت ومعیشت کو بھی متاثرکر رہی ہے۔ خاص طور پر ایسے حالات میں جب یوکرین کا محاذ کھلا ہوا ہے اور روس مکمل طورپر حالت جنگ میں ہے۔روس، الجیریا کو کتنی اہمیت دیتا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ چند روز قبل روس کی راجدھانی ماسکو میں الجیریا کے دفاعی ماہرین اور غیرملکی سیکورٹی کے اعلیٰ ترین عہدیدار نورالدین ماکیری اور سکریٹری کونسل کے سکریٹری نیکولائی پیٹروشیو (Nikolai Patrushev) کے درمیان بہت اہم میٹنگ ہوئی۔ پیٹروشیو روس کے اہم ترین اور صدر یونین کے معتمد ترین ماہرین میں شمار ہوتے ہیں۔ دونوں ملکوںکے درمیان ایک اہم ملاقات الجیریا کی پارلیمنٹ کے صدر (اسپیکر) براہیم برغالی اور روس کے وزیر خارجہ سرگئی لائوروف اورپیٹروشیو کے ساتھ الجیریا کی قیادت کے درمیان ملاقاتیں، یوکرین جنگ اور یوروپ میں توانائی بحران کو لے کر ہوئی ہے۔ یہ دونوں ممالک قدرتی گیس کے ذخائر کے معاملے میں مالامال ہیں اور روس و الجیریا کئی ملکوں خاص طورپر مغربی یوروپ میں قدرتی گیس سپلائی کرتے ہیں۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ یوکرین کی جنگ میں مراقش نے کھلم کھلا امریکہ کا ساتھ دیا ہے اور امریکہ کے ساتھ اظہار ہمدردی کیا ہے جبکہ الجیریا کا رویہ اظہرمن الشمس ہے۔