مسلمان، ہندوتو اور قومیت کی نئی بساط

0

کانگریس پارٹی کے لیڈر سلمان خورشید اپنی کتاب”Sunrise over Ayodhya: Nationhood in our times”کی وجہ سے ان دنوں موضوع بحث بنے ہوئے ہیں۔ ان کی مذکورہ کتاب نے ایک طوفان کھڑا کر دیا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے ’ہندوتو‘ کا موازنہ ’داعش‘ اور ’بوکوحرام‘ جیسی تشدد پسند تنظیموں سے کر دیا ہے۔ اسی کے ساتھ ہی ہندوازم اور ہندوتو کے درمیان فرق پر ایک بار پھر بحث بھی چھڑ گئی ہے۔
17 نومبر کو انگریزی اخبار ’انڈین ایکسپریس‘ میں شائع اپنے مضمون میں سلمان خورشید نے یہ صفائی دینے کی کوشش کی کہ ’ہندوتو‘ پر لکھے گئے ان کے صرف ایک جملہ پر یہ طوفان کھڑا ہوگیا ہے جب کہ کئی صفحات میں ہندودھرم کی خوبیوں پر کیے گئے تبصرہ کو نظرانداز کردیا گیا۔ سلمان خورشید نے اپنے موقف کی وضاحت میں کئی انٹرویوز بھی دیے ہیں جن میں وہ ہندو دھرم اور ہندوتو کے فرق کو سمجھاتے نظر آتے ہیں اور آئندہ بھی ہندوتو کے خلاف جنگ جاری رکھنے کا عزم رکھتے ہیں۔ ان کے بقول انہیں اندازہ تھا کہ اس قسم کا ردعمل آ سکتا ہے۔ بعض مواقع پر وہ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ’ہندوتو‘ بالکل ’داعش‘ یا ’بوکوحرام‘ جیسا تو نہیں ہے لیکن ان کے درمیان ’مماثلت‘ پائی جاتی ہے۔ ہندوتو کے موضوع پر جو کچھ سلمان خورشید کہنا چاہتے ہیں، اس سے اتنا تو صاف ہے کہ ’ہندوتو‘ کے علمبردار اس سے خوش نہیں ہیں اور اسی لیے ’ہندوتووادیوں‘نے مبینہ طور پر ان کے گھر کو بھی نذر آتش کردیا ہے۔ لیکن خود اندرون خانہ سب کچھ ٹھیک نہیں چل رہا ہے۔ کانگریس کے معروف لیڈر غلام نبی آزاد اور ہریش راوت بھی سلمان خورشید سے متفق نظر نہیں آ رہے ہیں۔ گویا یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ پارٹی اور لیڈران دونوں کا نقطۂ نظر ایک ہے یا گھرمیں نظریاتی تضاد ہے۔ کیا سچ مچ کانگریس پارٹی ’ہندوتو‘ کے تئیں اپنے نرم رویہ کی سیاست کو چھوڑ کر دستور ہند کے سیکولر مزاج کو بڑھاوا دینے کا عزم کر چکی ہے جیسا کہ اس موضوع پر سلمان خورشید کو راہل گاندھی سے ملی حمایت سے اندازہ ہوتا ہے یا ابھی بھی آئیڈیولوجیکل کنفیوژن کا سلسلہ جاری ہے جیسا کہ غلام نبی آزاد اور ہریش راوت کے بیانات سے پتا چلتا ہے؟
کانگریس پارٹی کے لیڈران کے درمیان ہندوتو کے متعلق جو بھی اختلافات ہوں، ان کو پارٹی کی سطح پر حل کرنا ان کا داخلی معاملہ ہے لیکن سلمان خورشید کے اس قضیہ کو ہوا دینے کی ٹائمنگ پر سوالیہ نشان ضرور لگے گا۔ کیونکہ اس بیان سے نہ ہندوتو میں کوئی سدھارہوگا اور نہ مسلمانوں میں کوئی خاص پیغام جائے گا۔ البتہ کانگریس کو نقصان اور بی جے پی کو بڑا فائدہ ہونے کے امکانات ضرور روشن ہو گئے ہیں۔کانگریس کے سیاسی تناظر میں اُن کا یہ بیان اس مصرع کا مصداق بھی نظر آتا ہے کہ
’ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو‘
ساتھ ہی یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ آیاسلمان خورشید نے کانگریس کے حق میں مسلم اقلیت کو خوش کرنے کے لیے یہ شوشہ چھوڑا ہے؟ جیسا کہ وہ 2014کے عام انتخابات کے دوران مسلمانوں کو خوش کرنے کے لیے بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر پر کانگریس صدر سونیا گاندھی کی آنکھوں سے آنسو نکال چکے ہیں۔ اگر وجہ یہی ہے تو اس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ابھی بھی جدید ہندوستان میں قدیم، مسترد اور فرسودہ سیاسی ہتھکنڈوں کواستعمال کر رہے ہیں۔ ایسالگتاہے کہ نئی نسل کے مسلم نوجوانوں کے سماجی، سیاسی، معاشی اور ملی مسائل سے نہ ان کو کوئی دلچسپی ہے بلکہ ان کے حل کی خاطر سنجیدہ بھی نہیں ہیں اور کمیونٹی کے مسائل کو ٹھیک سے سمجھنے میں بھی ناکام۔ سلمان خورشید نے بالکل وہی عمل دہرایا ہے جو کانگریس کے منی شنکر ایئر اور کپل سبل نے گزشتہ گجرات اسمبلی انتخابات کے موقع پر کیا تھا۔ ان دونوں کانگریسی لیڈران کے تبصروں کا استعمال نریندر مودی جی نے مؤثر انداز میں کرکے بی جے پی کو جیت سے ہمکنار کردیا تھا۔ اب ملک کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں اسمبلی انتخابات قریب ہیں ایسے وقت میں سلمان خورشید ’ہندوتو‘ اور ایودھیا کے مسئلہ کو چھیڑ کر بی جے پی کی لڑائی کو آسان بنارہے ہیں۔ ایودھیا کا جو مسئلہ تقریباً دم توڑ چکا تھا، اس کو نئی زندگی سلمان خورشید کی کتاب سے مل گئی۔ حکومت مخالف لہر کے باوجود اترپردیش کی بی جے پی حکومت اس کتاب سے اچانک قوت اور توانائی محسوس کرنے لگی ہے۔ ابھی اکھلیش یادو کا جناح والا غیر ضروری بیان اپنا اثر کھویا بھی نہیں تھا کہ سلمان خورشید نے ہندوتوکا جھنڈا اپنے ہاتھ سے لہرا دیا۔ ان لیڈران کو شاید اس بات کا اندازہ نہیں ہے کہ اس ملک کی مسلم اقلیت کے بھی وہی مسائل ہیں جو دوسرے طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے ہیں۔ ہر بار مندر اور مسجد جیسے خالص مذہبی اور جذباتی مسئلہ کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرکے ایک طبقہ کو دوسرے طبقہ سے برسرپیکار رکھنا در اصل سیاسی پارٹیوں کے فکری دیوالیہ پن کا غماز ہے۔ اس کی سب سے بڑی قیمت مسلم اقلیت کو چکانی پڑتی ہے اور شہریت و اخوت جیسے جمہوری اصولوں کی بنا پر جو حقوق تمام شہریوں کو یکساں طور پر مہیا کروانا منتخب حکومت کی ذمہ داری ہونی چاہیے، ان سے پہلوتہی کرنے کا بہانہ مل جاتا ہے جس کے لیے برسراقتدار پارٹی کے ساتھ ساتھ حزب اختلاف بھی برابر کی ذمہ دار ہوتی ہے۔ مسلم اقلیت کو صرف ووٹ کا بینک سمجھنے کی سیاست نے جو نقصان مسلمانوں کو پہنچایا ہے، اس کی جھلک پورے طور پر سچر کمیٹی کی رپورٹ میں نظر آتی ہے۔ وہ رپورٹ بھی اب پرانی ہوچکی ہے۔ آج اگر ازسرنو سچر کمیٹی جیسی رپورٹ تیار کروائی جائے تو پتہ چل جائے گا کہ حالات مزید کتنے بدتر ہوگئے ہیں۔ کانگریس پارٹی میں مسلم اقلیت کی نمائندگی کا دعویٰ کرنے والے مسلم چہروں کو اب سمجھنا چاہیے کہ ان کی اصلیت اور ناکامی اجاگر ہوچکی ہے۔ آج کا نوجوان اور تعلیم یافتہ مسلم طبقہ اپنے مسائل کو اسی دستوری دائرہ میں اور اسی قوت و سنجیدگی سے حل کرانے میں یقین رکھتا ہے جس کے لیے اکثریتی طبقہ کا نوجوان کوشاں نظر آتا ہے۔ وہ اپنے دستوری حقوق کی بازیابی کے لیے تمام دستوری اصولوں کی رہنمائی میں اپنی سیاسی لڑائی لڑنا جانتا ہے۔ سی اے اے اور این آر سی کے خلاف پرامن مظاہروں کے ذریعہ انہوں نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ اپنی لڑائی بہتر ڈھنگ سے لڑسکتے ہیں اور ملک کے دوسرے انصاف پسند طبقوں کو بھی اپنے کاز کی سچائی سے باخبر کرکے ان کی حمایت حاصل کرسکتے ہیں۔ جو بھی سیاسی پارٹی مسلمانوں کو جناح کی کہانیوں اور ایودھیا کے فرقہ وارانہ جال میں بار بار ڈال کر ترقی کی راہ میں جاری ان کی جدوجہد کو کمزور کرنا چاہتی ہے، اس کو سمجھنا چاہیے کہ ان کا فریب اب نہیں چلے گا۔ نئی نسل پوری جرأت اور اعتماد کے ساتھ اس ملک میں اپنے دستوری حقوق کو حاصل کرنے کا لائحۂ عمل تیار کر رہی ہے اور آئندہ بھی کرے گی۔مسلمان سمجھنے لگا ہے کہ اگر نام نہاد سیکولر پارٹیاں اس سفر میں مسلم اقلیت کے لیے کوئی معاون کردار ادا کرسکتی ہیں تو ان کا استقبال ہے ورنہ یہ قافلہ ان کے بغیر بھی اپنی منزل تک پہنچنے کا حوصلہ رکھتا ہے۔
(مضمون نگار راشٹریہ سہارا اردو کے ڈپٹی گروپ ایڈیٹر ہیں)

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS