کیا اسرائیل زمینی کارروائی کی غلطی کرے گا؟: صبیح احمد

0

صبیح احمد

حماس کی جانب سے 7 اکتوبر کا حملہ اسرائیل کے ساتھ ساتھ خطہ میں حالات کو معمول پر لانے اور امن کی کوششوں کے لیے بھی ایک بڑی شکست ہے۔ اب یہ اندازہ لگانا بھی بہت مشکل ہے کہ مستقبل قریب میں خطہ کے حالات کب اتنے سازگار ہوں گے کہ امن کی کوششوں کو پھر سے شروع کیا جائے۔ اس جنگ کا اثر بہت طویل مدت تک دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ حماس کے ’اسٹرٹیجک سرپرائز‘ کے ابتدائی اثرات پر قابو پانے کے بعد اسرائیل کا حسب توقع جس پیمانے کا ردعمل سامنے آیاہے، اس سے لگتا ہے کہ اسرائیل اپنی ساکھ کی بحالی کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ کم از کم فی الحال اس کی حرکات و سکنات تو یہی بتا رہی ہیں۔ اس کا مقصد اب صرف حماس کی فوجی صلاحیت کو ہی نہیں بلکہ اس کی غزہ پر حکومت کرنے کی صلاحیت کو بھی ’ختم کرنا‘ ہے۔ یہ کہنے کا کیا مطلب ہے کہ حماس اب غزہ پر حکومت نہیں کرے گی؟ تو اب اس علاقہ کے 20 لاکھ لوگوں پر کون حکومت کرے گا؟ اسرا ئیل؟ اگر اسرائیل ایسا کرتا ہے تو یہ اس کی بہت بڑی بھول ہوگی۔ اور نہیں لگتا کہ وہ یہ غلطی کرے گا۔ بہرحال حماس نے اسرائیل کو ایک بری جنگ اور اس سے بھی بدتر امن میں سے ایک کے انتخاب کا متبادل دیا ہے۔
اسرائیل کی ناکامی میں ناقص انٹلیجنس اور ناکافی فوجی تیاری دونوں شامل ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ فوجی ناقابل تسخیر ہونے کی ملک کی ساکھ بالکل تباہ ہوگئی ہے۔ اسرائیل اب غزہ پر بڑے پیمانے پر حملے کا سہارا لے رہا ہے تاکہ اس فوقیت کو بحال کیا جا سکے جو اسے کبھی حاصل تھی، لیکن یہ بات بعید از یقین ہے کہ وہ اس فوقیت کو حاصل کرسکتا ہے، اس کے باوجود کہ وہ غزہ کو تباہ کرکے اس پر دوبارہ قبضہ بھی کر لے۔ وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کے لیے اب مشکل یہ ہے کہ اسرائیلی شہریوں کے اتنے بڑے پیمانے پر جانوں کے ضیاع اور حماس کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے اسرائیلیوں کی بڑی تعداد کے پیش نظر وہ سیاسی طور پر کیسے اپنا دفاع کر پائیںگے۔ ان کی قیادت میں اسرائیل کو اپنی تاریخ میں ایک دن میں ہونے والی سب سے بڑی ہلاکتوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
بلاشبہ فلسطینی بھی اس حوالے سے خسارے میں ہیں کہ یہ حملہ انہیں اپنی ریاست کے قیام کے قریب پہنچانے یا اسرائیل کی تباہی کا باعث بننے میں فی الحال مددگار ثابت نہیں ہونے والا ہے، جو حماس کا مقصد ہے۔ اس کے بجائے یہ ہوگا کہ اسرائیل کی طرف سے جوابی کارروائی میں فلسطینیوں پر مزید مصائب اور تشدد کا پہاڑ ٹوٹے گا۔ اس طرح تشدد کا دائرہ بلا روک ٹوک جاری ہے، اور مشرق وسطیٰ میں درندگی کا یہ سلسلہ مزید دراز ہو گیا ہے اور کسی بھی طرف سے کوئی فاتح نہیں ہے۔ غزہ میں حماس کا انجام کچھ بھی ہو، اب اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ وہ آزادی اور خود ارادیت کی فلسطینی کوششوں کی رہنمائی کرتی ہے۔ ایران کی حمایت اور رہنمائی میں حماس کی کوشش ہے کہ حالات کو معمول پر لانے کے لیے اسرائیل اور خلیجی عرب ممالک خاص طور پرسعودی عرب کے درمیان امن عمل کو کا میاب نہ ہونے دیا جائے۔ کم از کم اس وقت سعودیوں اور اماراتیوں کے مقابلے جس کا امن، استحکام اور خوشحالی پر زور ہے، ایران اور حماس کے پرتشدد مزاحمت کے نظریہ کی فتح ہے۔ بہرحال دونوں ہی نظریات ناقص ہیں کیونکہ دونوں میں سے کوئی بھی ایک واضح حقیقت کو دیکھ نہیں پا رہا ہے۔ ایک طرف تو ایران اور حماس کا اسرائیل کو نیست و نابود کرنے کا مقصد جو کہ ریاست اسرائیل کی تباہی میں مضمر ہے، اور جو شاید ہی کبھی حاصل ہو پائے۔ اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ اسرائیل بہت مضبوط ہے اور اسے تمام مغربی اقوام بالخصوص امریکہ کی حمایت حاصل ہے۔ حماس کے اس حملے کے جواب میں امریکہ نے جو غیر مشروط حمایت پیش کی ہے، اس کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری طرف ایک قابل عمل اور خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے عرب اور خلیجی نقطہ نظر پر درحقیقت پر اصرار طریقے سے زور نہیں دیا گیا جو کہ خطہ میں پائیدار امن کے لیے ضروری شرط ہے۔
متعدد اہم وجوہات کی بنا پر اسرائیل کی کاغذی فوجی برتری کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہے کہ ایک فیصلہ کن تنازع جلد امن اور حماس کی عدم موجودگی کے ساتھ ختم ہو جائے گا۔ غور کرنے کی بات یہ ہے کہ غزہ محض 139 مربع میل زمین پر مشتمل ہے جو سمندر سے گھرا ہوا ہے اور 3 اطراف سے بند سرحد ہے۔ اس بات پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ 20 لاکھ غزہ کے باشندوں میں سے 5,00,000 سے زائد فوج کی عمر کے مرد ہیں جن کے اندر یہود مخالف اور اسرائیل سے نفرت کا جذبہ حد سے زیادہ بھرا ہوا ہے، اور انہیںمعاشی، سماجی یا ثقافتی مواقع بھی دستیاب نہیں ہیں۔ ان کا اسرائیل یا اسرائیلیوں کے ساتھ جو کچھ بھی تجربہ رہا ہے وہ انتہائی منفرد قسم کا رہا ہے۔ اور آخر میں قابل غور بات یہ ہے کہ مختلف قسم کے چھوٹے ہتھیار، آئی ای ڈیز اور یہاں تک کہ ہاتھ سے استعمال کیے جانے والے بھاری ہتھیار بھی شاید اس آبادی کے لیے آسانی سے دستیاب ہیں۔
اسرائیل کی زمینی افواج کی صف بندی پہلے سے ہی ہو رہی ہے۔ اب غزہ پر زمینی حملے کا امکان بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس طرح کے آپریشن کے حتمی مقاصد کیا ہوں گے۔ یہ وہ خطہ ہے جس پر چیزیں بہت پیچیدہ ہو جاتی ہیں۔ جنگ کی پوری تاریخ میں شہر فطری طورپر گڑھ رہے ہیں۔ ابھی حال ہی میں داعش کے خلاف کارروائیاں سب سے زیادہ مشکل تھیں جب عراقی اور امریکی افواج کو موصل جیسے شہروں پر دوبارہ قبضہ کرنا پڑا، جو شاید ایک سبق آموز معاملہ تھا۔ غزہ موصل نہیں ہے۔ غزہ اس سے بھی مشکل ہے۔ اپنی جغرافیائی وقوع اور انتہائی محدود حد تک غزہ پہلے سے ہی ایک بہت گنجان آباد شہری علاقہ ہے، جب لڑائی گلیوں میں پہنچے گی تو شہر کی آبادی کے لیے فرار ہونے کا کوئی موقع نہیں ہوگا۔ یہ ایک ایسی آبادی بھی ہے جو بڑی حد تک حماس کے عسکری ونگ کی کوششوں کی حمایت کرتی ہے یا اس کے ساتھ ہمدردی رکھتی ہے۔ اگر اسرائیل کے ساتھ زمینی لڑائی شروع ہو ئی تو چھوٹے بچے، خواتین، بوڑھے، جوان سبھی طبی امداد، ریسکیو، رسد، گولہ بارود اور اسرائیلی نقل و حرکت کا مشاہدہ جیسی ذمہ داریاں انجام دے سکتے ہیں۔ اور اسرائیل کو براہ راست لڑائی میں صرف حماس کے عسکری ونگ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا بلکہ 5 لاکھ تک جنگجویانہ صفت والے فوج کی عمر کے مردوں کا سامنا کرنا پڑے گا جو اپنے سب سے بڑے دشمنوں سے اپنے گھروں کا دفاع کر رہے ہوں گے۔ یہ وہ لوگ بھی ہوں گے جنہوں نے حال ہی میں گزشتہ چند دنوں کے اسرائیلی فضائی حملوں میں نقصانات اور تباہی کا سامنا کیا ہے۔ توقع ہے کہ ہر گلی، ہر عمارت، ہر چوک میں مقابلہ ہوگا۔ ہر کونے میں آئی ای ڈیز، خودکش بمباروں، اسنائپرس اور جنگی جال بچھے ہوں گے۔ ایسی شہری آبادی کے ساتھ لڑائی ہوگی جس کے پاس ایک فریق کی مدد کرنے، دوسرے سے نفرت کرنے اور فرار کے لیے کوئی راستہ نہ ہونے کے سوائے اور کوئی متبادل نہیں ہوگا۔
جب تک فلسطینی زندہ ہیں اور اسرائیلی قبضہ میں مظالم پہ مظالم برداشت کر رہے ہیں اور انہیں ان کے حق خودارادیت سے محروم رکھا جا رہا ہے، وہاں قیام امن کی توقع نہیں کی جا سکتی۔
[email protected]

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS