اعظم خان کو ہائی کورٹ سے راحت

0
www.dnaindia.com

ایک معاملہ میں ضمانت، دیگر 2معاملوں میں فیصلہ محفوظ
لکھنؤ (ایجنسیاں) : اترپردیش اسمبلی الیکشن کی پولنگ مکمل ہونے کے ایک دن بعد ہی سابق وزیر اور سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ اعظم خان کو راحت ملی ہے۔ لکھنؤ میں ان کے خلاف درج ایک معاملے میں منگل کو الٰہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ سے انہیں ضمانت مل گئی۔ حالانکہ پھر بھی وہ ابھی جیل میں ہی رہیں گے، کیونکہ ان کے خلاف دو معاملوں میں کورٹ نے فیصلہ محفوظ رکھا ہے۔الٰہ آباد ہائی کورٹ کے لکھنؤبنچ کے جسٹس رمیش سنہا کی سنگل بنچ نے اعظم خان کو ضمانت دینے کی ہدایت دی۔ اعظم خان کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 505(2) کے تحت چارج شیٹ داخل ہوئی ہے۔ کورٹ نے سماجوادی پارٹی کے رہنما اعظم خان کو سرکاری زمین ہڑپنے کے ایک معاملے میں ضمانت دے دی ہے۔ ضمانت ملنے کے بعد بھی وہ ابھی سیتاپور کی جیل میں بند رہیں گے۔ اعظم خان کی جانب سے پیش وکیل نے اپنے جرح میں عدالت سے کہا کہ ان کے مؤکل لمبے عرصے سے جیل میں قید ہے اور اس کیس میں ان کے خلاف درج مقدمہ کی ہنوز مجسٹریٹ عدالت میں اسکروٹنی ہونی ہے ۔ ساتھ ہی یہ معاملہ سیاست سے متاثر دکھا ئی دیتا ہے ۔
وہیں ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے پروزیکیوشن نے اپنے بحث میں کہا متعلقہ کیس کی رپورٹ عرضی گذار علامہ ضمیر نقوی کی جانب سے حضرت گنج کوتوالی میں یکم فروری سال 2019 کو فائل کردی گئی تھی، جس میں کہا گیا ہے کہ یہ معاملہ سال 2014 کا ہے لیکن حکومت کے اثر کی وجہ سے رپورٹ درج نہیں کی گئی تھی۔قابل ذکر ہے کہ متعدد کیس درج ہونے کے بعد سماج وادی سینئر رہنما اعظم خان نے 26فروری 2020کو عدالت میں مع اپنے بیوی تزئین فاطمہ اور بیٹے عبداللہ اعظم کے ساتھ خودسپردگی کی تھی، جہاں سے عدالت نے تینوں کو جیل بھیج دیا تھا۔دس ماہ بعد تزئین فاطمہ کو ضمانت مل گئی تھی، جبکہ بیٹے عبداللہ23مہینوں بعد جیل سے باہر آئے وہیں اعظم خان ہنوز سیتاپور جیل میں قید ہیں۔
واضح رہے کہ اعظم خان گزشتہ 2سالوں سے سیتاپور جیل میں بند ہیں۔ اعظم خان کے خلاف مجموعی طور پر 87مجرمانہ کیس درج ہیں، جن میں سے 84 ایف آئی آر اترپردیش میں 2017 میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد کے 2برسوں میں درج کی گئی تھی۔ان 84 معاملو ںمیں سے 81 معاملے 2019 کے لوک سبھا الیکشن کے عین قبل اور بعد کی مدت کے دوران درج کئے گئے۔