جموں و کشمیر کے3 طلبامقامی ضامن نہ ملنے سے رہائی سے قاصر

0
Image: Time of India

آگرہ (ایجنسیاں) ضمانت ملنے کے بعد بھی آپ کو جیل میں ہی رہنا پڑے تو اس سے زیادہ برا کیا ہو سکتا ہے؟ جموں و کشمیر کے 3 طلبا کو اسی طرح کی صورتحال کا سامنا ہے۔ تینوں طلباپر گزشتہ سال اکتوبر میں ٹی 20- ورلڈ کپ کے دوران ہندوستان کے خلاف میچ میں پاکستان کی جیت کا جشن منانے کا الزام تھا۔ آگرہ کے راجہ بلونت سنگھ انجینئرنگ کالج میں زیر تعلیم 3 طلبا کو 5 ماہ قبل غداری کے ایک مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا۔الٰہ آباد ہائی کورٹ نے 20 دن پہلے ان طلباءکو ضمانت دی تھی جو 5 ماہ سے جیل میںبندتھے۔ حالانکہ اس کے بعد انہیں جیل سے باہر نکلنے کے لیے مقامی ضامن کی ضرورت تھی۔ مقامی ضامنوں کی عدم دستیابی کے باعث طلباءکو ضمانت کے بعد بھی جیل میں رہنا پڑرہا ہے۔ یہ صورتحال مقامی ضامنوں، سیکورٹی ڈپازٹ کے انتظامات، بینک پروسیسنگ میں تاخیر اور پولیس کی تصدیق میں تاخیر کی وجہ سے پیدا ہوئی۔ جیل میں بند کشمیری طلباءکو ذاتی مچلکے اور2-2ضمانتوں کے بعد رہا کیا جانا ہے۔ ان میں سے ایک طالب علم کے چچا کہناہے کہ ہم کشمیری ہیں، اس لیے کوئی مقامی ضمانت دینے کو تیار نہیں۔ ہمارے پاس کشمیر سے 6ضامنوں کا بندوبست کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ہر طالب علم کے لیے 2ضامن درکار ہیں۔ جس کی وجہ سے سارا عمل تاخیر کا شکار ہوگیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ طلباءاس ماہ کے آخر تک باہر آجائیں گے۔غداری کے معاملے میں جیل میں بند انجینئرنگ کےطلباءکے معاملے کی سماعت الہ آباد ہائی کورٹ میں ہوئی۔ 30 مارچ کو اس معاملے کی سماعت کرتے ہوئے جسٹس اجے بھنوٹ نے پاکستان کی حمایت میں نعرے لگانے والے طلبا کو ضمانت دے دی تھی۔ اپنے حکم میں جج نے کہا تھا کہ ہندوستان کا اتحاد بانس کے سرکنڈوں سے نہیں بنا، جو بہتی ہواو¿ں کے سامنے جھک جائے۔حالانکہ ضمانت دیئے جانے کے بعد بھی طلبا کو کافی مشکلات کا سامنا پڑا۔