خرچ میں احتیاط ضروری کیوں؟

0

2019میں چین کے شہر ووہان سے کورونا وبا پھیلنی شروع ہوئی تھی تو اس وقت یہ اندازہ نہیں تھا کہ اس وبا سے چین کا تو زیادہ نقصان نہ ہوگا، البتہ بیشتر ممالک پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے مگر 2020 سے وطن عزیز ہندوستان سمیت دیگر ممالک جہاں گھریلو پیداوار بڑھانے کے لیے جدوجہد کرتے رہے ہیں وہیں چین کا ایکسپورٹ 2021 میں 3.36 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گیا، کیونکہ چین کورونا سے بڑی حد تک محفوظ رہا ہے جبکہ ہندوستان، امریکہ، جاپان جیسی دنیا کی بڑی اقتصادیات کو اس سے نجات نہیں مل پائی ہے، یہاں اقتصادی سرگرمیاں بلا روک ٹوک اس طرح نہیں چل پا رہی ہیں جیسی چلنی چاہیے تھیں۔ ایسی صورت میں ریزرو بینک کے سابق گورنر رگھورام راجن کی یہ بات توجہ طلب ہے کہ ’ہندوستانی معیشت میں چمکیلے مقامات کے ساتھ کچھ کالے دھبے‘ بھی ہیں۔ اپنی بات سمجھاتے ہوئے راجن کا کہنا ہے کہ ’سیاہ دھبوں کی بات کی جائے تو بے روزگاری، کم قوت خرید(خاص طور پر نچلے متوسط طبقے میں)، چھوٹی اور درمیانے سائز کی کمپنیوں کا مالیاتی دباؤ اس میں آتا ہے۔‘ریزرو بینک آف انڈیا کے سابق گورنر کو اقتصادیات کے حوالے سے زیادہ تشویش متوسط طبقہ، چھوٹے اور درمیانہ سیکٹر اور بچوں کے لیے ہے۔ ان کی یہ تشویش ناقابل فہم نہیں۔ نیشنل کمیشن فار انٹرپرائزز اِن دی اَن آرگنائزڈ سیکٹر نے بتایا تھا کہ 2005 میں ہندوستان میں 45کروڑ، 80 لاکھ لوگ ملازم تھے،ان میں 95 فیصد یعنی 43کروڑ، 50 لاکھ لوگ اَن آرگنائزڈ سیکٹر سے وابستہ تھے، جی ڈی پی میں ان کا تعاون 50.6 فیصد تھا۔ گزشتہ 16 برس میں اس صورت حال میں زیادہ تبدیلی نہیں آئی ہے۔ آج بھی وطن عزیز کا 80 فیصد سے زیادہ لیبر فورس اَن آرگنائزڈ سیکٹر سے وابستہ ہے اور جی ڈی پی میں اس کا تعاون 50 فیصد سے زیادہ ہے۔ کورونا کے کسی نئے ویرینٹ کی وجہ سے حالات جب بگڑتے ہیں، جیسے پچھلی بار ڈیلٹا کی وجہ سے حالات بگڑے تھے اور اس بار اومیکرون کی وجہ سے حالات خراب ہیں، تو وبا کو پھیلنے سے روکنے کے لیے حکومتوں کو اقتصادی سرگرمیوں کو محدود کرنا پڑتا ہے یا کسی حد تک روکنا پڑتا ہے، اس کا اثر اَن آرگنائزڈ سیکٹر سے وابستہ لوگوں پر ہی زیادہ پڑتا ہے، چنانچہ کوشش یہ کی جانی چاہیے کہ اپنے ملک کی اقتصادی شرح نمو شاندار ہو مگر حالات کو بھی نظرانداز کرنا مناسب نہیں۔ ہندوستان سب سے زیادہ ایکسپورٹ امریکہ اور اس کے بعد یوروپی یونین کو کرتا ہے اور یہ دونوں کورونا سے بری طرح متاثر ہیں۔ دوسری طرف اس طرح کی بات کہی جا رہی ہے کہ کورونا کی حالیہ لہر کا عروج اگلے ماہ تک آئے گا، راجن کا یہ مشورہ صحیح ہے کہ حکومت وہیں خرچ کرے جہاں ضرورت ہو۔ وہ خرچ احتیاط سے اس لیے کرے تاکہ مالیاتی خسارہ بہت بلندی پر نہ پہنچے اور اس کے نتیجے میں افراط زر ہندوستانیوں کے لیے مسئلوں کی وجہ نہ بنے۔
2021 تک ہندوستان کا سرکاری قرض جی ڈی پی کا 86.597 فیصد ہو چکا تھا۔ ظاہر سی بات ہے، قرض لیا ہے تو دینا بھی ہوگا، قرض پر سود بھی ادا کرنا ہوگااور بجٹ کا خیال رکھتے ہوئے ہی یہ ادا کرنا ہوگا۔ 2021 میں آمدنی 580ارب ڈالر ہوئی تھی جبکہ خرچ 890 ارب ڈالر ہوا تھا۔ قرض ادا کرنے اور نئے پروجیکٹوں پر توجہ دینے کے لیے آمدنی اور خرچ کے گیپ کو کم سے کم کرنا ہوگا۔ ہندوستان کے لیے مثبت بات یہ ہے کہ مساوی قوت خرید کے معاملے میں چین اور امریکہ کے بعد وہ تیسرے نمبر پر ہے۔ اس کے علاوہ زرمبادلہ بھی اس کے پاس خاصا ہے۔ زرمبادلہ کے معاملے میں چین، جاپان، سوئٹزرلینڈ اور روس کے بعد وہ پانچویں نمبر پر ہے۔ 14 جنوری، 2022 تک روس اور اس کے زرمبادلہ میں بہت زیادہ کا فرق نہیں تھا۔ روس کے پاس 638,200 ملین ڈالر زرمبادلہ تھا تو ہندوستان کے پاس 634,965 ملین ڈالر تھا۔ یہ ہندوستان کی مستحکم اقتصادی پوزیشن ہی ہے کہ اس خطے کے ممالک اقتصادی بحران کے شکار ہوتے ہیں تو ان کے لیڈران امید بھری نظروں سے اس کی طرف دیکھتے ہیں۔ اس سلسلے میں حالیہ مثال سری لنکا کی ہے مگر اس پوزیشن کو برقرار رکھنے کے لیے حکومت کو آمدنی اور خرچ کا گیپ کم کرنے اور ایکسپورٹ بڑھانے پر توجہ دینی ہوگی، کوشش یہ کرنی ہوگی کہ دنیا کے بدلتے حالات کا منفی اثر ہمارے ملک پر نہ پڑے، اس کی اقتصادیات اسی طرح محفوظ رہے جیسے 2007 سے 2008 کے عالمی اقتصادی بحران کے دوران محفوظ تھی۔
[email protected]