جمعیۃ اوپن اسکول کے خلاف جھوٹے بیان واپس لیں، این سی پی سی آر کو جمعیۃ علماء ہند کی نوٹس

0

نئی دہلی (پریس ریلیز): نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس (این سی پی سی آر)کے چیئرمین پریانک کانونگوکے ذریعہ دینی مدارس اور جمعیۃ اوپن اسکول کو بدنام کرنے کے خلاف جمعیۃ علماء ہند نے سخت قدم اٹھایا ہے۔ اس سلسلے میں صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی کی طرف سے معروف وکیل ورندا گرور نے مذکورہ چیئرمین کو خط لکھ کر سات دن کے اندر تحریری طورپر اپنا بیان واپس لینے کا مشورہ دیا ہے، ورنہ ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

واضح ہو کہ 31مارچ کو شری کانونگو نے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوپن اسکول (این آئی او ایس) کو خط لکھ جمعیۃ علماء ہند کے تعلیمی ادارہ’جمعیۃاوپن اسکول کی مہم کو’منظم جرم‘ سے تعبیر کیا تھا، نیز اس پر بیرون ملک سے فنڈ حاصل کرنے بالخصوص پاکستان سے تعلق ہونے کا بے بنیاد الزام عائد کیا تھا۔ اس سلسلے میں چیئرمین نے ایک ٹی وی چینل پر بھی اس الزام کا اعادہ کیا۔ اس کے علاوہ مذکوہ چیئرمین دینی مدارس کو بدنام کرنے اور ان کے خلاف بے ہودہ الزامات عائد کرنے میں بھی پیش پیش رہتے ہیں۔

نوٹس میں صاف کہا گیا ہے کہ جمعیۃ علماء ہند جیسی تاریخی اور وطن پرورجماعت کو بدنام کرنے اور اس پر جھوٹے الزامات عائد کرنے کی کوشش کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہے۔ نیز اتنے بڑے عہدے پر بیٹھے شخص کے لیے یہ زیبا بھی نہیں ہے۔جمعیۃ علماء ہند کے صدر نے اس نوٹس کے ذریعہ لگائے گئے بے بنیاد الزامات کی تردید کی ہے۔ مختلف میڈیا چینلز کے ذریعے پھیلائے گئے ان الزامات نے جمعیۃ اوپن اسکول کی ساکھ کو متاثر کیا ہے، جبکہ یہ ادارہ پسماندہ کمیونٹیز خاص طور پر مسلم اقلیت کی تعلیمی ضروریات کی تکمیل کے لیے وقف ہے۔

مزید پڑھیں: کرناٹک میں بی جے پی کے کئی لیڈرران بغاوت پر اترے

مسٹر کانونگو کے دعووں کے برعکس، جمعیت اوپن اسکول، قانونی فریم ورک کے اندر کام کرتا ہے اور اس کا مقصد بنیادی طور پر دینی مدارس کے طلبہ کو نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوپن اسکولنگ (این آئی او یس) کے ذریعے رسمی تعلیم کے مواقع فراہم کرنا ہے۔

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS