برطانیہ :وزارتِ عظمی کی دوڑمیں رشی سنک مضبوط امیدوار

0

لندن (ایجنسیاں) : برطانیہ کے سابق وزیر خزانہ رشی سنک کو ملک کے آئندہ وزیر اعظم کے مضبوط امیدوار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ کنزرویٹو پارٹی میں آئندہ وزیر اعظم کے لیے امیدواروں میں ان کو برتری حاصل ہے۔خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق کنزرویٹو پارٹی میں آئندہ وزیر اعظم کے امیدوار کے لیے بدھ کو رائے شماری ہوئی، جس میں 2امیدواروں کے نام فہرست سے خارج ہوئے جب کہ 6 امیدوار انتہائی کم برتری کے ساتھ اگلے مرحلے تک پہنچ گئے ہیں۔ برطانیہ کی پارلیمان میں کنزرویٹو پارٹی کو برتری حاصل ہے، اس لیے اس پارٹی کا سربراہ آئندہ کا وزیر اعظم ہوگا۔ ابتدائی مرحلے میں کنزرویٹو پارٹی اپنے سربراہ کا انتخاب کر رہی ہے، جو آگے چل کر وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالے گا۔اس رائے شماری میں ہندوستانی نژاد رشی سنک کو برتری حاصل ہوئی ہے۔ انہوں نے گزشتہ ہفتے ہی وزارت عظمیٰ سے مستعفی ہونے والے بورس جانسن کی کابینہ سے استعفیٰ دیا تھا، جس سے وزیر اعظم کے مستعفی ہونے کے لیے دباؤ بڑھ گیا تھا۔رائے شماری میں رشی سنک نے 88 ووٹ حاصل کیے تھے جب کہ اس کے بعد دوسرے نمبر پر بورس جانسن کی کابینہ میں وزیر دفاع کے طور پر شامل پینی موڈنٹ نے 67 ووٹ حاصل کیے۔سکریٹری خارجہ لز ٹرس کو کنزرویٹو پارٹی کے 50 ارکان کی حمایت حاصل ہو سکی۔ باقی 3 امیدوار بھی 30 سے زائد ووٹ حاصل کرکے اگلے مرحلے میں شامل ہو گئے ہیں۔کنزرویٹو پارٹی کے وزارتِ عظمی کے 6 امیدواروں میں رشی سنک کو برتری حاصل ہے۔کنزرویٹو پارٹی کی رائے شماری میں جو 2 امیدوار باہر ہوئے ان میں 2019 میں بورس جانسن کے بعد دوسرے نمبر پر آنے والے جرمی ہنٹ اور وزیرخزانہ عراقی کرد نژاد ناظم الزھاوی شامل ہیں۔برطانیہ کے دارالعوام یعنی ہاؤس آف کامنز کی 650 نشستوں میں سے 358 پر کنزرویٹو پارٹی کے ارکان منتخب ہوئے تھے جو کہ آئندہ وزیراعظم کے امیدوار کے حتمی انتخاب کی رائے شماری میں حصہ لے رہے ہیں۔
بیشتر رپورٹس میں امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ رشی سنک کنزرویٹو پارٹی کے ارکان کی حمایت کے حصول میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔رشی سنک نے بھی اپنی وزارت عظمیٰ کی مہم کے آغاز پر اعلان کیا تھا کہ وہ لوگوں کا اعتماد بحال کرنا چاہتے ہیں، ملک کی معیشت کی تعمیر ان کا مقصد ہے جب کہ وہ ملک کو متحد کرنے کے خواہاں ہیں۔رشی سنک کی عمر 42 برس ہے۔ ان کی پیدائش برطانیہ میں ہی ہوئی ہے۔ ان کے والد برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروسز میں خدمات انجام دیتے تھے جب کہ والدہ ایک مقامی فارمیسی میں کام کرتے تھیں۔ہندوستانی خبر رساں ادارے ’انڈین ایکسپریس‘ کے مطابق رشی سنک کے دادا دادی کی پیدائش پنجاب میں ہوئی تھی۔ بعد ازاں انہوں نے مشرقی افریقہ ہجرت کی اور 1960 کی دہائی میں وہ برطانیہ منتقل ہوئے، جہاں انہوں نے مختلف روزگار اختیار کیے۔
رشی سوناک نے برطانیہ کے اعلیٰ ترین نجی تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کی۔ پھر آکسفورڈ یونیورسٹی اور اسٹینفرڈ یونیورسٹی میں بھی زیرتعلیم رہے، جہاں سے انہوں نے ایم بی اے کیا۔انہوں نے 2009 میں اکشتہ مورتی سے شادی کی جو کہ آئی ٹی کمپنی ’انفوسس‘ کے شریک بانی اور ارب پتی ہندوستانی کارباری شخصیت این آر نارائن مورتی کی بیٹی ہیں۔
رشی سوناک کا سیاسی کریئر 2015 میں شروع ہوا جب کہ وہ یارک شائر میں رچمنڈ سے کنزرویٹو پارٹی کے ٹکٹ پر برطانوی دارالعوام کے رکن منتخب ہوئے۔انہوں نے برطانیہ کے یوروپ سے الگ ہونے کی حمایت کی تھی اور سابق وزیر اعظم تھریسامے کی کابینہ میں جونیئر وزیر بنے تھے۔بعد ازاں 2019 کے انتخابات سے قبل انہوں نے بورس جانسن کے وزارتِ اعظمیٰ کے امیدوارکے طور پر حمایت کی تھی۔
انتخابات میں کامیابی کے بعد بورس جانسن نے رشی سوناک کو ملک کے خزانے کا نگراںیعنی چیف سکریٹری بنایا جب کہ 2020 میں کابینہ میں رد و بدل ہونے پر رشی سوناک وزیر خزانہ بن گئے تھے۔برطانیہ میں وزیر اعظم اور نائب وزیر اعظم کے بعد وزیر خزانہ حکومت اور کابینہ میں سب سے اہم ترین عہدہ کہلاتا ہے۔