آسام-میگھالیہ کے درمیان 50 سال پرانا سرحدی تنازع حل

0

معاہدہ پردونوں ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کے دستخط
نئی دہلی (ایجنسیاں) : آسام اور میگھالیہ کے درمیان 50سال پرانا سرحدی تنازع ختم ہوگیا۔ دونوں ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ نے آج دہلی میں ایک سمجھوتے پر دستخط کرکے تنازع کا خاتمہ کردیا۔ وزارت داخلہ میں آسام کے وزیراعلیٰ ہیمنت بسواسرما اور میگھالیہ کے وزیراعلیٰ کونراڈکے سنگما نے سمجھوتے پر دستخط کئے۔
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ، مرکزی وزیر رامیشور تیلی،کاماکھیا پرساد تاسا سمیت آسام کے ارکان پارلیمنٹ اور میگھالیہ کے نائب وزیراعلیٰ پرسٹن تنسونگ کی موجودگی میں دونوں ریاستوں نے قریب 39مربع کلومیٹر میں پھیلے 12علاقو ں کو حل کرنے کیلئے ایم او یو پر اتفاق ظاہر کیا۔امت شاہ نے سمجھوتے کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ’مجھے خوشی ہے کہ آج تنازع کی 12جگہوں میں سے 6پر آسام اور میگھالیہ کے درمیان سمجھوتہ ہوا ہے۔ سرحد کی لمبائی کے نقطہ نظر سے دیکھیں تو تقریباً 70فیصد سرحد آج تنازع سے آزاد ہوگئی ہے۔ مجھے بھروسہ ہے کہ باقی کی 6جگہوں کو بھی ہم مستقبل قریب میں حل کرلیں گے‘۔ انہوں نے مزید کہاکہ آج کا دن ایک تنازع سے آزاد شمال مشرق کیلئے تاریخی دن ہے، ملک میں جب سے مودی جی وزیراعظم بنے، تب سے شمال مشرق کے امن عمل، ترقی، خوشحالی اور یہاں کی ثقافتی وراثت کے تحفظ کیلئے مختلف کوششیں کیں۔
واضح رہے کہ ایک مہینے پہلے دونوں وزرائے اعلیٰ نے قومی دارالحکومت میں مسٹر شاہ سے ملاقات کی تھی اور بین ریاستی سرحدی مسئلے پر اپنی علاقائی کمیٹی کی رپورٹ سونپی تھی۔مرکزی وزیر داخلہ نے کہاکہ ’ میں آسام کے وزیراعلیٰ ہمنت بسوا سرما جی اور میگھالیہ کے وزیراعلیٰ کونراڈ کے سنگما جی دونوں کو 50سال پرانے تنازع کو سلجھانے کیلئے مبارکباد دیتا ہوں‘۔مسٹر شاہ نے کہاکہ ’ہم شمال مشرق کو تنازع سے پاک بنائیں گے۔ شمال مشرقی ہندوستان کی ترقی میں تحریک دینے والی طاقت بنے گا‘۔معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد مسٹر سنگما نے کہاکہ ’ آج تاریخی دن ہے۔ہم نے 12میں سے 6 علاقوں کو حل کرنے کیلئے ایک معاہدے پر دستخط کئے ہیں‘۔وہیں آسام کے وزیراعلیٰ نے 39مربع کلومیٹر میں پھیلے 12میں سے 6 علاقوں کو حل کرنے کیلئے معاہدہ میمورنڈم پر اطمینان ظاہر کیا۔ انہوں نے کہاکہ ’ ہم نے آنے والے وقت میں دیگر 6 کو بھی حل کرنے کیلئے روڈ میپ تیار کیا ہے ۔آج کا یہ ایک پیغام ہے کہ بین ریاستی سرحدی مسئلوں کو سلجھایا جا سکتا ہے‘۔ مسٹر سرما نے کہا کہ آنے والے وقت میں اروناچل پردیش ،میزورم اور ناگالینڈ کے ساتھ بین ریاستی سرحدی تنازع کو بھی سلجھایا جائے گا۔
میگھالیہ کو 1972 میں آسام سے الگ ریاست کی شکل میں بنایاگیاتھا اور اس نے آسام تشکیل نو ایکٹ 1971 کو چیلنج کیاتھا، جس سے مشترکہ 884.9کلو میٹر لمبی سرحد کے مختلف حصوں میں 12علاقوں سے متعلق تنازع پیدا ہوگیاتھا۔ دونوں ریاستوں کے درمیان کئی بار سرحدی تنازع پر تشدد کے واقعات بھی رونما ہوچکے ہیں۔ 2010 میں ایسے ہی ایک واقعہ میں لینگپیہ پولیس کی گولی باری میں 4افراد مارے گئے تھے۔ وزارت داخلہ میں سمجھوتے سے پہلے آسام کے وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کی۔ میگھالیہ کے وزیراعلیٰ کونراڈ کے سنگمانے کہاکہ وزیراعظم اور وزیر داخلہ کی جانب سے اس سرحدی تنازع کو حل کرنے کیلئے بہت زور دیاگیا، وہ یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ جب ہند-بنگلہ دیش تنازع کو حل کرسکتے ہیں تو ملک کی 2 ریاست کوکیوں نہیں۔