ذکی نور عظیم ندوی: کیا یکساں سول کوڈ ضروری ہے ؟

0

ذکی نور عظیم ندوی
چند روز قبل بھارتیہ جنتا پارٹی کے کروری لال مینا کی طرف سے لایا گیا غیر سرکاری پرائیویٹ بل ایک بار پھر موضوع بحث بن گیا ہے جس کو اپوزیشن کی سخت مخالفت اوربنیادی حقوق 26بی اور 29(1) کے خلاف ہونے اور چند دنوں قبل لاکمیشن کے اس بیان کے باوجود بحث کے لئے قبول کرلیا گیاجس میں اس نے موجودہ حالات میں یکساںسول کوڈ کے نفاذکو غیر موزوں قرار دیا تھا۔
یکساں سول کوڈ کا مقصدفرد کی شخصی اور خاندانی زندگی کے معاملات یعنی نکاح و طلاق، فسخ و ہبہ، وصیت و وراثت اور گود لینے جیسے معاملات میں تمام مذہبی برادریوں پر یکساںقانون لاگو کرنا بتایا جاتا ہے ، آزادی کے بعد سے ہی سیاسی بیانات اور بحث کا مرکز رہا، دستور سازی کے موقع پر بھی اس پر غور و خوض ہوا لیکن عملی طور پر ناقابل عمل سمجھا گیا۔ حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی نے2019 کے انتخابی منشور میں بھی اقتدار میں آنے پر اس کے نفاذ کا وعدہ کیا تھا۔
دستور سازی کے وقت رہنما اصول کے دفعہ 44 کے ضمن میں کمزور گروہوں کے خلاف امتیازی سلوک دور کرنے اور ملک بھر میں متنوع ثقافتی گروہوں کو ہم آہنگ کرنے کے مقصد سییکساںسول کوڈ کے نفاذ کی تجویز دی گئی۔ ڈاکٹرامبیڈکر نے آئین کی تشکیل کے وقت اس کو رضاکارانہ رکھتے ہوئے اس کو اس وقت نافذ کرنے کی تجویز دی تھی جب قوم اسے قبول کرنے کیلئے تیار ہو جائے اور کہا تھا کہ اس کے بعد ہی اس کوسماجی قبولیت مل سکے گی۔
امبیڈکر نے دستور ساز اسمبلی میں اپنی تقریر میں کہا تھا کہ کسی کو اس بات سے گھبرانے کی ضرورت نہیں کہ اگر ریاست کے پاس طاقت ہے تو فوری طور پر اس پر عمل درآمد کرے گی کیونکہ یہ طاقت اس انداز میں مسلمانوں کے لیے قابلِ اعتراض ثابت ہوسکتی ہے یا مسلمانوں، عیسائیوں یا کسی اور کمیونٹی کی طرف سے ایسا ہوسکتا ہے۔ انھوںنے یہ بھی کہا تھا کہ میرے خیال میں حکومت کی طرف سے اس پر زور نہیں دیا جانا چاہیے۔
اس کے باوجود آزادی کے بعد سے ہی بعض سیاست دانوں اور پارٹیوں کے ذریعہ سیاسی فائدہ کی خاطریہ مسئلہ بار بار اٹھایا جاتا رہا لیکن یہ بات پورے وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ اس کا مقصد دفعہ44میں درج مقصد ’’امتیازی سلوک دور کرنا اور ملک بھر میں متنوع ثقافتی گروہوں کو ہم آہنگ کرنا‘‘تو قطعی نہیں رہا۔
اس بل پر بحث و مباحثہ یا اس کے نفاذ کے تصور سے پہلے وطن عزیز، اس کی عناصر ترکیبی اورتاریخی حقائق پر ایک نظر ڈالنا ضروری ہے۔خاص طور پر یہ حقیقت ذہنوں میںضرور ہونی چاہئے کہ یہاںہمیشہ سے دنیا کے تمام مذاہب و ادیان کے ماننے والے پائے جاتے ہیں، انھوں نے مذہب پر عمل کی آزادی ، دوسریمذاہب و عقائد سے براہ راست واقفیت، ساتھ رہنے کا موقعہ ، آپسی معاملات میں ایک دوسرے سے تعاون، باہمی الفت و مودت اور مذہبی رواداری کے ذریعہ ایسی مثال پیش کی جس کی وجہ سے ہندوستان کوتاریخ میں ایک انفرادی حیثیت حاصل رہی ہے۔ ہندوستان کے اس سماجی تانے بانے سے اس کی عظمت کا سب سے بڑا راز اور اس کا وہ امتیازی پہلو واضح ہے جس کا تصور دنیا میںکوئی دوسرا ملک ہرگز نہیں کرسکتا اسی وجہ سے ’کثرت میں وحدت‘ اس ملک کا امتیاز اور اس کی شان قرار پائی۔
1947 میںآزادی کے بعد مذہب کے نام پر پاکستان کے الگ قیام کے باوجود اس ملک کو ایک جمہوری ملک باقی رکھا گیا ، مسلمانوں کی ایک تعداد پاکستان گئی ،لیکن اس کے باوجود بڑی تعداد میں مسلمانوں نے یہاں رہنے کو ترجیح دی اورکسی طرح اس کو خیر باد کہنے پر آمادہ نہیں ہوئے۔ یہی نہیں بلکہ منقسم ہندوستان کے ذمہ داروں نے بھی یہاں مسلمانوں کو پسند کیا اور بعض مسلم اکثریتی علاقوں جیسے کشمیر، حیدرآباد، بھوپال، جوناگڑھ اور جودھپور جیسی ریاستوں کے ابتدائی طور پر انکار کے باوجود اس کو ہندوستان کے ساتھ رکھنے کے لیے ہر طرح اور آخری درجہ کی سیاسی،سفارتی اور دیگر کاوشیں یہاں تک کہ بعض جگہوں پر تو طاقت کا بھی بھرپور استعمال کیا۔
اس طرح ہندوستان مذہبی ملک کے بجائے ایک سیکولر جمہوریہ کے طور پر دنیا کے نقشے میں اپنی عظمت کے جھنڈے لہراتا رہا۔ اس کی شناخت ایک ایسے عظیم ملک کے طور پر رہی جس میں ہر مذہب ، طبقہ ، رنگ ،نسل اور بے شمار زبان بولنے والے لوگ ہمیشہ بلا کسی تفریق پوری آزادی اور اختیار کے ساتھ تھے اور ہیں۔دستور میں بھی ملک کو سیکولر عوامی جمہوریہ بنانے، اس کے تمام باشندوں کو سیاسی سماجی اور معاشی انصاف فراہم کرنے، ہر ایک کو آزادانہ افکار و خیال رکھنے، مذہب و عقیدہ پر عمل، مذہبی اداروں کی تعمیر اور اس کی دعوت وتبلیغ ، عبادت کرنے اور عبادت گاہ کی تعمیر اور اظہار رائے کی آزادی کے ساتھ ساتھ حیثیت اور موقع کے اعتبار سے مساوات و برابری کا حق دیا گیا اور اتحاد و سالمیت کو یقینی بنانے کے لئے اخوت و بھائی چارہ فروغ دینے کے عزمِ کا اظہار کیا گیا۔
ایسے ملک میں جہاں مختلف مذاہب ،طبقات اور قبائل کی اتنی بڑی تعداد اور بیشمار افراد ہوں وہاں کیلئے یکساںعائلی قوانین کیسے قابل عمل ہوسکتے ہیں؟ ایسا کرنے سے کسی کے اندر بھی زور زبردستی، ظلم وزیادتی، احساس مایوسی اوردوسرے ایسے جذبات پیدا ہوسکتے ہیںجو ملک کی سالمیت کے لئے بہتر نہیں۔ اسی وجہ سے بعض قبیلوں کو اپنے قبائلی قانون پر عمل کرنے کی آزادی بھی دی گئی ہے ، جس سے یہ حقیقت سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ مختلف گروہوں کو اپنے اپنے قوانین پر عمل کی اجازت ملک کے مفاد میں اور قومی یکجہتی کے فروغ میں معاون ہوگی۔
لباس ، کھانا،رہن سہن ، خوشی وغمی ، ان کیاظہار کے طریقے ، زندگی گزارنے کے انداز ، سماجی رسم ورواج غرض ہر چیز میں یکسانیت اور وحدت نا ممکن ہے اور نا معقول،اس کا تعلق مختلف مذاہب، تہذیبوں ، موسموں ، جغرافیائی محل وقوع ، خاندانی روایات اور نسلی خصوصیات سے ہوتا ہے جن کو ختم نہیںکیا جاسکتا۔ ہندو مذہب میں بھی مختلف ذاتیںاور الگ الگ طریقے رائج ہیں ، شمالی ہند میں ماموں بھانجی کے درمیان نکاح کا تصور نہیں لیکن جنوبی ہند میں بہن کی بیٹی سے نکاح بھائی پر بہن کا حق سمجھا جاتا ہیاور قبائلیوں کے یہاں خاندانی رسم و رواج بالکل مختلف ہیں۔
ملک کی سماجی سیاسی اور جغرافیائی حالات سے تھوڑا بہت بھی واقف شخص کہہ سکتا ہے کہ ہندوستان جیسے بڑے اور تکثیری سماج میں یونیفارم سول کوڈ کسی بھی طرح دفعہ 44 کے مقاصد ’کمزور گروہوں کے خلاف امتیازی سلوک دور کرنیاور ملک بھر میں متنوع ثقافتی گروہوں کو ہم آہنگ کرنے‘‘کی تکمیل نہیں کرسکتا۔اس لئے مرکزی اور صوبائی حکومتوں سے ان حقائق کو تسلیم کرنے، وسیع ملکی پس منظر اور مفاد میں مناسب رویہ اختیار کرنے کا مطالبہ اور تقاضہ ملک کی ترقی ، خوشحالی اور پر سکون ماحول کے لئے نہایت ضروری ہے۔
اگر ملک میں کمزوروں کو امتیازی سلوک سے بچانے اور مختلف گروہوں میں ہم آہنگی پیدا کرنے کیلئے کچھ کرنا ہی ہے تو ملک کے تما م باشندوں کے ساتھ مذہبی، طبقاتی،قبائلی، لسانی ،علاقائی ،امیر وغریب غرض ہر طرح کے تفریق سے بالاتر ہوکر ان کویکساں حقوق، یکساں اختیارات اوریکساں انصاف فراہم کرنایقینی بنانا چاہئے،کیونکہ حقوق، اختیارات اورانصاف میںیکسانیت سیاسی اثرو رسوخ کو بڑھانے کا بڑا ذریعہ ہوسکتی ہے۔
[email protected]