دنیا دوسری جنگ عظیم کے بعداب تک کی خطرناک ترین دہائی سے گزر رہی ہے : ولادیمیر پوتن

0

ماسکو، (یو این آئی) : روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ دنیا دوسری جنگ عظیم کے بعد سے اب تک کی سب سے خطرناک دہائی سے گزر رہی ہے ۔بی بی سی کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ روسی صدر نے جمعرات کو ایک تقریر میں یوکرین پر روسی حملے کا جواز پیش کرنے کی کوشش کی اور کہا کہ اس سے ان کا ملک بین الاقوامی سطح پر الگ تھلگ پڑگیا ہے۔ انہوں نے مغربی ممالک پر الزام لگایا کہ وہ دوسرے ممالک کو جوہری حملوں کی دھمکی دے کر روس کے خلاف متحد کر رہے ہیں۔یوکرین میں حالیہ ناکامیوں اور تقریباً تیس لاکھ روسیوں کو جنگ میں بھیجنے کے فیصلے کے خلاف گھر میں بڑھتے ہوئے غصے کے درمیان صدر کے ساتھ قریبی تعلق رکھنے والے دانشوروں کے ایک فورم والدیئی کی سالانہ میٹنگ میں مسٹر پوتن نے کہاکہ “ہم نے ایسا نہیں کہا ہے۔ ہماری طرف سے روس کے جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے بارے میں پہلے کوئی بیان نہیں دیا گیا تھا۔ ہم نے جو کچھ کہا وہ مغربی ممالک کے بیانات کے جواب میں تھا۔روسی صدر نے اگست میں اس وقت کی برطانوی وزیر اعظم لز ٹرس کے اس بیان کی طرف بھی اشارہ کیا جس میں انہوں نے واضح طور پر کہا تھا کہ اگر حالات ایسے بن گئے کہ جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا بٹن دبانا ضروری ہو گیا تو وہ تیار رہیں گی۔مسٹر پوتن نے کہاکہ سابق برطانوی وزیر اعظم کے اس طرح کے بیان کے باوجود برطانیہ کے کسی اتحادی نے اس بیان پر اعتراض نہیں کیا۔ تو آپ ہم سے کیا توقع رکھتے ہیں کہ ہم خاموش رہیں گے اور ایسا دکھاوا کریں گے جیسے ہم نے کچھ سنا ہی نہیں؟تاہم روسی صدر نے خود یہ بیان دیا کہ روس اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔ ان کے ایسے بیانات کو واضح طور پر جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے خطرے کے طور پر دیکھا گیا۔ دریں اثناء مسٹر پیوٹن بھی مغربی ممالک پر مسلسل حملہ آور رہے ہیں اور انہوں نے مغربی ممالک کے رویے کو انتہائی گھناؤنا اور خطرناک کھیل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ممالک دوسرے ممالک کی خود مختاری اور انفرادیت کو قبول نہیں کرتے ۔ عالمی معاملات میں مغربی ممالک کا یہ تسلط اب ختم ہونے کے دہانے پر ہے ۔انہوں نے کہاکہ “مستقبل کی دنیا ہماری آنکھوں کے سامنے شکل اختیار کر رہی ہے ۔” انہوں نے مغربی ممالک پر الزام لگایا کہ وہ روس کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
صدر ولادی میر پوتن نے جمعرات کو یوکرین میں جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے کسی ارادے کی تردید کی ہے لیکن وہاں کے تنازعے کو مغرب کی جانب سے عالمی تسلط کے حصول کی مبینہ کوششوں کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کوششیں ناکام ہو جائیں گی۔ بین الاقوامی خارجہ پالیسی کے ماہرین کی ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پوتن نے کہا کہ روس کے لیے یوکرین پر جوہری ہتھیاروں سے حملہ کرنا بے معنی ہے۔پوتن نے کہا کہ’’ ہمیں اس کی کوئی ضرورت نظر نہیں آتی۔ اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے، نہ تو سیاسی، نہ فوجی۔‘‘ پوتن نے کہا کہ “روس کی حفاظت کے لیے تمام ’دستیاب ذرائع‘ استعمال کرنے کے بارے میں ان کے تیارہونے کے بارے میں پیشگی انتباہ، جوہری ہتھیاروں کی دھمکی کے مترادف نہیں تھا بلکہ جوہری ہتھیاروں کے ممکنہ استعمال کے بارے میں مغربی بیانات پر محض ایک ردعمل تھا۔ انہوں نے خاص طور پربرطانیہ کی لز ٹرس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگست میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر وہ برطانیہ کی وزیر اعظم بنتی ہیں تو وہ جوہری ہتھیار استعمال کرنے کے لیے تیار ہوں گی۔ پوتن نے کہاان کے اس تبصرے نے کریملن کو تشویش میں مبتلا کر دیا۔ ہمیں اور کیا سوچنا چاہیے تھا؟‘‘ پوتن نے کہا۔ “ہم نے اسے بلیک میل کرنے کی کوشش، ایک مربوط موقف کے طور پر دیکھا۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف شدید تنقید پر مبنی ایک طویل تقریر میں، پوتن نے ان پر الزام عائد کیا کہ وہ “تسلط کے حصول کے خطرناک، خون آشام اور گندے” کھیل میں اپنی شرائط کو دوسری قوموں پرمسلط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پوتن نے، جنہوں نے 24 فروری کو یوکرین میں اپنی فوجیں بھیجی تھیں، یوکرین کے لیے واشنگٹن اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے مغرب کی حمایت کو ایک ایسی وسیع کوشش سے تعبیر کیا جو تسلط پر مبنی عالمی نظام کے ذریعہ،اپنی رضا دوسروں پر تھوپنے کی وسیع کوششوں کا حصہ ہے۔ ان کا استدلال تھا کہ دنیا ایک اہم موڑ پر پہنچ چکی ہے، اور “مغرب اب انسانوں پر اپنی مرضی مسلط کرنیکا اہل نہیں رہا لیکن وہ پھر بھی ایسا کرنے کی کوشش کرتا ہے،جبکہ قوموں کی اکثریت اب اسے مزید برداشت نہیں کرنا چاہتی۔” روسی رہنما نے دعویٰ کیا کہ مغربی پالیسیاں مزید افرا تفری کو ہوا دیں گی، انہوں نے مزید کہا کہ “جو جیسا بوئے گا ویسا ہی کاٹے گا۔کسی ثبوت کے بغیر، روسی رہنما نے ماسکو کے اس الزام کو دہرایا کہ یوکرین ایک ایسے حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے جس میں ایک ریڈیو ایکٹیو ’ڈرٹی بم‘ شامل ہے جو کہ روس کو نشانہ بنانے کی کوشش کرے گا۔یوکرین نے اس دعوے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے اور اس کے مغربی اتحادیوں نے اسے “سفید جھوٹ” قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ یوکرین نے کہا ہیکہ ہو سکتا ہے کہ روس اسلئے بے بنیاد الزام لگا رہا ہے تاکہ وہ کسی ڈرٹی بم کا دھما کاکرنے کی اپنی ممکنہ سازش کی پردہ پوشی کرسکے۔

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS