اس جنگ کی ’عمر‘ کتنی؟

0
اس جنگ کی ’عمر‘ کتنی؟

روس اور یوکرین کی جنگ اب دو ماہ کا وقت مکمل کرچکی ہے اور ابھی بھی یہ واضح نہیں ہوپارہا ہے کہ زورزبردستی سے اپنا ہدف ہتھیانے والے اس ’انسانی جنون‘ کی ’عمر‘ کتنی لمبی ہے؟ جس جنگ کو روس ’دنوں‘ میں جیت لینے کا خواب دیکھ رہا تھا، اس کی میعاد ’مہینوں‘ میں بدلنے سے روس بوکھلایا ہوا ہے۔ اس کے حملوں نے بھلے ہی کئی یوکرینی شہروں کو کھنڈر بنادیا ہو، جگہ جگہ انسانیت تل-تل کر مر رہی ہو، لیکن ٹوٹا پھوٹا ہی سہی، یوکرین ابھی بھی جنگ کے میدان میں ڈٹا ہوا ہے۔ یوکرین پر کسی بھی قیمت پر اپنا تسلط قائم کرنے کی خواہش میں روسی صدر پوتن نے اب اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کرتے ہوئے اس ملک کے چھوٹے چھوٹے حصوں کو قبضہ میں لینے کی شروعات کی ہے جیسے کہ کسی دیمک کی طرح ایسا کرتے ہوئے روس ایک دن پورے یوکرین کو چٹ کرجائے گا۔
جدید تکنیک کا دور ہونے کے باوجود آج بھی جنگی میدان دنیا کے لیے افواہوں کا اڈہ بنا ہوا ہے۔ ایسے میں متضاد دعوؤں کے درمیان گراؤنڈ زیرو کی حقیقت کی تصدیق ہونے میں وقت لگتا ہے لیکن جنگی میدان سے آئی تازہ خبر یہی اشارہ کررہی ہے کہ جو روس اب تک یوکرین میں صرف تباہی کے شعلے برسا رہا تھا، اس نے دیرسویر اب میدان مارنا بھی شروع کردیا ہے۔ ڈون باس کے تقریباً 75فیصد حصہ پر قبضہ کے ساتھ ہی یوکرین کی سب سے بڑی بندرگاہ والا مارییوپول بھی اب تقریباً اس کے کنٹرول میں ہے۔ سیکڑوں شہریوں، بچوں اور زخمی یوکرینی فوجیوں کی پناہ گاہ بنا اجووسٹل پلانٹ ہی مارییوپول میں اس کے قبضہ سے باہر رہ گیا واحد علاقہ ہے۔ اس کے بارے میں بھی خبر یہی پھیل رہی ہے کہ یہاںپناہ لیے ہوئے لوگوں کے پاس نہ کھانا بچا ہے، نہ دوا-پانی، اور پوتن نے بھی یوکرین کے اس گڑھ کو ایک بار میں منہدم کرنے کے بجائے ایسے انتظامات کیے ہیں کہ یہاں پھنسے لوگوں کے پاس آہستہ آہستہ موت کی طرف جانے کے علاوہ صرف سرینڈر کرنے کا ہی متبادل بچا ہے۔
لیکن جس مارییوپول میں پوتن اپنے فوجیوں کی ناکہ بندی سے مکھی کے گھسنے لائق جگہ بھی نہیں چھوڑنے کا غرور پالے بیٹھے تھے، وہاں سے ایک بڑی خبر باہر نکل آئی ہے جو اگر سچ ہے تو اس جنگ کی اب تک کی سب سے بھیانک خبر ہے۔ سیٹلائٹ امیج سے مارییوپول کے باہری شہر مان ہش میں تقریباً 200اجتماعی قبروں کا علم ہوا ہے۔ خدشہ ہے کہ مارییوپول پر حملہ کے دوران 9,000سے زیادہ بے قصور یوکرین شہریوں کو موت تقسیم کرنے کے اپنے ’جرم‘ کو روس نے انہی قبروں میں دفن کیا ہے۔ روس کی اس مبینہ ’حیوانیت‘ نے یوکرین میں 1941کے نازی قتل عام کی یادیں تازہ کردی ہیں، جب کیو کے بابن یار میں جرمن فوج نے 34ہزار معصوم یوکرینی یہودی بچوں، خواتین اور بزرگوں کو موت کے گھاٹ اُتارا تھا۔
صرف بابن یار ہی کیوں، انسانیت کی تاریخ ایسی بے وقوفیوں سے بھری پڑی ہے جہاں خود کو خدا سمجھنے والے تاناشاہوں یا حکمرانوںکے جنون یا ظلم کا خمیازہ بے قصور لوگوں کو اٹھانا پڑا ہے۔ ایسے میں مہابھارت کی جنگ سے سبق حاصل کیا جاسکتا ہے جس میں کچھ مستثنیات کو چھوڑ کر پہلے سے طے اصول و ضوابط کے مطابق ہی جنگ لڑی گئی۔ جنگ رہائشی علاقہ سے دور جاکر لڑی گئی اور صرف جنگجوؤں نے ہی اس میں جان گنوائی۔ بیشک میں اسے کسی مثال کی طرح پیش نہیں کررہا، جنگ کوئی بھی ہو، انسانیت کے لحاظ سے نتیجہ خیز نہیں ہوسکتی اور یہ خیال اچانک ہی ہے لیکن پھر بھی یہ اس ’غنڈہ گردی والے رجحان‘ سے تو بہتر ہی متبادل ہے جس کا ہمارے مبینہ مہذب عالمی معاشرہ میں ان دنوں بڑی تیزی سے فروغ ہوا ہے۔
یوکرین پر روس کے حملہ کو اور کس نظر سے دیکھا جاسکتا ہے؟ جس طرح گلی کا کوئی غنڈہ اپنی ناپسندیدگی کا بے شرمی سے مظاہرہ کرتا ہے، اسی طرح یوکرین کے ناٹو میں شامل ہونے کے منصوبہ اور مخالف امریکہ کے خیمہ میں جانا روس کو اتنا ناگوار گزرا کہ وہ پورے لاؤلشکر کے ساتھ یوکرین کو دھمکی دینے پہنچ گیا۔ کچھ اس طرح کہ اگر میرے ساتھ نہیں رہوگے، تو تمہیں تباہ کردوں گا۔ اب جب فن لینڈ اور سویڈن جیسے ملک بھی ناٹو سے جڑنا چاہ رہے ہیں تو روس انہیں بھی دھمکا رہا ہے کہ وقت آنے پر اور موقع ملنے پر وہ انہیں بھی ’نیا یوکرین‘ بناسکتا ہے۔ آج حالت یہ ہے کہ روس، چین اور شمالی کوریا جیسے توسیع پسندانہ جذبہ سے ترغیب یافتہ چنندہ ممالک نے دنیا کی ناک میں دم کررکھا ہے۔ روس کی طرح چین تبت سے لے کر جنوبی بحیرئہ چین اور تائیوان ہڑپنے کے لیے بے صبر ہے۔ حال ہی میں تائیوان کے سمندری علاقوں میں فوجی ٹریننگ پر چین نے کسی اور کو نہیں، ’دنیا کے دادا‘ کہلانے والے امریکہ کو تائیوان سے دور رہنے کے لیے کھلے عام دھمکی دی ہے۔ موقع دیکھ کر شمالی کوریا نے بھی امریکہ تک مار کرنے والی ایٹمی میزائلوں کا تجربہ کرکے اسے حد میں رہنے کی دھمکی دے ڈالی ہے۔
حالاں کہ جس طرح تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی، اسی طرح موجودہ حالت کا ٹھیکرا روس-چین-شمالی کوریا کی تگڑی پر پھوڑنا بھی ٹھیک نہیں ہوگا۔ جس طرح گلی کے لوگوں کی یکجہتی اور مفاد کے بجائے سبھی کے فلاح کا جذبہ کسی غنڈے کو پنپنے نہیں دیتا، اسی طرح اگر دنیا کے ملک بھی برتاؤ کرتے تو یہ حالت ٹالی جاسکتی تھی۔ ایسے وقت میں جب دنیا کے نامور ممالک کو امن اور ہم آہنگی کے لیے آگے آنا چاہیے تو وہ سب اب بھی اپنا مفاد پورا کررہے ہیں۔ بروقت روس کو روکنے کے بجائے وہ اس پر پابندی لگارہے ہیں جس کا اثر تو فی الحال علامتی ہی نظر آرہا ہے۔ یوکرین کو جدیدترین ہتھیار اور مہنگے سے مہنگے ہتھیاروں کا اڈہ بناکر امریکہ یا یوروپی ممالک یوکرین کو روس کے برابر نہیں لارہے بلکہ جنگ کی آگ میں گھی ڈالنے کا ہی کام کررہے ہیں۔ اگر ان کا ارادہ اتنا ہی فلاحی ہوتا تو جنگ کے میدان میں اُترکر یوکرین کا ساتھ دیتے، دور بیٹھ کر اپنی ہتھیلیاں گرم نہیں کررہے ہوتے۔ یہ بھی کام حیران کن نہیں ہے کہ روس-یوکرین جب جب بات چیت کی ٹیبل پر آمنے سامنے آئے ہیں تو امن کے پیروکار بنے ملک اس میں شراکت داری سے کنّی کاٹتے ہی نظر آئے ہیں۔ برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے جس طرح روسی صدر پوتن کے ساتھ بات چیت کرنے کا موازنہ مگرمچھ سے بات کرنے سے کیا ہے، اس سے اس بات کا اشارہ مل جاتا ہے کہ جن طاقتوں پر جنگ روکنے کی ذمہ داری ہے، وہ خود اپنی ذمہ داری کو لے کر کتنی حساس ہیں۔ اسی ہفتہ ہندوستان کے دورہ پر آئے بورس جانسن نے حالاں کہ پی ایم نریندر مودی سے ملاقات میں جنگ فوراً روکے جانے کی کسی بھی پہل کو لائق خوش آمدید بتایا۔ تو کیا جانسن کے بدلے سُر کسی بڑی تبدیلی کا بھی اشارہ ہیں؟ کیا عالمی برادری امن کے لیے پھر ہندوستان سے کوئی امید وابستہ کررہی ہے؟ کیا وزیراعظم نریندر مودی کی عالمی قبولیت اور کرشمائی قیادت سے کسی نئے چمتکار کی امید وابستہ ہورہی ہے؟ ایسے کئی سارے سوال ہیں جن کا جواب وقت ہی دے گا۔
(کالم نگار سہارا نیوز نیٹ ورک کے
سی ای او اور ایڈیٹر اِن چیف ہیں)