اسرائیل کی جھنجھلاہٹ کا سبب کیا ہے

0

مغربی ایشیا کو پرامن اور خوشحال بنانے کا خواب دیکھنے والے پرامید لوگوں کے لئے ایک بری خبرہے کہ خطے میں قیام امن کے امکان مزید معدوم ہوگئے ہیں۔ یہ امید اسرائیل جس نے پچھلے 70سال سے ظلم وتشدد کا بازار گرم کر رکھا ہے ،ختم ہوجائے گا مگر وہ آج بھی اپنی حرکتوں سے باز نہیں آرہا ہے۔ پچھلے دنوں اسرائیل میں سخت گیر سیاسی جماعتوں کی سرکار بنی ہے۔ اس نے آتے ہی فلسطینیوں کے خلاف ایسے سخت اور انسانیت سوز اقدام کرنے کا فیصلہ کیا جوکہ نہ صرف بنیادی حقوق کی صریحاً خلاف ورزی ہے بلکہ اس سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی بھی ہوتی ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں 31؍دسمبرکو ایک قراردادپاس ہوئی تھی جس کی رو سے اسرائیل ارض فلسطین میں جو وحشیانہ حرکتیں کر رہا ہے اس کے خلاف قانونی موقف اختیار کرنے کی امیدپیدا ہوئی۔ اس قرارداد میں عالمی عدالت سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ یہ بتائے کہ عالمی قوانین کی رو سے جن فلسطینی علاقوں پر اسرائیل نے طاقت کے بل پر قبضہ کر رکھا ہے اگروہ علاقے خالی نہیںکئے جارہے ہیں یا ان میں فلسطینیوںکے خلاف بدترین اورانسانیت سوز کارروائی کی جارہی ہے تو ان حالات میں کسی تیسرے فریق کی مداخلت کا کتنا امکان ہے۔ اقوام متحدہ کے قوانین کی خلاف ورزی اسرائیل اس وقت سے کر رہا ہے جب سے وہ معرض وجود میں آیا ہے۔ ظاہرہے کہ اس قرارداد کا پاس ہونا اسرائیل اوراس کے حواریوں کی نیند حرام کرنے والا ہے۔ اسرائیل اس قرارداد کے پاس ہونے سے بہت جھنجھلاہٹ میں ہے۔ اسرائیل نے اس قرارداد کے پاس ہونے کے بعد اپنے مظالم اور فلسطینیوں پر شکنجہ سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسرائیل کایہ وطیرہ رہا ہے کہ وہ کبھی جنگ اورکبھی امن اورکبھی معاہدوں کے ذریعہ، الغرض کہ ہرطریقے سے اپنے صیہونی عزائم کی توسیع کرتا ہے۔ 1992-93 کے اوسلو معاہدہ کے بعد اس نے دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ وہ امن پسند ہے اور اس معاہدے کے ذریعہ فلسطینیوں کو ایک علیحدہ ریاست بنائے گا جہاں ان کو وہ تمام حقوق حاصل ہوںگے جو ایک عام آزاد ملک کو حاصل ہوتے ہیں مگر اس معاہدے کو اس نے سفارتی تعلقات قائم کرنے میں اوراپنے الگ تھلگ ہونے کی پوزیشن کو ختم کیا۔ کئی ملک اس معاہدہ کے بعد اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ اسرائیل کا مقصد تویہی تھا کہ اس کاآئسولیشن ختم ہو تاکہ دنیا میں اپنی معیشت اور کاروبار کی توسیع کر سکے۔ اسرائیل ہتھیار بنانے والا ایک اہم ملک ہے۔ اس کے ترقی یافتہ اور جدیدہتھیار دنیا بھرمیں مشہورہیں۔ ان ہتھیاروںکو استعمال کرکے اس نے عالمی سطح پر اپنی پوزیشن کومستحکم کیا ہے، اپنی معیشت بہتر کی ہے۔ پچھلے دنوں ابراہم اکورڈ کے نام پر اس نے کئی ایسے عرب ممالک سے روابط قائم کرلئے جوکہ اس کا نام بھی سننا گوارہ نہیں کرتے تھے۔ ان میں اردن، یواے ای، بحرین قابل ذکر ہیں۔ عرب ملکوںمیں ایک اہم ملک مراکش نے تو اس کے ساتھ دفاعی سمجھوتہ تک کرلیا ہے۔ مگر فلسطینیوںکے ساتھ اس کا رویہ روز بہ روز بدترہوتا جارہا ہے۔اسرائیل کو اس بات کی تکلیف ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کے سفارت کاروں اور وزیروں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں یہ قرارداد پاس کراکر اس کو بڑی پریشانی میں مبتلا کردیا لہٰذا اس نے تلملاہٹ میں اسنے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اوسلو معاہدہ کے تحت فلسطینی اتھارٹی انتظامیہ کو دی جانے والی 39ملین امریکی ڈالر کی رقم وہ سپرد نہیں کر ے گا بلکہ اس رقم کو ان اسرائیلی متاثرین کو دے گا جوکہ فلسطینی حریت پسندوں یا جنگجو عناصر کی کارروائی میں زخمی ہوتے ہیں۔
خیال رہے کہ فلسطینی اتھارٹی غیرملکی امداد اور اسرائیل کے تعاون کے ساتھ چلتی ہے۔ اس خطیررقم کے نہ ملنے سے فلسطینی اتھارٹی کو ان افراد اور اہل خانہ کو مددفراہم کرنے میں مشکل ہوگی جوکہ غیرقانونی طریقے سے اسرائیل کی جیلوں میں بند ہیں یا اس تنازع میں مارے جاچکے ہیں۔ فلسطینی اتھارٹی اس رقم کو ان افرادکی بازآبادکاری کے لئے بھی فراہم کرتی ہے جوکہ اسرائیل کے خلاف کارروائی میں زخمی ہوتے یا اجڑ جاتے ہیں۔ فلسطینی ان مجاہدین کو شہید قراردیتا ہے لہٰذا وہ اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے کہ متاثرین کی بازآبادکاری کرے۔ یہ صورت حال اس وقت اور بھی سنگین ہوگئی ہے کہ جب اسرائیل نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ فلسطینی اتھارٹی کے ان اراکین اور وزرا کو غیرملکی دورہ کرنے سے باز رکھے گا جوکہ عالمی سطح پر سرگرم ہوکر اسرائیل کے خلاف سفارتی دبائو ڈال رہاہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ اہم شخصیات جوکہ اس کے خلاف سیاسی اور قانونی جنگ لڑ رہے ہیں ان کو اسی صورت حال سے گزرنا پڑے گا جوکہ ایک عام فلسطینی گزرتا ہے یعنی فلسطینی اتھارٹی کے اختیارات کو کم کیا جائے گا۔ فلسطینی اتھارٹی اس صورت حال سے ناراض ہے۔یہی نہیں اسرائیلی کابینہ نے مغربی کنارے کے سی زمرے کے علاقوں میں تعمیرات کو روکنے کا بھی منصوبہ بنایا ہے۔ خیال رہے کہ مغربی کنارے کا سی زمرے کا علاقہ کل علاقے کا 60 فیصد ہے۔ اس علاقے میں کچھ فلسطینی کالونیاںہیںاور کچھ دیہی علاقے آتے ہیں۔ کابینہ کی اس میٹنگ میں جوکہ چند وزرا پر مشتمل تھی ایک فیصلہ اورکیاگیا۔ اس کے مطابق مغربی کنارے میں ’دہشت گردانہ ‘یا تخریبی سرگرمیوںمیں ملوث افرادکے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ اس حکم نامے کی زبان کے مطابق یہ کارروائی کیا ہوگی اس کا ذکر نہیں ہے بلکہ ایک لفظ استعمال ہے ’غیریقینی‘ یعنی کچھ بھی۔ اس فیصلے میں کہا گیا ہے کہ وہ تنظیمیں سیاسی اور قانونی تنظیمی رضاکار اور تنظیمیں جوکہ انسانی حقوق کی آڑ میں کارروائیاں کرتی ہیں ان کے خلاف بھی اسی طرح کی کارروائی ہوگی۔ ظاہر ہے کہ اس فیصلے کے بعد اسرائیل کے حکام ، فوج فلسطینی حریت پسندوںکے خلاف کچھ بھی کرسکتے ہیں۔ چند ماہ قبل اسرائیلی حکام نے فلسطینیوںکے حقوق کے لئے کام کرنے والی 6 بڑی تنظیموںکے خلاف کارروائی کی تھی۔ ان کے دفاتر کو بند کردیا تھا اوران کو دہشت گرد قرار دیا تھا۔ ظاہر ہے فلسطینی عوام اورقیادت نے بنجامن نیتن یاہو کی قیادت میں کابینہ کی کمیٹی کی اس کارروائی پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
فلسطین کے وزیراعظم محمداشتیہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل ٹیکس کو روک کر ہمارے ساتھ بلیک میلنگ کر رہا ہے۔ انہوںنے تسلیم کیا ہے کہ اس سے فلسطینی اتھارٹی کا بحران اور شدید ہوگا۔ ہمارے اقدام اورسخت ہوںگے۔ اسرائیل کی پوری توجہ مغربی کنارے پر مرکوز ہیں۔ مغربی کنارے پر اسرائیل نے 1967 میں قبضہ کیا تھا۔ اسرائیل امن مذاکرات نہیں ہونے دیناچاہتا ہے۔ وہ جنگ اور بم باری اور دفاعی کارروائی کرکے ہی اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اس میں اس کو فائدہ ہے۔مغربی کنارے میں فوجی کارروائیوںاور اقتدار اعلیٰ کے ذریعہ وہ پوری دنیا سے یہودی لاکر بسا رہا ہے۔ آج مغربی کنارے میں ڈھائی ملین فلسطینیوںکے ساتھ 500000یہودی رہتے ہیں۔