بھولے بسرے نغمہ نگاروں کی تاریخ پر کتاب

0

نئی دہلی، (یو این آئی)
ملک میں 1933 میں ایک ایسی بولتی ہندی فلم ’کرما‘ بنائی گئی تھی جس میں ایک گانا انگریزی میں بھی تھا۔ فلم کے پروڈیوسر ہمانشو رائے تھے اور ان کی ہیروئن ان کی اہلیہ دیویکا رانی تھیں جنہوں نے اپنی آواز میں ایک گانا گایا تھا۔ فلموں میں پلے بیک سنگنگ کی شروعات 1935 میں ریلیز ہونے والی فلم ’دھوپ چھاؤں‘ سے ہوئی تھی اور اسے پنڈت سدرشن نے عکس بند کیا تھا۔ اس فلم کی موسیقی اس دور کے 2 مشہور موسیقار رائے چندر بورال اور پنکج ملک نے ترتیب دی تھی۔ 
ہندی فلموں کے پہلے آزاد نغمہ نگار دیناناتھ مدھوک تھے جبکہ دیگر مشہور نغمہ نگار سمپت لال سریواستو عرف انج، پیارے سنتوشی لال، رمیش گپتا، پنڈت اندرا سرسوتی کمار ’دیپک‘ منشی عباس علی، آرزو لکھنوی، تنویر نقوی، پنڈت مدھر گجانن جاگیردار جیسی شخصیات تھے  جنہیں لوگ آج جانتے تک نہیں یا ان کے نام لوگوں کے ذہنوں سے مٹ چکے ہیں۔ نغمہ نگار پردیپ نے بھی فلموں میں گانے گائے۔ منشی پریم چند نے فلم شیردل عورت اور نوجوان کیلئے مکالمے بھی لکھے تھے۔ نوجوان پہلی فلم تھی جس میں کوئی گانا نہیں تھا۔ ہندی سنیما کے ابتدائی دور میں تلسی داس کبیر داس، سورداس، میرا اور رے داس کی اصطلاحات بطور نغمہ استعمال ہوتی تھیں۔ شاعر جے شنکر پرساد اور سمترانند پنت کے گیت بھی فلموں میں استعمال کیے گئے تھے اور نامور مصنف امرت لال ناگر نے بھی فلموں کیلئے گیت لکھے تھے۔
یہ غیر معمولی معلومات وزارت اطلاعات نشریات کے پبلیشنگ کے محکمہ نے لاک ڈاؤن میں شائع ہونے والی کتاب ’سات سروں کا میلہ‘ میں دی ہے۔ فلم صحافی راجیو سریواستو کی تحریر کردہ اس کتاب کے لئے مشہور نغمہ نگار حسرت جے پوری نے بھی ایک گیت ’سات سروں کا میلہ‘ لکھا تھا جو اس کتاب میں شامل کیا گیا ہے۔ سریواستو نے اپنی فلمی صحافت کے دوران فلمی گانوں کے بارے میں بہت ساری معلومات سدا بہار اداکار دیوانند سے لے کر سروں کی ملکہ لتا منگیشکر، آشا بھوسلے، منا ڈے، نوشاد، امیتابھ بچن، یش چوپڑا، مجرح سلطان پوری اور امین سیانی جیسے لوگوں سے مل کر فلمی گیتوں کے بارے میں کئی نایاب معلومات یکجا کی ہیں اور اس کی بنیاد پر انہوں نے یہ کتاب لکھی ہے۔ انہوں نے کتاب کے دیپاچہ میں بھی اس کا تذکرہ کیا ہے۔
کتاب کے مطابق 14 مارچ 1931 کو ممبئی کے مجسٹک سنیما گھر میں پہلی بولتی فلم ’عالم آرہ‘ نمائش کے لئے پیش کی گئی جس کے مکالمے اور گیت جوزف ڈیوڈ نے لکھے تھے لیکن وہ آزاد نغمہ نگار نہیں تھے۔ دینا ناتھ مدھوک 1932 میں پہلی بار نغمہ نگار بنے جب انہوں نے پہلی بار فلم ’رادھے شیام‘ میں گیت لکھے۔ فلم کو لاہور کی کمپنی کمل مووی ٹون نے پروڈیوس کیا تھا۔ اس فلم میں تمام 29 گانے مدھوک کے تھے۔ اسی کا ایک فلم کا ایک گانا مدھوک پر بھی فلمایا گیا تھا۔ اس کے 3 سال بعد پلے بیک سنگنگ کی شروعات فلم ’دھوپ چھاؤں‘ سے ہوئی جو بنگلہ فلم ’بھاگیہ چکر‘ کے نام سے بنائی گئی تھی۔ اس کے گیت پنڈت سدرشن نے لکھے تھے۔ 1932 میں بننے والی فلم ’رادھے شیام‘ میں دیناناتھ مدھوک نے پہلی بار بطور نغمہ نگار گیت لکھے تھے۔
کتاب کے مطابق پریم چند کی تحریر کردہ فلم ’مل‘ 1934 میں بنائی گئی تھی جسے ضبط کرلیا گیا تھا۔ بعد میں وہ 1936 میں ’دیا کی دیوی عرف غریب پرور‘ نام سے بنائی گئی اور اس میں سورداس کی شلوک کو گیت کے طور پر گایا گیا۔ 1934 میں پریم چند کے ناول سیواسدم پر ایک فلم بنائی گئی تھی جس کے نغمہ نگار ممکنہ طور پر سمپت لال سریواستو ’انج‘ تھے۔ 1935 میں فلم ’آزادی‘ میں کبیرداس کے شلوک استعمال ہوئے تھے اور 1935 میں ’دیوداس‘ کی گیت پنڈت کیدار شرما نے قلمبند کیے تھے۔ 1936 کی فلم ’اچھوت کنیا‘ کے گیت جے ایس کشیت نے لکھے تھے۔ 1938 میں سمپت لال سریواستو ’انج‘ نے فلم ’پورنما‘ کیلئے گانے لکھے تھے اور پردیپ نے پہلی بار 1939 میں فلم ’کنگن‘ کیلئے گانے لکھے تھے۔ پردیپ نے اس فلم میں لیلا چٹنیس کے ساتھ گانے بھی گائے تھے۔
1939 میں ہی ’سنت تلسی داس‘ پر بننے والی فلم کے گانے پیارے لال سنتوشی اور پنڈت اندرا نے لکھے تھے۔ اسی سال 1939 میں آرزو لکھنوی نے فلم ’دشمن‘ کیلئے گیت لکھے تھے۔ کمال امروہی نے سہراب مودی کی مقبول فلم ’پکار‘ کے لئے امیر حیدر کمال امروہی کے نام سے گانے لکھے۔ سمپت لال سریواستو نے 1940 میں نرسی بھگت کیلئے نغمے لکھے تھے۔ محبوب خان کی مشہور فلم ’عورت‘ کے گیت ڈاکٹر صفدر ’آہ‘ سیتاپوری نے لکھے تھے۔ 1941 میں ہندی کے مشہور مصنف امرت لال ناگر نے فلم ’سنگم‘ کے لئے نغمے لکھے تھے۔ اس فلم میں جے شنکر پرساد کے ایک گیت ’ارے کہیں دیکھا ہے تم نے‘کا استعمال ہوا تھا۔  مدھوک نے 1942 میں ’بھکت سورداس‘ پر بنی فلم کے گیت لکھے تھے۔ 1942 میں امرت لال ناگر نے فلم ’کنوارا باپ‘ کیلئے بھی نغمے لکھے تھے۔ 1943 کی فلم ’بھکتا رے داس‘ میں ، رے داس کی تحریک کو بطور گانا استعمال کیا گیا تھا۔ 43 میں ’رام راجیہ‘ فلم کے تمام گانوں کو رمیش گپتا نے لکھا تھا۔ یہ وہی فلم تھی جو گاندھی جی نے اپنی زندگی میں پہلی بار دیکھی تھی۔ 1944 میں بنی دلیپ کمار کی پہلی فلم ’جوار بھاٹا‘ کے تمام گانے پنڈت نریندر شرما نے قلمبند کیے تھے۔ سمترانند پنت کے گیتوں کو ادے شنکر کی فلم کلپنا میں استعمال کیا گیا تھا۔ کتاب میں 1931 سے 2020 تک اہم گانوں اور موسیقی کا تجزیہ کیا گیا ہے کہ کس طرح نغموں اور میوسیقی میں تبدیلیاں رونما ہوئیں۔
 

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
1
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here