چہ دلاور است۔۔۔

0

ملک میں مہنگائی ہے اورنہ روپیہ لڑکھڑارہاہے ۔ ہندوستان دنیا کے کئی ممالک سے بہتر اور تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشتوں میں سے ہے جس کی جانب رخ کرنے سے کساد بازاری کے بھی پر جلتے ہیں۔حکومت نے نہ صرف لوگوں کی تھالی بھردی ہے اور بیت الخلاتعمیر کروادیا ہے بلکہ غریبوں کے گھر تک بینک اکائونٹ، بجلی اور موبائل فون پہنچا دیاگیا ہے، 5لاکھ روپے کا آیوشمان بیمہ تک دے دیا ہے ۔ اہل وطن کو وزیراعظم نریندر مودی کا شکرگزار ہونا چاہیے کہ وہ ملک کے 80کروڑ لوگوں کو مفت میں کھانا بھی دے رہے ہیں ۔ تو پھر کون سی مہنگائی رہ جاتی ہے؟ یہ وہ سوال ہے جو حکمراں جماعت کے وزرا اور ارکان پارلیمنٹ ایوان میںحزب اختلاف کے رہنمائوں سے کررہے ہیں ۔
مہنگائی، بے روزگاری، خوردنی اشیا پر ظالمانہ ٹیکس وصولی کے مسئلہ پر ایوان میں جاری ہنگامہ آرائی اور دونوں سے ہونے والے بحث و مباحثہ کو ایک سوال میں سمیٹتے ہوئے حزب اختلاف کی بساط لپیٹ دینے کایہ ہنر حکمراں بھارتیہ جنتاپارٹی کا ہی خاصہ ہوسکتا ہے ۔ ویسے بھی بھارتیہ جنتاپارٹی سفیدو سیاہ اور بلند و پست کو معکوسی ترتیب میں حقیقت بناڈالنے کے فن میں یکتا ہے ۔لیکن مہنگائی کے تعلق سے حکومت نے ایوان میں جو بیان صفائی دی ہے، اس پر پورا ملک محو حیرت ہے ۔
وزیرخزانہ محترمہ نرملا سیتارمن نے مہنگائی پر بحث کے دوران سارا نزلہ حزب اختلاف پر گرایااور کہا کہ وہ صرف مہنگائی کاہوا کھڑا کرکے ملک کو گمراہ کررہا ہے۔ مہنگائی پر بحث کے دوران ایوان میں نہ اعداد و شمار پیش کیے گئے اور نہ کوئی ٹھوس دلیل دی گئی، اس کے برخلاف حزب اختلاف نے فقط سیاسی باتیں اور سیاسی ایشوزپرہنگامہ کرکے ایوان کا قیمتی وقت برباد کیا ہے۔ ملک کے حالات بہتر ہیں اوراس کا سہرا عوام کے سر جاتا ہے ۔یہ وہی وزیرخزانہ ہیں جب دو سال قبل حزب اختلاف نے پارلیمنٹ میں پیاز کی قیمتوں کو لے کر عام آدمی کی پریشانی کا مسئلہ اٹھایا توانہوں نے کہا کہ وہ لہسن، پیاز نہیں کھاتیں اور ایسے خاندان سے ان کا تعلق ہے جس کا پیاز سے کوئی سروکار نہیں ہے ۔اس بار شاید انہوں نے اپنی فہرست سے پیاز، لہسن کے ساتھ ساتھ دودھ، دہی، پھل، سبزی، گوشت، انڈے، تیل، گیس کو بھی نکالادے دیا ہے ورنہ ان کی ہوش رباقیمت انہیں کہیں نہ کہیں ضرور نظرآجاتی ۔
ٹریزری بنچ کے اور مسند نشیں مالیات پر ایوان کی قائمہ کمیٹی کے سربراہ جینت سنہا نے بھی مہنگائی کا ’ دعویٰ ‘ کررہی حزب اختلاف کو للکارتے ہوئے کہا کہ ’آپ مہنگائی تلاش کر رہے ہیں، لیکن آپ کو مہنگائی نہیں مل رہی،کیوں کہ کہیں بھی مہنگائی نہیں ہے۔‘اپنی للکار کو بامعنی بنانے کیلئے انہوں نے غریبوں کو سستے اناج سے لے کر غریبوں کو بینک اکائونٹ کھلوانے، بیت الخلابنانے اور 5 لاکھ روپے کے آیوشمان انشورنس کا بھی ذکر کیا۔بھارتیہ جنتاپارٹی کے ایک اور رکن پارلیمنٹ نشی کانت دوبے مہنگائی پر جواب دینے کیلئے اٹھے توا نہوں نے ہرحدپار کردی اور جلال میں یہ فرماگئے کہ وزیراعظم کو مبارک باددینا چاہیے کہ وہ ملک کے 80 کروڑ غریبوں کو ’ فری فنڈ‘ میں کھانا کھلارہے ہیں، اس کے برخلاف لوگ مہنگائی کا جھوٹاڈھنڈورہ پیٹ رہے ہیں۔
حکمراں جماعت نے مہنگائی پربیان صفائی دیتے ہوئے جو رویہ اختیار کیا ہے، وہ افسوس ناک حد تک بے حسی اورعوام کے کرب و مصائب کا مذاق بناناہے۔حقیقت تو یہ ہے کہ آج ملک میں مہنگائی ناسور کی شکل اختیار کرگئی ہے اور ہر آنے والا دن اس کے دائرۂ اثر کو بڑھاتاجارہاہے ۔گزشتہ 30، 40برس میں ملک نے کبھی ایسی مہنگائی کا تجربہ نہیں کیا تھا ۔آج 14مہینوں سے مہنگائی دوہرے ہندسے پر کھڑی ہے اور فراط زر کا یہ عالم ہے کہ ڈالر کے مقابلے میں روپیہ اپنی کشش ہی کھوچکا ہے۔ اعداد و شمار ہر تین ماہ بعد اتار چڑھائوکا شکار ہورہے ہیں۔ رسوئی گیس1100روپے، خوردنی تیل250روپے لیٹر، دودھ70روپے لیٹر اور آلو پیازکی قیمت40اور50روپے فی کلو گرام ہوگئی ۔ غریبوں کے چولہے ٹھنڈے اور پیٹ میں بھوک کی آگ دہک رہی ہے لیکن حکومت کیلئے یہ ساری چیزیں بے معنی ہیں۔یہ تو حزب اختلاف کا سیاسی واویلا محض ہے،ملک میں مہنگائی ہے ہی نہیں ۔ان حالات پر ضرب المثل کی حیثیت رکھنے والا یہ مصرع :چہ دلاور است دز دے کہ بہ کف چراغ داردیعنی کیا دلیر چور ہے کہ ہاتھ میں چراغ لیے پھرتا ہے‘ صادق آرہاہے۔
[email protected]

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS