اے ایم یو میں 5 جنوری تک تعطیلات کا اعلان

0

پولیس نے آفتاب ہال کے کمرے میں لگائی تھی آگ، گرفتار کیے گئے 3لڑکوں کا اب تک پتہ نہیں
نئی دہلی: جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلباء پر مظالم کے ساتھ ساتھ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو)میں بھی اتوار کی رات پولیس نے طلباء پر خوب قہر برپا کیے ہیں۔ گھنٹوں تک آنسو گیس اور فائرنگ کی گئی ہے، جس میں درجنوں طلباء اور چند پولیس اہلکار کے زخمی ہونے کی بھی خبر آرہی ہے۔ اے ایم یو کے طلباء گزشتہ کئی دنوں سے شہریت قانون کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔ لیکن  رات میں جامعہ پر پولیس کے مظالم کے رد عمل میں اے ایم یو طلبا نے ناراضگی کا اظہار کیا تو پولیس نے ان پر کاروائی کی ہے۔ 
ذرائع کے مطابق طلباء اور پولیس کے مابین تصادم ہوا ہے۔ طلبا نے پتھراؤ کیا اور پولیس نے لاٹھی چارج کرتے ہوئے آنسو گیس کے گولے داغے اور فائرنگ بھی کی ہے۔ اس کے بعد پولیس آفتاب ہال میں داخل ہوگئی، جو کمرے خالی ملے انہیں نذر آتش کیا ہے۔ ایک کمرے میں تین لڑکے بھی ملے جنہیں پولیس نے بے رحمی سے مارا پیٹا اور اٹھا کر لے گئے ہیں خبر لکھے جانے تک تینوں لڑکوں کا پتہ نہیں چل سکا ہے۔
صبح 11 بجے تک ماحول شانت ہے ۔ البتہ اے ایم یو انتظامیہ نے 5 جنوری تک یونیورسٹی بند کیے جانے کا اعلان کردیا ہے۔ ذرائع کے مطابق طلباء جانے سے انکار بھی کرسکتے ہیں۔ لیکن انتظامیہ تعطیلات کے حق میں ہے۔ فی الحال انتظامیہ نے طلباء طلباء کو یونیورسٹی خالی کرنے کا وقت نہیں بتایا ہے۔
دوسری جانب اتر پردیش کے ڈی جی پی نے اے ایم یو کیمپس جلد سے جلد خالی کرائے جانے کی بات کہی ہے۔ ایک انگریزی نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے ڈی جی پی او پی سنگھ نے کہا کہ ’’آج علی گڑھ مسلم یونیورسٹی احاطہ کو خالی کرا دیا جائے گا۔ سبھی طالب علم کو گھر بھیجنے کی تیاری کی گئی ہے۔‘‘یو پی پولس کا الزام ہے کہ طلبا نے ان پر پتھراؤ کیا جس کے بعد ہی پولس نے کارروائی کرتے ہوئے آنسو گیس کے گولے کا استعمال کیا۔ ان ہنگاموں کے بیچ احتیاطاً یونیورسٹی کو 5 جنوری تک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ خبروں کے مطابق سبھی امتحانات بھی فی الحال ملتوی کر دیے گئے ہیں۔ یہ جانکاری اے ایم یو کے رجسٹرار عبدالحامد نے دی۔ انھوں نے کہا کہ ’’موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے ہم نے 5 جنوری تک سرمائی تعطیلات کا اعلان کر دیا ہے۔ امتحانات اس کے بعد کرائے جائیں گے۔
شہریت قانون کے خلاف جاری طلبا احتجاج کو دیکھتے ہوئے علی گڑھ، سہارنپور و میرٹھ میں انٹرنیٹ خدمات کو بند کر دیا گیا ہے۔ علی گڑھ ضلع مجسٹریٹ چندر بھوشن سنگھ نے میڈیا کو بتایا کہ ’’علی گڑھ شہر میں انٹرنیٹ خدمات 15 دسمبر کی شب 10 بجے سے 16 دسمبر کی شب 10 بجے تک کے لیے بند کیا گیا ہے۔ یہ احتیاطی قدم علی گڑھ مسلم یونیورسٹی طلباء کے مظاہروں کو دیکھتے ہوئے اٹھایا گیا ہے۔‘‘ میرٹھ کے ضلع مجسٹریٹ نے اپنے بیان میں 15 دسمبر کی 12 بجے شب سے 16 دسمبر کی 12 بجے شب تک علاقے میں انٹرنیٹ بند کیے جانے کی بات کہی ہے۔ اسی طرح سہارنپور کے ضلع مجسٹریٹ نے 15 دسمبر کی شب 12 بجے انٹرنیٹ بند کرنے کا اعلان کیا اور ساتھ ہی کہا کہ صورت حال بہتر ہونے پر انٹرنیٹ کی بحالی سے متعلق حکم جاری کیا جائے گا۔

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS