امت شاہ اور فاروق عبداللہ

0

ڈاکٹر وید پرتاپ ویدک

وزیر داخلہ امت شاہ نے بارہمولہ میں ہزاروں کشمیریوں سے براہ راست خطاب کیا اور اپنی تقریر میں اعداد و شمار کا انبار لگاکر مودی حکومت کی کامیابی کی قصیدہ خوانی کی لیکن انہوں نے عبداللہ، مفتی اور نہروخاندان کی حکومت کو کافی نکما ثابت کرنے کی کوشش کی۔ یہ بات تینوں خاندانوں کو بہت چبھ رہی ہے۔ نیشنل کانفرنس کے لیڈر ڈاکٹرفاروق عبداللہ نے تو فوراً اس کا جواب دینے کی کوشش کی۔ محبوبہ مفتی اور کانگریس بھی خاموش نہیں بیٹھیں گی۔ شاید غلام نبی آزاد بھی کچھ بول پڑیں تو حیرانی نہیں ہوگی۔ عبداللہ نے شاہ کی طرح نہ تو کوئی الزام لگایا ہے اور نہ ہی مرکز کی بی جے پی حکومت پر کوئی حملہ کیا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں صرف یہ بتایا کہ ان کی پارٹی نیشنل کانفرنس نے سری نگر میں کل 26سال حکومت کی ہے اور ان برسوں میں اس نے کشمیر کا چہرہ ہی بدل کر رکھ دیا ہے۔ان کی حکومت نے نہ صرف نئے نئے کارخانے لگوائے، کئی کالج اور یونیورسٹیاں بنوائیں، اسپتال کھلوائے، پنچایتی راج قائم کیا، پاور اسٹیشن اور ڈیموں کی تعمیر کروائی۔ لاکھوں لوگوں کو روزگار دیا اور عوامی فلاح وبہبود کے لیے کئی نئی تنظیمیں تشکیل دیں۔ فاروق عبداللہ نے جو حقائق اور اعداد و شمار پیش کیے ہیں، ان کی صداقت پر شک کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ کشمیر کو مرکزی حکومتوں نے جتنی مدد دی ہے، اس میں سے کچھ حصہ لیڈران اور افسران کی جیب میں جاتا رہا ہے لیکن یہ کس حکومت میں نہیں ہوتا؟ کشمیری لیڈروں پر بدعنوانی کے مقدمات چل رہے ہیں تو ملک کے کئی وزرائے اعلیٰ اور وزرا جیل کی ہوا بھی کھاتے رہے ہیں لیکن امت شاہ اپنے مخالفین پر جم کر نہ برسیں تو وہ کسی پارٹی کے لیڈر کیسے مانے جائیں گے۔ لیکن امت شاہ اور ملک کے دیگر تمام لیڈر یہ بھی سوچیں کہ اپنے مخالفین کی صرف مذمت کرنا اور وہ بھی تلخ زبان میں، کیا یہ ٹھیک ہے؟ اگر امت شاہ ان کی مذمت کرتے کرتے یہ بھی، چاہے دبی زبان سے ہی، کہہ دیتے کہ کشمیر جیسی ناہموار جگہ میں ان پارٹیوں کا کچھ نہ کچھ اچھا تعاون رہا ہے تو اب جو ’دنگل‘ شروع ہورہا ہے، وہ نہیں ہوتا۔ ان تینوں خاندانوں کی حکومتوں نے کشمیر کو کبھی پاکستان کے حوالہ کرنے کی بات نہیں کی۔ میں تو یہاں تک کہتا ہوں کہ کشمیر کی سبھی پارٹیوں اور علیحدگی پسندوں سے بھی حکومت ہند راست بات کیوں نہیں کرتی؟ امت شاہ نے یوں بھی انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ جموں و کشمیر میں جلد الیکشن کروانا چاہتے ہیں۔ انہیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ دفعہ 370 ہٹاتے وقت شاہ نے پارلیمنٹ کو یقین دلایا تھا کہ جموں و کشمیر اسمبلی کو پھر سے جلد ہی بحال کیا جائے گا۔
(مضمون نگار ہندوستان کی خارجہ پالیسی کونسل کے چیئرمین ہیں)
[email protected]