دنیا کو دہشت گردی کا سامنا،مودی کا یو این جنرل اسمبلی سے خطاب

0
image:dawn

نیویارک (ایجنسیاں) :  وزیر اعظم نریندر مودی نے اقوام متحدہ کی موزونیت اور ساکھ پر اٹھائے گئے سوالات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آج عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ عالمی نظم و نسق کے تحفظ کے لیے کام جاری رکھے ۔ قوانین اور عالمی اقدار کو مضبوط کرنا ہو گا۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 76 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر مودی نے اس اعلیٰ ادارے کی بگڑتی ہوئی ساکھ پر انتہائی بے لاگ تبصرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر اقوام متحدہ کو خود کو مؤثربنائے رکھنا ہے تو اسے اپنی فعالیت کو بہتر بنانا ہوگا ، اعتماد پیدا کرنا ہوگا۔

آج اقوام متحدہ پر کئی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ہم نے یہ سوالات کووڈ کے دوران موسمیاتی تبدیلی کے بحران میں دیکھے ہیں۔ دنیا کے کئی حصوں میں جاری پراکسی وار دہشت گردی اور اب افغانستان کے بحران نے ان سوالات کو مزید گہرا کر دیا ہے ۔وزیر اعظم نے کہا کہ کووڈ کی ابتدا کے حوالہ سے اور ایز آف ڈوئنگ بزنس رینکنگ کو لیکر اور کاروبار میں آسانی کی درجہ بندی کے تناظر میں کئی عالمی اداروں نے کئی دہائیوں کی محنت پر قائم ان کی ساکھ کو ختم کیا ہے ۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ ہم عالمی نظم و نسق ، عالمی قوانین اور عالمی اقدار کے تحفظ کے لیے اقوام متحدہ کو مضبوط کریں۔وزیر اعظم نے نوبل انعام یافتہ رابندر ناتھ ٹیگور کی ایک نظم سے چند سطریں سنائیں اور ان کے معنی بیان کرتے ہوئے کہا کہ اپنے نیک اعمال ، تمام کمزوریوں ، تمام شبہات کو دور کرتے ہوئے دلیری سے آگے بڑھیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سطور نہ صرف اقوام متحدہ بلکہ ہر ذمہ دار ملک کے لیے موزوںہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں امن اور ہم آہنگی بڑھانے اور دنیا کو صحت مند اور محفوظ بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جانی چاہیے ۔انہوں نے شہرہ آفاق پالیسی ساز چانکیہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کام کی کامیابی صحیح وقت پر صحیح کام نہ کرنے سے ختم ہوتی ہے ۔اقوام متحدہ کے لیے عصری ترجیحات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ یقینی بنانا بہت ضروری ہے کہ افغانستان کی سرزمین دہشت گردی اور دہشت گردانہ حملوں کو پھیلانے کے لیے استعمال نہ ہو۔ ہمیں وہاں بھی محتاط رہنا ہوگا کہ کوئی بھی ملک نازک صورتحال کو اپنی خود غرضی کے لیے بطور آلہ استعمال کرنے کی کوشش تونہیں کرتا۔ افغانستان کے لوگوں ، عورتوں ، بچوں اور اقلیتوں کو مدد کی ضرورت ہے ۔ اس میں ہمیں ذمہ داری لینی ہے۔ پاکستان کا نام لیے بغیر مسٹر مودی نے کہا کہ رجعت پسندانہ ذہنیت کے حامل ممالک جو دہشت گردی کو سیاسی آلے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں انہیں سمجھنا چاہیے کہ دہشت گردی ان کے لیے اتنا ہی بڑا خطرہ ہے۔ ہند- بحرالکاہل کی سلامتی اور امن کے لیے عالمی خدشات پر اپنا خیال ظاہر کرتے ہوئے ، وزیر اعظم نے کہا کہ ہمارے سمندر بھی ہمارا مشترکہ ورثہ ہیں ، لہٰذا ہمیں اس بات کا خیال رکھنا ہوگا کہ ہم سمندری وسائل استعمال کریں اس کا غلط استعمال نہ کریں۔ ہمارے سمندر بین الاقوامی تجارت کی لائف لائن بھی ہیں۔ ہمیں انہیں توسیع پسندی اور اجارہ داری کی دوڑ سے بچانا ہے ۔

اس سے قبل امریکہ اور ہندوستان نے ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کی سرزمین کا کسی ملک پر حملے کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہئے۔ مشترکہ بیان میں دونوں ممالک نے دہشت گردی، کورونا اور بین الاقوامی سلامتی سے متعلق کئی امور کا احاطہ کیا۔ دونوں ملکوں نے کہا کہ طالبان وعدوں کی پاسداری کریں اور افغان شہریوں، غیر ملکی شہریوں کی ملک واپسی، اقلیتوں، خواتین اور بچوں سمیت تمام افغانوں کے انسانی حقوق کا احترام کریں اور اقوام متحدہ واس کی خصوصی ایجنسیوں تک مکمل ، محفوظ، براہ راست اور بلا روک ٹوک رسائی کی اجازت لوگوں کو دیں۔ دونوں ملکوں نے یہ بات بھی کہی کہ ہندوستان اور امریکہ کے تعلقات آگے بڑھیں گے اور نیا باب شروع کریں گے۔دوسری جانب امریکی صدر جوبائیڈن نے ہندوستان کو یقین دلایا کہ وہ اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی مستقل ممبر شپ کے لیے اس کی دعویداری کی حمایت کریں گے۔ دریں اثنا  وزیر اعظم اپنے تاریخی 4روزہ دورہ امریکہ کے اختتام کے بعد ہفتہ کووطن کیلئے روانہ ہو گئے ۔

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here