خواتین اسلام: ماضی حال و مستقبل: ابوالبرکات شاذ قاسمی

0

ابوالبرکات شاذ قاسمی
انسان کا تصور ایک خاتون کے بغیر ناممکن ہے ایک خاتون نہ صرف یہ کہ مرد کو جنم دیتی ہے بلکہ اسے اپنا خون جگر پلا کر پالتی ہے اس کے لیے ہر تکلیف گوارا کرتی ہے اس کی جسمانی دینی علمی تربیت کرتی ہے اس کی تربیت اور مادرانہ شفقت کا مرحلہ صرف ایامِ طفولیت تک محدود نہیں رہتا بلکہ جب انسان بڑا ہوتا ہے اور کار جہاں اپنے کاندھوں پر لیتا ہے تو ایک خاتون ماں بہن بیٹی بہو اور بیوی بن کر اس کا حوصلہ بڑھاتی ہے اس کی قوت بازو بنتی ہے تیز گام زندگی میں اس کے قدم بقدم ساتھ رہتی ہے زندگی کی خوشگواریوں کو بانٹتی اور نازک حالات اور غموں میں برابر کا شریک رہتی ہے اس طرح ہم پاتے ہیں کہ خاتون کی زندگی نہ صرف تعمیر ذات میں بلکہ تعمیر کائنات میں بھی گراں قدر خدمت انجام دیتی ہے۔
ایک خاتون جس طرح شخصی زندگی کو متاثر کرتی ہے اسی طرح سماج و معاشرہ کی ترقی و تعمیر اور اسے پرامن اور نیک بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے اسی سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کے خاتون اگر نیک، تعلیم یافتہ،سنجیدہ، اخلاقی اقدار کی پاسداری کرنے والی ہوگی تو ہمارا معاشرہ بھی نیک پر امن باحیا تعلیم سے معمور اور اخلاقی قدروں کی حفاظت کرنے والا ہوگا وہی اگر خواتین جاھل پھوہڑ فیشن زدہ ہوں گیں تو ہمارا معاشرہ جدیدیت کی آلودگی میں لت پت اور عریاں ہوگا جہاں سکون و اطمینان پانے کے لیے قلب و جان تڑپتی ہوگی یہی وجہ ہے کہ مذہب اسلام اور پیغمبر اسلام نے مرد و خواتین کی یکساں دینی اخلاقی تربیت پر زور دیا خود پیغمبر اسلام بنفس نفیس خواتین کے حلقوں میں جاکر انہیں وعظ و نصیحت کیا کرتے اور ان کی روحاننی تربیت کیا کرتے اللہ رب العزت کا ابدی کلام پیش کیا کرتے اور قرآن کی اعلیٰ اخلاقی قدروں کو ان کے سامنے رکھتے مرد و خواتین کی اس یکساں تربیت اور اصلاح مرد و زن سے ایک ایسا عالمی پاکیزہ معاشرہ وجود میں آیا جیسا چرخ کہن کو دیکھنا کبھی نصیب نہ ہوا اور رہتی دنیا تک نہ ہوسکے گا اس انقلابی معاشرے نے اپنے روشن تہذیبی شعاعوں سے یورپ کے کلیساؤں میں ٹمٹماتے چراغوں کو گل کر دیا وہاں کے بوسیدہ انسانیت سوز نظام باطل کے پرخچے اڑا دیئے اور پورا جگ نور خداوندی سے ’جگ مگ ‘کرنے لگا۔
علم و آگہی کا کوئی ایسا شعبہ نہیں جس میں مردوں کے ساتھ خواتین نے اپنی ہنرمندی ،ذہانت ،قابلیت اور اپنے وجود کا لوہا نہ منوایا ہو حدیث، تفسیر، فقہ،علم کلام یا سائنس،طب و انجینئرنگ کی تاریخ؛ خواتین کے پر وقار علمی کارناموں کا تذکرہ کیے بغیر ناقص ہے اس قسم کی خواتین میں اسلام کی خدمت گار خاتون اول سیدہ الصحابیات حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سر فہرست ہیں جو بلند پایہ محدث و مدرس تھیں دین کا تہائی علم انہی کی بدولت ہم تک پہنچا ان کے علاوہ ام المومنین ام حبیبہ ،ام المومنین حفصہ،اسماء بنت یزید ،ام ہانی بنت ابی طالب وغیرہ رضی اللہ عنھن ایسی صحابیات ہیں جن کی دینی و علمی خدمات کے لئے پوری ملت اسلامیہ رہتی دنیا تک ان کا ممنون اور احسان مند رہے گی دور صحابہ کے بعد مسلم سلاطین اور امراء و رؤساء کے گھروں کی خواتین نے اپنے روز مرہ کے کام کاج کے علاوہ مشغلہ کے طور پر اپنے گھروں میں علم و ادب کا چراغ روشن کیا تاریخی روایات کے بموجب عباسی خلیفہ ہارون رشید (م-193ھ)کی بیوی زبیدہ بنت جعفر (م-216ھ)کو قرآن کی تعلیم سے نہایت اعلی درجے کا شغف تھا اپنے گھر کی باندیوں کو قرآن کی تلاوت و تعلیم پر مامور کر رکھی تھیں ابن خلقان نے لکھا ہے کہ “کان لھا مائہ جاریہ یحفظن القرآن و لکل واحدہ ورد عشر القرآن و کان یسمع کدوی النحل من قرأت القرآن (وفیات الاعیان-جلد 3صفحہ 3) مطلب یہ کہ ان کی سو سے زائد باندیاں تھیں جو زیادہ تر وقت قرآن کی تلاوت اور حفظ میں گزارتی تھیں ان میں سے ہر ایک قرآن کے دسویں حصے تک تلاوت کرتی تھیں محل میں ان کی تلاوت کی آواز شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ کے مثل سنائی دیتی تھی اسی طرح دمشق کے حاکم ’الملک دقّاق ‘کی ہم شیرہ ’زمرد خاتون‘ کے علمی شغف کا تذکرہ ملتا ہے انہوں نے ایک مدرسہ خواتین کی تعلیم و تربیت کے لیے قائم کیا تھا جس کا نام “المدرسہ الخاتونیہ البرانیہ ” (الزرکلی-الاعلام- جلد- 3صفحہ-49)تھا اسی قسم کی ایک خاتون عائشہ ہانم بھی ہیں جنہوں نے ایک مسافر خانہ تعمیر کرایا تھا جس کو سبیل عائشہ ہانم کہا جاتا تھا اس کے اوپر انہوں نے قرآن کی تعلیم کی اہمیت کے پیش نظر ایک مدرسہ بھی قائم کر رکھا تھا علم و ادب کی جن خواتین نے سرپرستی کی ان میں ایک اہم نام یمن کے سلطان ’سلطان الملک المظفر‘ کی بیوی مریم کا بھی ہے جنہون نے ’زبید ‘ میں “المدرس المجاھدیہ ’ قائم کیا تھا یہ ایک مثال ہے ورنہ تاریخ اسلام اس قسم کی خواتین کے علمی کارناموں سے بھری پڑی ہے جن کے تذکرہ کے لئے ایک دفتر درکار ہے ان میں بعض مفسرہیں تو بعض محدث ہیں بعض نے ادب کی پرورش و پرداخت کو اپنا مشغلہ بنایا تو بعض نے احادیث کی صحت کی چھان بین کی ان کے علمی مقام و مرتبہ کا یہ حال تھا کہ وقت کے بڑے بڑے علماء ان سے رہنمائی حاصل کیا کرتے اور درس لیا کرتے تھے۔ خواتین کے علمی افتخار کے لیے یہ کافی ہے کہ انہوں نے جس قدر احادیث روایت کیں یا جو کچھ بھی امت کو تعلیم دیا اس میں خلوص تھا اتہام نہیں تھا خاص طور سے احادیث کی روایت میں اتہام بالکذب جس طرح مرد روات میں پائی جاتی ہے خواتین روات کا دامن اس عیب سے داغدار بالکل نہیں ہے ان تمام باتوں سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ دور اول میں تعلیم و تربیت تحقیق و تدقیق اور علم کی پرورش وپرداخت میں مرد و خواتین کے درمیان کوئی تفریق نہیں تھی بعض معاملات میں خواتین مردوں پر علمی تفوق رکھتی تھیں کبار علماء محدثین اور فقہاء ان کی شاگردی اختیار کیا کرتے تھے مگر یہ بات اسلام کے ابتدائی دور کی ہے وقت گزرتا گیا حالات بدلتے گئے فکر و نظر میں تبدیلی آتی گء اور وہ وقت بھی آن پہنچا کہ مرد و خواتین کے درمیان جنسی تفریق کو علم کے معاملات میں بھی تفریق کے ساتھ جوڑا گیا مردوں کو کار جہاں کا علمبردار اور خواتین کو امورخانہ کا ذمہ دار سمجھا جانے لگا اور عوام میں یہ فضول مفروضہ بڑے پیمانے پر عام کیا گیا کہ علم و دانش تعلیم و تربیت تصنیف و تالیف یہ مردوں کا کام ہے عورتیں صرف گھر کی چہار دیواری تک محدود رہنے والی چیز ہیں اور اس کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی گئی اس کی تائید میں ایک حدیث کا ٹکڑا پیش کیا گیا جس میں عورتوں کے ناقص العقل ہونے کی بات کی گئی ہے حالانکہ حضور پاک نے ایک خاص مجلس میں خواتین کی کیفیت کو بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ عورتیں جذباتی ہوتی ہیں جب وہ معمولی سی بات پر بھی جذباتی ہو جاتی ہیں اور اس وقت عقل ہوتے ہویے بھی اپنے عقل سے کام لینا چھوڑ دیتی ہیں اور ناقص العقل ہوجاتی ہیں اس کا یہ مطلب ہرگز نہی کہ عورتیں تخلیقی اعتبار سے ناقص العقل ہیں وہ کچھ نہی کر سکتیں۔ دشمنان اسلام اور بعض سادہ لوح مسلمان اس کو اسلام کا نظریہ سمجھ بیٹھے اس تصور کو عام کرنے میں غیروں کے ساتھ ساتھ کچھ روشن خیال مسلمانوں کا بھی ہاتھ ہے نہایت افسوس کی بات یہ بھی ہے کہ علماء￿ کے ایک طبقے نے بھی اس کو کافی اہمیت دیا اختلاط مرد و زن اور اس سے پیدا ہونے والی معاشرتی برائیوں سے روکنے کے لیے اس قدر غلو سے کام لیا کہ خواتین کو تعلیم دلانے سے بھی روک دیا گیا مردوں کی تعلیم و تربیت کے لئے بڑے بڑے ادارے کھولے گئے مدارس قائم کئے گئے مگر خواتین کی تعلیم کا ایسا انتظام یا اس مرتبہ کا انتظام نہیں کیا گیا مردوں کے لئے اجتماعات ہوتے ہیں جلسے ہوتے ہیں کانفرنسیں ہوتی ہیں مگر خواتین کی اصلاح و تربیت کے لیے ایسا کچھ دیکھنے کو نہیں ملتا المیہ یہ ہے کہ جلسوں کے انعقاد کے لیے لاکھوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں مگر اس کا بیس فیصد بھی خواتین کی اصلاح کے لیے خرچ نہیں کیا جاتا عام طور سے ہمارے یہاں جو جلسے منعقد کئے جاتے ہیں وہ مدارس کے زیر انتظام واہتمام ہوتے ہیں مدارس کے علماء اور ذمہ داران اپنے مفاد کے لئے یہ سب کچھ کرتے ہیں ملت کا مفاد نام کے برابر ہوتا ہے خاص طور سے آزادی کے بعد سے برصغیر ہندوپاک میں مردوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی گئی مردوں کے مثل خواتین کی تعلیم اور اصلاح سے چشم پوشی کی گئی ہند و پاک میں جس قدر مدارس ہیں اس کا ایک چوتھائی بھی خواتین کے لیے نہیں ہے قابل افسوس بات یہ بھی ہے کہ خواتین کے مدارس کا تعلیمی معیار بھی مردوں کے مدارس کے مقابلے گھٹیا ہے اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ خواتین قرآن و سنت سے دور ہوتی گئیں ان میں غیرت ، مومنانہ بصیرت اور دور اندیشی ختم ہوتی گئی وہ مغرب کا آلہ کار بن کر رہ گئیں شمع محفل بننے لگیں روشنی کے دور سے نکل کر تاریکی کے دور میں منتقل ہو گئیں اور آج یہ حالت ہے کہ لڑکیاں ارتداد کا شکار ہیں اسلام مخالف قوتوں کی زد میں ہیں اسلام دشمن طاقتوں نے اسلام کوبدنام کرنے کے لئے اسی طبقہ کو اپنا ہتھیار بنایا جس میں جہالت کوٹ کوٹ کر بھری پڑی ہے ہم ہر دن سوشل میڈیا یا اخبارات میں اس قسم کی خبریں پڑھتے رہتے ہیں یہ لوگ مسلم لڑکیوں سے محبت اور دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہیں انہیں سبز باغ دکھا کر شادی کرتے ہیں اور پھر انہیں موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں اس طرح ہماری مسلم بچیاں اپنا دین دنیا سب ہلاکت میں ڈالتی ہیں گھر بار خویش و تبار سب کی نگاہوں سے جاتی ہیں سماج اور معاشرہ میں مسلمانوں کو بد نام کرتی ہیں اب تک کی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بیس ہزار مسلم لڑکیاں غیروں سے شادی رچا چکی ہیں اور بہت سی اس کے فراق میں بیٹھی ہیں سوال یہ ہے کہ کیا ان خواتین کی تعلیم و تربیت کا انتظام و انصرام نہیں کیا جانا چاہئے؟
ہمیں اس بات کو ہرگز نہیں بھولنا چاہیے کہ خواتین ہماری آبادی کا نصف حصہ اور معاشرے کی جان ہیں ان کے دین و ایمان کا تحفظ مسلم دانشوران علماء کرام کا اہم فریضہ ہے اگر ہم روشن مستقبل کی آرزو رکھتے ہیں ایک مضبوط و متحد امت اور صالح معاشرہ کو دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں خواتین کو پھر سے علم و ہنر کا شیدائی اور دین و شریعت سے محبت کرنے والا بنانا ہوگا۔ ان میں تعلیم کو عام کرنا ہوگا۔
[email protected]

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS