کدھر جا رہا ہے یوروپ؟

0

یوروپی ملکوں کے لیڈران انسانی حقوق کی باتیں کرتے رہتے ہیں۔ وہ اظہار رائے کی آزادی کی باتیں کرتے رہتے ہیں مگر بیشتر یوروپی ملکوں کے حالات کو دیکھ کر ان کی باتوں اور ان کے عمل کے فرق کو سمجھنا مشکل نہیں ہے، اس لیے سویڈن کا حالیہ مذموم واقعہ کوئی چونکانے والا نہیں ہے، البتہ اس طرح کے واقعات سے یہ سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے کہ یوروپ کے کئی لوگوں نے بقائے باہم کی سوچ ترک کر دی ہے۔ ایک دوسرے کے نظریوں کا احترام کرنا چھوڑ دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں مذموم واقعات رہ رہ کر ہوتے رہتے ہیں۔ فرانس میں نقاب اور برقع کے خلاف مہم نکولس سرکوزی نے صدر رہتے ہوئے چلائی تھی اور لباس کے انتخاب کی آزادی کو نظرانداز کرکے چلائی تھی۔ اس مہم کی ضرورت انہیں اس لیے بھی تھی کہ فرانس میں بے روزگار بڑی تعدادمیں تھے اور وہ بے روزگاری کا گراف توقع کے مطابق نیچے نہیں کرپائے تھے۔ سوئٹزرلینڈ میں لینڈ اسکیپ کا خیال کرتے ہوئے مسجد کے میناروںکی تعمیرمتنازع بنا دی گئی، اس پر پابندی عائد کر دی گئی اور توجہ اس بات پر نہیں دی گئی کہ اس کے کیسے اثرات سوئٹزر لینڈ کی شبیہ پرپڑیں گے۔ حلال گوشت اور کوشر گوشت پر پابندی عائد کرنے کے لیے یوروپ میں آوازیں اٹھتی رہی ہیں۔ مذموم خاکوں کا مسئلہ یوروپ میں ایک بڑا مسئلہ ہے جو ایک سے زیادہ بار سامنے آیا ہے۔ ان تمام باتوں کی روشنی میں یہ سمجھنا مشکل نہیں ہے کہ یوروپ کے حالات بدل رہے ہیں اور لگتا یہی ہے کہ حالات ابھی اور بدلیں گے، کیونکہ بیشتریوروپی ملکوں کی اقتصادی حالت پہلے جیسی نہیں رہ گئی ہے۔ پہلے کورونا وائرس نے ان کے حالات پر اثرات مرتب کیے، پھر یوکرین جنگ نے انہیں خوف میں جینے پر مجبور کیا ہے۔ اس خوف کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ روسی لیڈران یوکرین جنگ کے سلسلے میں ایٹم بم کے استعمال کی باتیں کرتے رہے ہیں اور یوروپیوں کے لیے یہ سمجھنا مشکل نہیں ہے کہ یوکرین جنگ کی وجہ سے روس کی اقتصادیات تباہ ہونے لگے گی، اسے شکست نظر آنے لگے گی تو کیا ہوگا اوراگر اس کے برعکس ہوا، وہ یوکرین پر پوری طرح قابض ہو گیا تو کیا ہوگا۔ یہ پیش گوئی نہیں کی جاسکتی کہ یوروپ میں آنے والے وقت میں کب کون سی بڑی تبدیلی آئے گی، البتہ یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ حالات بگڑتے ہیں تو مذہبی انتہاپسندی سر ابھارنے لگتی ہے، سیاست اسی انداز میں ہونے لگتی ہے جیسی سیاست دوسری عالمی جنگ سے یوروپ کے ہی ملکوں میں دیکھی جا چکی ہے، اس لیے یہ وقت مسلمانوں کے لیے جذبات کی رو میں بہنے کا نہیں، دانشمندانہ عمل کے اظہار کا ہے۔ کئی بار وہ لوگ جو دشمنی پر آمادہ ہوتے ہیں، وہی پکے دوست بن جاتے ہیں۔ اقبالؔ نے یوں ہی نہیں لکھا تھا، ’پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے‘۔ اس شعرکو مثالوں سے بھی سمجھنا آسان ہے۔
ناٹو میں سویڈن کی مخالفت کرنے پر ترکیہ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرنے والوں کا قرآن کریم کے اوراق کو جلانا ایک مذموم حرکت ہے، اس کی وجہ سے ناٹو میں سویڈین کی شمولیت پر ترکیہ کی مخالفت میں مزید شدت آئے گی یا نہیں، یہ سیاست کا ایشو ہے، عام مسلمانوں کے لیے یہ وقت یہ سمجھنے کا ہے کہ کیا ان کی متذکرہ مذموم حرکت کے خلاف احتجاج کر دینے سے ان کا اخلاقی فرض ادا ہو جاتا ہے؟ اور کیا ان کے احتجاج کرنے سے آئندہ اس طرح کے واقعات نہیں ہوں گے؟ ضرورت اس بات کی ہے کہ عربی سے نابلد مسلمان خود قرآن کریم معنی کے ساتھ اپنی مادری زبانوں میں پڑھیں، اپنے بچوں کو پڑھائیں تاکہ وہ یہ سمجھ سکیں، اللہ پاک ان سے کیا چاہتا ہے۔ پھر وہ اللہ پاک کے پیغام کو ان لوگوں تک پہنچائیں جو اسلام سے ناواقف ہیں۔ کئی لوگوں کا اسلام کو نہ سمجھ پانا ان سے مذموم حرکتیں کروا ڈالتا ہے اور بعد میں انہیں شرمندگی اٹھانی پڑتی ہے۔ اس سلسلے میں مثالوں کی کمی نہیں ہے۔ مشہور صحافی یووون رڈلے اسلام کے بارے میں زیادہ نہیں جانتی تھیں تو اس مذہب کے بارے میں ان کی سوچ کچھ اورتھی اور جب قرآن کریم کا مطالعہ انہوں نے کر لیا تو ان کی سوچ بدل گئی، وہ مشرف بہ اسلام ہوگئیں۔ آج وہ ایک بہترین مبلغ ہیں، چنانچہ کوشش یہ ہونی چاہیے کہ اسلام کے پیغام کو دنیا کے ہر فرد تک پہنچایا جائے تاکہ اسلام کے مخالف یہ سمجھیں، اسلام ایک امن پسند مذہب ہے اور اس کے خلاف ہوکروہ امن پسندی کی بات نہیں کر سکتے۔
[email protected]