لیبیا میں داخلی انتشار پھر طشت از بام

0

ناٹو کی قیادت میں مغربی ممالک نے ایک زبان ہو کر لیبیامیں جمہوریت کے قیام اور کرنل معمر قذافی کے دور اقتدار کو ختم کرنے کے لیے فوجی کارروائی کی تھی اور اس کا رروائی کے سال بعدبھی آج اس خوشحال اور قدرتی معدنی اور انسانی وسائل سے مالا مال ملک میں جمہوریت تو کیا امن تک قائم نہیں ہوسکاہے۔ پچھلے دنوں قیام امن کی ایک موہوم سی امید بندھی تھی مگر اب یہ خبر آئی ہے کہ 1988 کے لاکابیر (اسکاٹ لینڈ)بم دھماکہ میں مشتبہ مجرموں میں سے ایک محمد مسعود خیر کو اس کی رہائش گاہ سے گرفتار کرلیا گیا ہے، مگر لیبیا کے کئی ادارے اور سیاسی شخصیات نے مسعود کی گرفتاری کو اغوا قرار دیا ہے اور لیبیا میں اس واقعہ کو لے کر نیا تنازع پیدا ہوگیا ہے۔
خیال رہے 1988میں لندن سے نیویارک جانے والی یان ام کمپنی کے طیارے بوئنگ 747میں دھماکہ ہوگیاتھا جس میں 259مسافروں او ر طیارے کے عملہ کے لوگوں کے علاوہ زمین پر 11افراد کی افسوسناک موت واقع ہوگئی تھی۔ امریکی اور مغربی دنیا کا کہنا ہے کہ اس میں لبیا کے کرنل معمر قذافی کا انتظامیہ ملوث ہے۔ اس پر خاموشی اور دیگر شکایات کی وجہ سے امریکہ برطانیہ اور دیگر مغربی ممالک لیبیا کے حکمراں کرنل قذافی سے نجات حاصل کرناچاہتے تھے، ایک بڑے طبقہ کا یہ خیال ہے کہ براعظم افریقہ کو متحد کرنے اور افریقی یونین کو یوروپی کو نسلر کی طرح ایک اکائی میں تبدیل کرنے، غیر ملکی خارجی بطور خاص مغربی ممالک کی مداخلت سے پاک کرنے کے منصوبوں کی وجہ سے بھی قذافی کو اقتدار سے بے دخل کرنے کی خبریں تھیں۔ حال ہی میں روس کے صدر نے بھی ایک بیان جاری کرکے کہاتھا کہ اس وقت 2011میں وہ روس کے صدر ہوتے تو مغربی ممالک اور ناٹو کو لیبیا پر حملہ نہیں کرنے دیتے۔ بہرکیف پچھلے دنو ں لاکابیر دہشت گردانہ دھماکہ کے اہم ملازم مسعود جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اس واردات میں بم بنانے والے تھے۔ وہ چند روز قبل 13دسمبر کووا شنگٹن ڈی سی کی ایک عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔ اس گرفتاری کے پیچھے لیبیا کی اتحادی حکومت Government of Unityکا امریکی حکام سے تعاون بنا یا جاتا ہے۔ طبرابلس کی لیبیائی اسسٹنٹ کونسل مسعود کو امریکی حکام کے حوالے کرنے سے انکار کرچکی تھی کیونکہ اس کی رائے تھی کہ 2008میں امریکہ اور لیبیا کے درمیان سمجھوتے کے بعد یہ معاملہ بالکل بند ہوگیا تھا۔ قانونی سیاسی طور پر دونوں ملکوں کے درمیان بیان بازی اور تنازع کو ختم کرنے پر اتفاق ہوگیا تھا۔ لیبیائی اسسٹنٹ کونسل Libyan State Councilنے مسعود کو امریکی حکام کے حوالے کرنے کے لیے اتحادی حکومت کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے کہاکہ رخصت پر یہ وزیر اعظم عبدالمجید محمد الابییہ کو اس قدم کے لیے اخلاقی قانونی اور تاریخی ذمہ ذار قرار دیا ہے۔ خیال رہے کہ عبدالحمید محمد الابیہ تجارت پیشہ ، سرمایہ دار ان کی تقرری فروری 2021میں عارضی متحدہ مجلس عاملہ کے وزیر اعظم کے طور پر ہوتی تھی ۔ ان کے انتخابات میں بدعنوانیوں کے الزامات لگے تھے اور ووٹرز کو ان کو محبت کرنے کے لیے ڈیلی گیٹس کو رقومات عطا کرنے جیسے الزامات لگے تھے۔ امریکہ کے قریبی سمجھے جانے والے عبدالحمید الابیہ کے عہدے پر فائز ہونے میں اپنے کس رول سے طرابلس میں امریکہ کے سفیر نے انکار کیا تھا۔
لیبیا کے وزیراعظم فتحی علی عبدالسلام ماشانما نے اپنے شخصیت ترین حریف عبدالحمید پر سخت نکتہ چینی کی ہے، فتحی علی عبدالسلام سابق فوجی ہیں ۔ جس کے مذہبی اور الاخوان المسلمون سے روابط ہیں۔ وہ ترکی کے منظور نظر ہیں۔ فتحی اور عبدالحمید میں سخت اختلافات ہیں فروری 2022میں جب فتحی کو لیبیا کی پارلیمنٹ ایوان نمائندگان نے وزیراعظم کونامزد مقرر کردیا تھا تو عبدالحمید نے اس انتخابات کو رد کردیا تھا اور عارضی حکومت کے اختیار عام انتخابات کے بعد میں منتخب سرکار کو منتقل کریں گے۔
تقریباً گیارہ سال سے خانہ جنگی کے شکار ، لیبیا میں دو متبادل حکومتیں فتحی اور عبدالحمید کی قیادت میں چل رہی ہیں، جن کو الگ الگ خارجی عالمی، طاقتیں فوجی مدد اور اخلاقی وسفارتی تعاون فراہم کرا رہی ہیں۔ مسعود کا معاملہ 2017کے بعد اس وقت سرخیوں میں آگیاتھا جب لیبیا کے حکام کو مسعود کو بنا یا تھا وہ لاکا سپریم دھماکہ میں آتش گیر اور دھماکہ خیز مادہ بنانے میں شامل تھا وہ بم بنانے میں ماہر ہے۔ اس نے اپنے جرم کا خود اقبال کیا تھا، مسعود نے یہ بھی تسلیم کیا کہ لیبیا کے انٹلی جنس حکام نے اس کو منصوبہ پر عمل کرنے کی ہدایت دی تھی۔
rvr