عبادت گاہوں کیلئے ایکٹ کیوں بنایا گیا تھا!

0

خواجہ عبدالمنتقم

چونکہ  Places of Worship(special provisions) Act کے جواز اور ضمنی امور سے متعلق مختلف معاملات مختلف عدالتوں میں زیر سماعت یا زیر التوا ہیں،اس لیے ہم نے قارئین کو صرف یہ باور کرانے کے لیے یہ مضمون لکھا ہے کہ اس قانون کو بنانے کی ضرورت کیوں پڑی۔جہاں تک اس میں شامل التزامات کی بات ہے وہ سب public domain میں ہیں۔
جب بھی کوئی نیا قانون بنایا جاتا ہے یا اس میں ترمیم کی جاتی ہے تو بل کے ساتھ ایک دستاویز جسے Statement of objects and reasons یا SORکہا جاتا ہے، لگائی جاتی ہے اور اس میں ان وجوہات کو درج کیا جاتا ہے جن کے باعث کوئی قانون بنانا پڑتا ہے یا اس میں ترمیم کی جاتی ہے۔ اسی طرح کا SOR عبادت گاہیں (خصوصی توضیعات)بل تعدادی 1991 کا 124 پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے روبرو رکھا گیا تھا اور دونوں ایوانوں میں پاس ہونے اور صدر کی منظوری کے بعد اس نے ایکٹ کی شکل اختیار کرلی تھی۔ متذکرہ بالابل میںجوSORشامل کیا گیا تھا، اس کی عبارت درج ذیل ہے:
’’چونکہ عبادت گاہوں کی نوعیت کی تبدیلی (conversions)کی بابت وقتاً فوقتاً سوال اٹھائے جاتے رہے ہیں، اس لیے یہ محسوس کیا گیا کہ اس طرح کےconversions پر پابندی لگائی جائے یعنی ممنوع کیا جائے۔
.2ایسی کسی بھی عبادت گاہ کی بابت، جو 15؍اگست1947کو موجود تھی،کسی بھی اختلاف کو ختم کرنے کے لیے یہ ضروری سمجھا گیا کہ ہر ایسی عبادت گاہ کی،جو 15 اگست1947کو موجود تھی، مذہبی نوعیت کو برقرار رکھنے کے لیے توضیع کی جائے۔اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ایسی عبادت گاہوں کی بابت جو بھی مقدمات یا کارروائیاں زیر التوا ہیں وہ ساقط ہو سکیں گی اور آئندہ بھی کوئی مقدمہ یا دیگر کارروائیاں کرنے پر پابندی لگائی جا سکے گی۔
.3البتہ عرف عام میں رام جنم بھومی-بابری مسجد کہلائے جانے والے مقام سے متعلق معاملہ چونکہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے یکتا ہے، اس لیے یہ ضروری ہوگیا ہے کہ اسے اس ایکٹ کے اس پر اطلاق سے چھوٹ دی جائے۔
.4علاوہ ازیں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور امن و امان قائم رکھنے کے لیے ان معاملات کو بھی اس ایکٹ کے اطلاق سے چھوٹ دی جاتی ہے جن میں 15 اگست،1947 اور11 جولائی، 1991 کے دوران عدالتیں،ٹریبیونل، یا اتھارٹیز فیصلہ دے چکی ہیں یاجن میںفریقین نے خود یا رضامندی سے سمجھوتہ کر لیا ہے۔
.5اس قانون کے نفاذ کی تاریخ 11 جولائی،1991 مقرر کرنے کی تجویز ہے چونکہ اسی دن صدر نے ایسا اعلان کرتے ہوئے پارلیمنٹ سے خطاب کیا تھا۔
.6یہ بل مذکورہ اغراض کو پورا کرنے کے لیے ہے۔‘‘
اس SORکو عملی جامہ پہنانے کے لیے متذکرہ ایکٹ میں دیگر باتوں کے ساتھ واضح طور پر یہ بات کہی گئی ہے کہ ایسی کسی بھی عبادت گاہ کی، جو 15،اگست1947 کو موجود تھی، مذہبی نوعیت کو برقرار ر کھا جائے اور ایسی عبادت گاہوں کی بابت جو بھی مقدمات یا کارروائیاں زیر التوا ہیں وہ ساقط ہو جائیں گی اور آئندہ بھی نہ تو کوئی مقد مہ دائر کیا جاسکے گا اور نہ دیگر کوئی کارروائی کی جا سکے گی البتہ رام جنم بھومی-بابری مسجد معاملہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے یکتا ہے، اس لیے یہ ضروری ہوگیا ہے کہ اسے اس ایکٹ کے اطلاق سے چھوٹ دی جائے۔
اس کے علاوہ کسی قانون کی نوعیت کا اندازہ اس کی تمہید(preamble)سے بھی لگایا جاسکتا ہے۔ آئیے اب یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ تمہید کیا ہوتی ہے اور قانون کی نظر میں اس کی کیا اہمیت ہے۔کسی بھی قانون کی تمہید میں اصل دفعات اور اس قانون کے نفاذ کی ضرورت اور غرض و غایت بیان کی جاتی ہے اور اگرقانون یا آئین میں، جسے ملک کے بنیادی قانون کا درجہ حاصل ہے، کی کوئی دفعہ واضح نہیں ہوتی تو اس کی صحیح تعبیر کے لیے تمہید کی جانب رجوع کیا جا سکتا ہے تا کہ یہ پتہ لگایا جا سکے کہ مقننہ یا قانون ساز اداروں کا ایسا قانون لانے کا کیا منشا اور کیا غرض و غایت تھی۔ 1991کی تمہید میں بھی یہی بات کہی گئی ہے کہ یہ قانون ہر ایسی عبادت گاہ کی،جو 15 اگست1947 کو موجود تھی، مذہبی نوعیت کو برقرار رکھنے اور اس میں کسی بھی قسم کی تبدیلی پر روک لگانے اور ان سے منسلک یا ضمنی امور کی بابت توضیع کرنے کے لیے وضع کیا گیا ہے۔
یہاں اس بات کا ذکر بے محل نہ ہوگا کہ ہر حکومت کی ہر دور حکومت میں یہ پالیسی رہی ہے کہ ہر حال میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور امن و امان قائم رکھا جائے۔کچھ ایسی ہی صورت حال میں جب آئین (42ویں ترمیم) ایکٹ، 1976، کی رو سے لفظ سیکولرزم آئین کی تمہید میں شامل کیا گیا تھا،تو اس کے SORمیں بھی صاف طور پر یہ بات کہی گئی تھی کہ چونکہ کچھ عوامل اور مفاد پرست لوگ اپنے ذاتی اغراض کی خاطر عام فلاحی اقدامات کی مخالفت پر تلے ہوئے ہیں اور یہ کہ آئین کو زندہ رکھنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ بتدریج آگے بڑھتا رہے اوراگرآئین کے اس تدریجی سفر میں رکاوٹ آتی ہے تو یہ خدشہ پیدا ہوجاتا ہے کہ کہیں آئین کمزور نہ پڑ جائے۔
ابھی چونکہ یہ معاملہ مختلف عدالتوں میں زیر سماعت ہے، اس لیے ایسے حالات میں کسی بھی قسم کے خدشات کی بابت قیاس آرائی یا ججوں کی دیانتداری کی بابت شک و شبہات کا اظہار نہ صرف نا مناسب ہے بلکہ قرین مصلحت بھی نہیں۔ ابھی تو یہ ابتدائے عشق قانونی ہے اس کے عدالت عظمیٰ تک کئی مدارج باقی ہیں۔دوسرے یہ کہ اس بات کا قبل از وقت یہ اندازہ لگانا بڑا مشکل کام ہے کہ حتمی فیصلہ کب تک ہوگا۔عدالتیں پہلے ہی زیر التوا معاملات کے بوجھ کے نیچے دبی پڑی ہیں اور انصاف میں تاخیر ایک معمول بن چکی ہے۔ ہاں یہ بات ضرور ہے کہ کوئی بھی عدالت جب تک یہ قانون نافذ العمل ہے، اس کے خلاف کوئی حکم جاری کرنے کی جرأت نہیں کرسکتی اور اگر کرتی ہے تو ہم روز دیکھتے ہیں کہ سپریم کورٹ کتنے ہی معاملوں میں ہائی کورٹ اور ذیلی عدالتوں کے خلافstrictures پاس کرتا ہے یعنی ان کی نکتہ چینی کرتا ہے یا حرف گیری سے کام لیتا ہے۔ہر فریق کو یہ امید رکھنی چاہیے کہ عدالت کا حتمی فیصلہ اس قانون کی تمہیدو SOR میں درج غرض و غایت اور قانون میں شامل دفعات کی روشنی میں ہی ہوگا۔جب تک فیصلہ نہیں آتا کسی بھی فریق کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ متعلقہ عبادت گاہ میں کسی قسم کی تبدیلی یا بدلاؤ کرے۔اگر کسی بھی فریق نے ایسا کیا توہ اس قانون کی رو سے مستوجب سزا ہوگا۔
(مضمون نگار آزاد صحافی، مصنف، سابق بیورکریٹ اور عالمی ادارہ برائے انسانی حقوق سوسائٹی کے تاحیات رکن ہیں)
[email protected]