بحیرۂ اسود میں تجارتی جہازوں پر حملے، بھارت نے ملاحوں کے تحفظ کی مانگ کی

0
تجارتی جہاز کی فائل فوٹو، روزنامہ سہارا کی میڈیا لائبریری؛ حالیہ حملوں میں شامل جہاز کی تصویر نہیں۔
تجارتی جہاز کی فائل فوٹو، روزنامہ سہارا کی میڈیا لائبریری؛ حالیہ حملوں میں شامل جہاز کی تصویر نہیں۔

نئی دہلی، ۸ اکتوبر: بحیرۂ اسود میں بھارتی ملاحوں والے تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد بھارت نے شہری جہاز رانی اور ملاحوں کے تحفظ کی مانگ کی ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال کے حوالے سے شائع رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ دو دن میں چار جہاز حملوں کا نشانہ بنے۔ کئی بھارتیوں کو بچا لیا گیا، جبکہ زخمی ملاحوں کا علاج جاری ہے۔ نئی دہلی نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تجارتی سفر اور عام لوگوں کی جان کو جنگ کے خطرے سے محفوظ رکھنے کی ضرورت ہے۔

فری پریس جرنل کی جمعرات کی رپورٹ کے مطابق پہلے جہاز پر تین بھارتی شہری تھے، جن میں سے ایک زخمی ہوا اور اسے اسپتال میں علاج دیا جا رہا ہے۔ بھارتی سفارتی عملہ رومانیہ کے حکام کے ساتھ ان لوگوں کی خیریت کے لیے رابطے میں ہے۔ آکاش وانی کی بدھ کی خبر میں بھی اس جہاز پر تین بھارتیوں اور ایک زخمی کے علاج کی اطلاع دی گئی تھی۔ جہاز کے نام کی مختلف رپورٹوں میں ہجے الگ ملتے ہیں، اس لیے خبر میں اسے صرف نام کے اختلاف کی بنیاد پر دو الگ واقعات نہیں سمجھا جا رہا۔

فری پریس جرنل نے دوسرے متاثرہ جہازوں میں الفا وطن، ایبل اور افرا میکس ریو کا ذکر کیا ہے۔ اس کے مطابق ایبل کے تمام ۱۸ عملے کے افراد، جن میں سات بھارتی شامل تھے، بچا لیے گئے۔ ان سات میں سے ایک زخمی تھا۔ بلغاریہ نے امدادی کارروائی میں اہم کردار ادا کیا، جس پر بھارت نے شکریہ ادا کیا۔ اسی رپورٹ میں افرا میکس ریو پر ۲۳ بھارتی شہریوں کے محفوظ نکالے جانے اور زخمیوں کے علاج کی بات بتائی گئی ہے۔ الفا وطن کے عملے کی مکمل تفصیل ترجمان کے بیان کے وقت دستیاب نہیں تھی۔

اسی لیے معلوم جہازوں کے بھارتی عملے کی تعداد کو تمام متاثرہ جہازوں کا حتمی مجموعہ نہیں کہا جا سکتا۔ جو افراد بچائے گئے وہ زندہ اور محفوظ مقام پر پہنچے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ کسی کو چوٹ نہیں آئی۔ محفوظ بچاؤ اور طبی حالت الگ تفصیلات ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کے لیے سفارت خانوں کا رابطہ، علاج اور واپسی کی واضح معلومات اہم ہوں گی۔ موجودہ خبروں میں ہر ملاح کے گھر واپس پہنچنے کی تصدیق نہیں دی گئی ہے، اس لیے بچاؤ کی خبر کو وطن واپسی کا اعلان نہیں بنایا جا رہا۔

ٹائمز آف انڈیا نے بھارت کے موقف میں تجارتی جہازوں، ملاحوں اور شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا بند کرنے کی مانگ نمایاں کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق بھارت روس اور یوکرین کے ساتھ محفوظ جہاز رانی اور حملوں سے بچنے کے امکانات پر گفتگو کر رہا ہے۔ اس میں اناج اور توانائی کی برآمد سے متعلق دونوں طرف کے خدشات بھی شامل ہیں۔ اس طرح موضوع صرف ایک جہاز کے نقصان کا نہیں، بلکہ سمندری راستے کے مسلسل استعمال اور شہری عملے کی حفاظت کا بھی ہے۔ مذاکرات کا ذکر کسی مکمل معاہدے کی تصدیق نہیں ہے۔

فری پریس جرنل کی رپورٹ کے مطابق بھارت نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ملاحوں کی حفاظت کے لیے بین الاقوامی تعاون کی تجویز بھی پیش کی۔ اس اقدام میں لائبیریا شریک قیادت میں ہے اور ۲۵ ملک شامل ہوئے ہیں۔ یہ سفارتی کوشش ہے، فوری طور پر ہر جہاز کے لیے حفاظت کی ضمانت نہیں۔ دوسری طرف ایسوسی ایٹڈ پریس نے بلغاریہ میں سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس اور صدر کی بحیرۂ اسود کے بگڑتے ماحول پر تشویش کی خبر دی۔ اس سے خطے میں شہری جہاز رانی کے خطرے کی وسعت سامنے آتی ہے۔

پس منظر میں ملاحوں کا کام عالمی تجارت کو چلانے سے جڑا ہے، لیکن جنگی علاقوں کے قریب انہیں ایسا خطرہ پیش آ سکتا ہے جس میں ان کا کوئی سیاسی کردار نہیں ہوتا۔ جہاز پر مختلف ملکوں کے کارکن ایک ساتھ ہوتے ہیں، اس لیے بچاؤ اور طبی مدد میں سرحد پار تعاون ضروری بنتا ہے۔ آئندہ اہم پیش رفت زخمیوں کی حالت، نامکمل عملے کی معلومات اور محفوظ راستے کے لیے گفتگو ہوگی۔ فی الحال بھارت کا واضح مطالبہ حملے روکنے اور شہری جہاز رانی کو تحفظ دینے کا ہے؛ چاروں واقعات کی مکمل تفتیش اور ذمہ داری کی تفصیل الگ سامنے آنی باقی ہے۔

حوالہ جات

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS