بادل پھٹنے سے جموں کشمیر میں 7 اور ہما چل پرد یش میں 9 افراد کی موت

0
Varanasi: A flooded market after heavy rains in Varanasi, Wednesday, July 28, 2021. (PTI Photo) (PTI07_28_2021_000064B)

شملہ/جموں/سری نگر (ایس این بی /ایجنسیاں) : ہماچل پردیش اور مرکز کے زیر انتظام خطوں جموں کشمیر اور لداخ میں بارش کے سبب آنے والے سیلاب سے بدھ کو کم از کم 16 لوگوں کی موت ہو گئی اور کئی مکانات، کھڑی فصلوں اور ایک چھوٹے پن بجلی پلانٹ کو نقصان پہنچا۔ حکام نے یہ جانکاری دی۔ انہوں نے بتایا کہ جموں کشمیر کے کشتواڑ ضلع کے ایک دور دراز گائوں میں بدھ کی علی الصباح 4 بجے بادل پھٹنے سے 7 لوگوں کی موت ہو گئی اور 17 دیگر زخمی ہو گئے جبکہ پہاڑی ریاست ہماچل پردیش میں اچانک آنے والے سیلاب میں کم از کم 9 لوگوں کی موت ہو گئی، 2 زخمی ہو گئے اور 7 لاپتہ ہو گئے۔ حکام نے بتایا کہ مرکز کے زیر انتظام خطہ لداخ میں کرگل کے مختلف علاقوں میں 2 بادل پھٹنے سے ایک چھوٹے پن بجلی پلانٹ، تقریباً 12 مکان اور کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچا ہے۔
وادی کشمیر میں پیر کی رات سے وقفہ وقفہ سے ہورہی زبردست بارش کے دوران کئی مقامات پر بادل پھٹنے کے نتیجے میں پیدا شدہ سیلابی صورتحال نے تباہی مچا دی ہے۔ جموں خطہ کے پہاڑی ضلع کشتواڑ میں کم از کم 7 افراد لقمہ اجل بن چکے اور ایک درجن زخمی جبکہ زائد از 2 درجن لاپتہ ہوئے ہیں۔ہیںجبکہ وادی کشمیر کے مختلف علاقوں میں مکانوں اور دیگر ڈھانچوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔جموں کشمیر پولیس نے بتایا کہ کشتواڑ کے دور دراز دچھن علاقہ میں بادل پھٹنے سے پیدا شدہ سیلابی صورتحال نے بڑی تباہی مچادی ہے۔ یہاں تک کہ ابھی تک کم از کم 7 افراد کے لقمہ اجل بننے کی تصدیق ہوچکی ہے۔ پولیس نے یہ بھی کہا ہے کہ علاقے میں کم از کم 20 افراد اب بھی لاپتہ ہیں اور بچاؤ کارروائیاں جاری ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ شدید برسات کے دوران گزشتہ شب دچھن کے پونزر علاقہ میں بادل پھٹے اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک سیلابی ریلے نے دیگر ڈھانچوں کے ساتھ ساتھ کم از کم 6 رہائشی مکانات کو مکینوں سمیت بہا لے گیا۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ چونکہ ابھی تک کم از کم 20 لوگ لاپتہ ہیں لہٰذا مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔
دریں اثنا وادی کشمیر کے بانڈی پورہ علاقہ میں بھی بادل پھٹنے کا ایک واقعہ پیش آیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ضلع بانڈی پورہ کے آلوسہ علاقہ میں پیش آمدہ اس واقعہ میں ایک رہائشی مکان اور ایک مسجد کو شدید نقصان پہنچا ہے جبکہ سیب وغیرہ کے کئی باغات اور دھان کے کھیتوں کو بھی خاصا نقصان پہنچا، تاہم اطلاعات کے مطابق اس واقعہ میں کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔وادی کے دیگر کئی علاقوں سے بھی شدید بارش کے نتیجے میں سیلابی صورتحال پیدا ہونے اور کھیتی وغیرہ کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ واقعہ پیش آنے کے ساتھ ہی پولیس، فوج، این ڈی آر ایف، سول انتظامیہ اور مقامی لوگ بچاؤ کارروائی میں لگے ہوئے ہیں، تاہم ناساز موسمی حالات سے ان کے کام میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔
جموں زون پولیس کے انسپکٹر جنرل نے اپنے آفیشل ٹویٹر ہینڈل پر ’کشتواڑ فلیش فلڈس‘ کے بارے میں اپنے تازہ اپ ڈیٹ میں کہا کہ ’مزید 5 زخمیوں کو بچایا گیا، اب تک کل 17 افراد بچائے گئے جن میں سے 5 شدید زخمی ہیں اور اب تک 7 لاشوں کو بر آمد کیا گیا ہے، بچاؤ آپریشن ہنوز جاری ہے۔‘ اس سے قبل کشتواڑ پولیس نے اپنے ٹویٹر ہینڈل پر سیلابی ریلوں کے بارے میں اپ ڈیٹ فراہم کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’کشتواڑ کے ہونزر دچھن علاقہ میں بادل پھٹنے سے 6 مکان اور ایک راشن ڈپو کو نقصان پہنچا ہے، 25 سے 26 مقامی افراد لاپتہ ہیں، اب تک 5 لاشوں کو برآمد کیا گیا ہے اور 12 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ بچاؤ آپریشن جاری ہے۔‘
دریں اثنا وزیر اعظم کے دفتر میں وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا ہے کہ کشتواڑ کی اس صورتحال کی باریکی سے نگرانی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فضائی فورس کے حکام کے ساتھ بھی رابطہ کیا گیا ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر ان کی مدد بھی حاصل کی جا سکے۔ نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اس واقعہ میں لاپتہ ہونے والے افراد کی صحیح سلامت بازیابی کی دعا کرتے ہوئے اپنے ایک ٹویٹ میں کہاکہ ’کشتواڑ کے بالائی علاقے میں بادل پھٹنے کی انتہائی دلدوز خبر آ رہی ہے۔ دعا کرتا ہوں کہ لاپتہ افراد صحیح و سلامت باز یاب ہوں اور جو از جان ہوئے ان کے ارواح کو سکون میسر ہو۔‘ پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کشتواڑ میں پیش آئے اس سانحہ پر اظہار افسوس کرتے ہوئے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’کشتواڑ میں بادل پھٹنے کا واقعہ پیش آنے سے مجھے رنجیدگی ہوئی، اس سانحہ میں جن کے عزیز جاں بحق ہوئے ان کے ساتھ اظہار ہمدردی اور لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے دعا گو ہوں۔‘

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here